ہمایوں اقبال ندوی ارریہ
گاندھی جینتی کیا ہے؟ اس سوال کا جواب بچہ بچہ جانتا ہے کہ یہ گاندھی جی کی تاریخ یوم ولادت پر منایا جاتا ہے۔ اج سے تقریبا 155 سال پہلے گجرات کے کاٹھی واڑ کے قصبہ پور بندر میں 2/اکتوبر 1869ء کے دن ایک بچہ کی پیدائش ہوئی جس کا نام موہن داس کرم چند گاندھی رکھا گیا۔ اپنا ملک اس وقت انگریزوں کا غلام تھا، آزادی کی لڑائی جاری تھی، مگر کامیابی نہیں مل پا رہی تھی، گاندھی جی نے اپنی قابلیت و صلاحیت سے اس جنگ آزادی کو نئی سمت دینے کاکام کیا ہے،اپنی ہر تحریک میں عدم تشدد اور اہنسا کا فارمولا اپنایا ،اوریہ بہت ہی کامیاب و بامراد ثابت ہوا۔ سب سے پہلے کمزور اور مظلوم کی آواز بن کر سامنے آئے اور ان کے حق و حقوق کے لئے تحریک شروع کی، 1915ء میں کسانوں اور مزدوروں کے لئے انگریزی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔ 1921ء میں انڈین نیشنل گانگریس کی قیادت سنبھالی، اور 1942ء میں انگریزو بھارت چھوڑو تحریک کا آغاز کیا اور پھر یہ ملک آزاد ہوا، انہیں قربانیوں کے صلہ میں لوگ گاندھی جی کو پیار سے باپو کہتے ہیں اور راشٹریہ پتا کا سمان دیتے ہیں۔ جب بھی 2/اکتوبر کی تاریخ واپس آتی ہے تو ان کا گن گان کرتے ہیں، اپنے ملک میں اس دن قومی تعطیل بھی رہتی ہے۔ سبھی گاندھی جی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
2/اکتوبر کی تاریخ کو گاندھی جی کی یاد میں یوم عدم تشدد کے طور پر بھی منایا جاتا ہے، یہ دراصل گاندھی جی کا نظریہ ہے اور ان کی تمام تحریکات کا خلاصہ ہے۔ اہنسا اور عدم تشدد کو انہوں اپنی پوری زندگی میں اپنایا ہے۔ انگریزی حکومت سے اسی ہتھیار کے ذریعہ انہوں نے لوہا لیا ہے،گاندھی جی کا ماننا تھا کہ ہم ایک طاقتور حکومت کو طاقت کے ذریعہ نہیں بلکہ عوامی تحریک کے ذریعہ ڈرا سکتے ہیں اور شکست سے دوچار کرسکتے ہیں، ستیہ گرہ اور جیل بھرو تحریکیں اسی لئے شروع کی گئیں، مجبورا انگریزی حکومت کو ان عوامی انقلابات سے عاجز ہونا پڑا اور ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اسی طرز خاص کو لوگ گاندھی وادی فکر سے تعبیر کرتے ہیں۔
آج گاندھی جی کے یوم ولادت کو ایک عام جینتی کے طور پر نہیں بلکہ یوم عدم تشدد کے طور پر منانے اور ان کی فکر کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔ افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اس طرف توجہ بہت ہی کم لوگوں کی مبذول ہوتی ہے۔ جبکہ اس میں سب کی بھلائی اور ملک کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔
موجودہ حالات میں جبکہ تشدد اور ہنسا کو ہتھیار بنایا جارہا ہے، اس کے مقابلہ کی طاقت صرف اور صرف عدم تشدد اور اہنسا میں رکھی گئی ہے۔ ایک جمہوری ملک میں جمہوری حقوق کے لئے تو واحد راستہ یہی ہوتا ہے۔ہم اگر وقتی طور یہ کہیں کہ عوامی تحریک سے کچھ نہیں ہوتا ہے تو گاندھی جی کی زندگی ہمارے لئے ایک آئیڈیل ہے۔ انہوں ایک غیر ملکی و غیر جمہوری حکومت میں یہ سب کچھ کر دکھایا ہے تو آج یہ کیوں نہیں ممکن ہے؟
