مسرت جہاں
مدیرہ "مشیر عصر”(سہ ماہی رسالہ)
جامعہ نگر ،نئی دہلی
وقار مادر ہندوستان تھے گاندھی جی
وہ ایکتا کے پجاری ہر ایک کے بھائی
وہ فخر قوم وہ انسانیت کے شیدائی
زمیں پہ رہ کے بھی اک آسماں تھے گاندھی جی
یہ سچ ہے کہ آج بھی انسانی تاریخ کے اوراق عظیم انسانوں کے گراں قدر خدمات سے منور ہیں۔یہ وہ لوگ تھے جنھوں نے انسانی زندگی کی بقاء اور ترقی کیلئے اپنی حیات کو قربان کر دیا۔ان تاریخ ساز شخصیات میں سے ایک نام ایسا ہے جسے کبھی بھی کسی صورت میں فراموش نہیں کیا جا سکتاہے”موہن داس کرم چند گاندھی”۔جنھیں رہتی دنیا تک یاد کیا جاتا رہیگا ۔گاندھی جی کو آج کون نہیں جانتا ،دنیا کے کونے کونے میں اعلی سے ادنی چھوٹا بڑا اور بچہ بچہ آج گاندھی جی کی شخصیت سے بخوبی واقف ہے۔انکی ہمہ جہت شخصیت اور گراں قدر کارناموں نے انھیں "بابائے قوم "اور "مہاتما گاندھی” کے نام سے مقبولیت کا تاج پہنایا۔
اکتوبر وہ مہینہ ہے جسمیں تحریک آزادی کے علمبردار گاندھی کی پیدائش ہوئ۔2 اکتوبر 1869ء میں گجرات کے پوربندر ( کاٹھیاواڑ) میں گاندھی جی کی ولادت ہوئ۔گاندھی جی کا پورا نام موہن داس کرم چند گاندھی تھا۔1883 ء میں موہن داس کی شادی کستوربا گاندھی سے کر دی گئ اور ان سے انھیں چار اولادیں ہوئیں۔ہری لال گاندھی ،منی لال گاندھی ،رام داس گاندھی اور دیوداس گاندھی۔
عام آدمی کے ذہن میں مہاتما گاندھی کی شخصیت کا پہلا تاثر ایک بے سروساماں درویش کا ہے جنھوں نے اپنے نظریہ عدم تشدد کی بنیاد پر جنگ آزادی کا صور پھونکا اور اس ملک میں قدم جما چکے فرنگیوں کو ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کر دیا ۔گاندھی جی کی شخصیت کے اس انقلابی پہلو سے قطع نظر ہم ان کے خیالات و افکار کا اگر جائزہ لیں تو انکے یہاں ہمیں ایک جامع اور مربوط نظام زندگی کے شواہد ملتے ہیں ۔مہاتما گاندھی ایک قابل رہنما ،بہترین انسان اور مفکر بھی تھے ۔انھوں نے دنیا کے سامنے ایک ایسا طرز زندگی اور مسائل حیات سے بزدآزما ہونے کیلئے ایسا موثر طریقہ کار تجویز کیا جسکی افادیت دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے ۔انھوں نے ستیہ گرہ ،ظلم کے خلاف عوامی سطح پر منظم سول نافرمانی ہے جو عدم تشدد پر مبنی ہے ۔یہ طریقہءکار ہندوستان کی آزادی کی وجہ بنا اور ساری دنیا کیلئے حقوق انسانی اور آزادی کی تحریکوں کیلئے روح رواں ثابت ہوا۔
1887ء میں انٹر کا امتحان پاس کیا اور ممبئ جانے کے بجائےقریب ہی کے گاوءں بھاوء نگر کے کالج میں داخلہ لیااسکے بعد بیرسٹری کے لئے ولایت چلے گئے۔بیرسٹری پاس کرنے کے بعد انھوں نے ممبئ اور راجکوٹ میں وکالت کی پھر دادا عبدللہ کمپنی کے ایک بہت بڑے مقدمے کے سلسلے میں ڈربن جانا پڑا ۔یہیں سے گاندھی جی کی چھپی صلاحیتوں کا ظاہر ہونا شروع ہوا۔ افریقہ کا ماحول کچھ اسطرح کا تھا کہ انگریز کالو ں اور ہندوستانیوں پر ظلم ڈھاتے تھے ۔گاندھی جی نے جب دکنی افریقہ میں ہندوستانیوں کی بری درگت بنتے دیکھی تو انھوں نے ہندو مسلمان ،سکھ عیسائ اور پارسی اقوام کو ایک کیااور افریقہ میں کانگریس کی بنیاد ڈالی۔1915 ء میں ہندوستان واپسی کے بعد انھوں نے کسانوں اور شہری مزدوروں کیساتھ زمین کے بے تحاشہ تعصب کے خلاف احتجاج کیا۔کانگریس کی قیادت سنبھالنے کے بعد گاندھی جی نے ملک سے غربت کم کرنے ،خواتین کے حقوق کو بڑھانے ،مذہبی اور نسلی خیر سگالی ،چھوا چھوت کے خاتمہ اور معاشی خودانحصاری کا درس بڑھانے مہم کی قیادت کی۔گاندھی جی نے مشہور عدم تعاون تحریک کی قیادت کی جو 1930 ء میں مارچ سے برطانوی حکومت کیطرف سے عائد نمک چنگی کی مخالفت میں 400کیلو میٹر لمبی دانڈی یاترا شروع ہوئ اسکے بعد 1942ء میں انھوں نے بھارت چھوڑو سول نافرمانی تحریک کا آغاز فوری طور پر آزادی کے مطالبہ کیے ساتھ کیا ۔
گاندھی جی نے دونوں جگہوں افریقہ اور ہندوستان میں کئ سال جیل میں گزارے۔عدم تشدد کے پیشوا کے طور پر گاندھی جی نے سچ بولنے کی قسم کھائ تھی اور دوسروں سے ایسا ہی کرنے کی وکالت کی ۔وہ سادہ زندگی بسر کرتے تھے ۔وہ سابر متی آشرم میں رہتے تھے اور کپڑے کے طور پر روایتی ،ہندوستانی دھوتی اور شال کا استعمال کرتے جو وہ خود سے چرخے پر بنتے تھے۔وہ سادہ اور سبز غذا کھاتے تھے اور روحانی پاکیزگی اور سماجی احتجاج کیلئے اپواس (برت)رکھتے تھے۔
مہاتما گاندھی نے چھوت چھات کو ختم کرنے کی بہت کوشش کی ۔وہ چھوت چھات کو برا سمجھتے تھے۔مہاتما گاندھی کہتے تھے کہ سب دھرم سچے ہیں اور سب دھرموں کی کتابیں بھگوان کی بھیجی ہوئ ہیں اور سب سچائ کا راستہ بتاتی ہیں۔یہ سب میرے مذہب ہیں۔ملک میں کچھ لوگ اپنے بھی تھے اور کچھ دشمن بھی انہیں گاندھی جی کا ہندو مسلم ایکتا کا کام پسند نہیں آتا تھا۔وہ یہ سمجھتے تھے کہ گاندھی جی کے جیتے جی ان لوگوں کی بات کوئ نہیں سنے گا ۔اسلئے وہ لوگ گاندھی جی کی جان کےدشمن بن گئے۔
آخر کار ایک دن موقع ملتے ہی ایک نیک صفت رہنما، تحریک آزادی کے علمبردار پر ناتھو رام گوڈسے نے 30؍ جنوری 1948 کو ان پر گولیاں چلا دیں۔۔۔اور وہ چراغ بجھ گیا جو سارے ملک کواپنی روشنی سے منور کر رہا تھا اور جاتے جاتے ہمیں یہ سبق دے گیا کہ ہم صرف ہندو ،مسلم ، سکھ ، عیسائ نہیں ہیں بلکہ ہم ایک ہندوستانی بھی ہیں ۔ہمیں چاہیے کہ ہم مہاتما گاندھی کے زدیں اصولوں کو نہ بھولیں اور ملک کی ترقی میں اپنا رول نبھاتے رہیں۔
ہندو چلا گیا نہ مسلماں چلا گیا
انساں کی جستجو میں وہ انساں چلا گیا