آج ملک کو ان جیسی تحریکات کی ضرورت پھر آن پڑی ہے۔ گاندھی جی نے جو کچھ کہا ہے اور عملی طور پر کر دکھایا ہے اس کی اس وقت خلاف ورزی کی جارہی ہے۔ مزے کی بات تو یہ بھی ہے کہ ایک آدمی جو خود کو گاندھی جی کا سچا بھگت کہتا ہے وہی ان کی فکر سے کوسوں دور ہے۔ گاندھی جی نے کہا کہ؛ "کپڑوں سے نہیں بلکہ ایک انسان کی پہچان اس کے کردار سے ہوتی ہے” مگر آج کپڑوں سے لوگوں کی پہچان کی جارہی ہے۔ گاندھی جی کہتے ہیں کہ؛ حقیقی خوشی وہی ہے جو آپ بھائی چارہ کے لئے سوچتے، کہتے ہیں اور کرتے ہیں”۔ اس وقت بھائی چارہ نہیں بلکہ بھائی کو چارہ سمجھ کر نگلنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ گاندھی جی نے کہا ہے کہ؛ نام کا جھگڑا مجھے بالکل پسند نہیں ہے، نام کچھ بھی ہو لیکن کام ایسا ہو کہ جس سے سارے ملک کا، دیش کا بھلا ہو”۔
آج نام بدلنے کی ہوڑ لگی ہے اور اس کی خوب تشہیر کی جاتی ہے، کام سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ گاندھی جی کہتے ہیں کہ؛ "سنسکرت کے لباس میں ہندی اور فارسی کے لباس میں اردو کی جیت نہیں ہونے والی ہے۔ جیت تو ہندوستانی کی ہی ہو سکتی ہے۔ جب ہم اندرونی حسد کو بھول جائیں گے تبھی اس بناوٹی جھگڑے کو بھول پائیں گے” (بحوالہ ہری جن سیوک 25 جنوری 1948)
آج زبان کے نام پر جھگڑا عام بات ہے۔ جبکہ صحیح یہی ہے کہ بغیر اردو کے ہندی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ہے، اور بغیر ہندی کے اردو کا خیال بھی پیدا نہیں ہو سکتا ہے، ہندی بولنے والا اردو بھی ساتھ ساتھ بولتا ہے، اور اردو بولنے والا ہندی بھی ساتھ ساتھ بولتا ہے۔ بلکہ اردو زبان کا نام ہی ہندوستانی ہے جس کی طرف گاندھی جی نے اشارہ کیا ہے۔
گاندھی جی کو مذہب کے نام پر جھگڑا پسند نہیں تھا، وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے تھے کہ یہ انگریزوں کی لگائی ہوئی نفرت کی کھیتی ہے، اس سے ملک کمزور ہوتا ہے، وہ کہتے ہیں کہ؛ "ہر مذہب میں کچھ لوگ پیدا ہو جاتے ہیں جو انہی باتوں میں بال کی کھال نکالنے لگتے ہیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر بیجا زور دیتے ہیں، ان کا مذہب کٹر اور بے جان بننے لگتا ہے، ضرورت کے مطابق اپنے رسم و رواج کو بھی بدل نہیں سکتا، وہ نکمی اور غیر ضروری چیزوں میں چپک جاتا ہے، ضروری اور کام کی چیزوں کو بھول جاتا ہے، یہاں تک کہ جو راستہ نیکی اور بھلائی کا تھا وہی برائی اور بربادی کا راستہ بن جاتا ہے: ( ہری جن سیوک 18 جنوری 1948)
آج گاندھی جی کی یوم ولادت کے موقع پر ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ان کے پیغامات کو بھارت کے ہر ایک ناگرک تک پہونچائیں، اور یہ کہیں کے اپنا ملک وشو گرو اسی صورت میں بن سکتا ہے، یہ پیار و محبت کی دھرتی ہے، اپنے دامن میں انہیں کو جگہ دیتی ہے جو امن و آشتی کی بات کرتے ہیں۔ نفرت کے لئے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے۔ آج گاندھی جی کو ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سبھی دھرم کے ماننے والے یاد کرتے ہیں، مگر ان کے قاتل کا جس نے 30/جنوری 1948ء میں گاندھی جی کو نفرت کی بنیاد پر قتل کردیا تھا اس کا نام لینا بھی کسی کو گوارا نہیں ہے۔
