محمد فرمان ندوی

ستمبر ۲۰۲۴؁ء کے آغاز میں عالمی مسیحی رہنما پوپ فرانسیس جنوبی مشرقی ایشیا کے چار ملکوں کے دورے پر گئے ، جن میں انڈونیشیا ، پاپو انیوگنی ، مشرقی تیمور ، سنگار پور شامل تھے ، دورے کی ابتداء انڈونیشیا سے ہوئی ، اور انڈونیشیا میں تین دن ان کا قیام رہا ، اس درمیان انہوں نے مختلف مذاہب کے لوگوں سے ملاقات کی ، اور کئی پروگرام منعقد ہوئے، ایک پروگرام جکارتہ کے مرکزی اسٹیڈیم میں ہوا ، جس میں ایک لاکھ لوگوں نے شرکت کی ، جب کہ ساٹھ ہزار افراد کے جمع ہونے کی امید کی جارہی تھی ، اس دورے میں پوپ فرانسیس مسجد استقلال کے امام ڈاکٹر کے ایچ نصر الدین عمر سے ملے ، اور ان سے ان کی یہ ملاقات خیر سگالی رہی ، اسی مسجد میں پوپ کی صدارت میں ایک بین المذاہب ہم آہنگی کانفرنس منعقد ہوئی ، جس میں تمام مذاہب کے نمائندوں نے شرکت کی ،مسلمان ، بدہسٹ،کنفیوشس، ہندو، اور کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کی طرف منسوب افرادنے اس موقع پر اظہار خیال بھی کیا ۔
پوپ فرانسیس نے اپنے خطاب میں کہا : ہم کیتھولک سے منسوب افراد بین المذاہب ہم آہنگی کے قائل ہیں ، کیونکہ اس سے تشدد، بدامنی اور سخت آمیزی کو ختم کر نے میں مدد ملتی ہے ، اور ایک صالح ، تعمیری اور اچھے اقدار کا حامل، انسانیت نواز معاشرہ وجود میں آتا ہے اور باہمی اعتماد کی فضا قائم ہو تی ہے ، آئندہ بھی انہیں اصولوں کے ذریعہ چیلینجز کا مقابلہ کرنا آسان ہوگا ، اور معاشرہ کو درپیش مسائل ختم ہوںگے ، اور اگر ان کو نظر انداز کیا جائے گا تو ہر مذہب کے ماننے والوں کا مذہب بدنام ہوگا ، اور وہ خود دنیا والوں کی نگاہ میں گر جائیں گے ، پوپ فرانسیس نے تمام انڈونیشیا کے باشندوں کو اللہ رب العزت تک پہونچنے کی دعوت دی ، اور ایک نئے معاشرہ کی تعمیر میں حصہ لینے کی صدا لگائی ، پوپ کے خطاب کے بعدامام مسجد استقلا ل ڈاکٹر نصر الدین عمر نے کہا : میں اس موقع پر دو پیغام دینا چاہتا ہوں ، ایک یہ کہ پوری انسانیت ایک خاندان ہے ، اور کنبہ ہے ،اس لئے ہر ایک کو دوسرے کی فکر ہونی چاہئے، دوسرا پیغام یہ ہے کہ ہمیں مل جل کر اپنے معاشرے کو ہر قسم کی خرابیوں سے بچانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ خبروں کے مطابق وہیل چیئر پر بیٹھے ۸۷؍سالہ پوپ نے امام مسجدکا ہاتھ پکڑ کر بوسہ لینا اور امام مسجد نے بھی ان کے سر کا بوسہ لیا۔یہ خطابات میڈیا میں استقلال اعلامیہ کے نام سے شائع ہوئے ۔
انڈونیشیا جنوبی مشرقی ایشیا کا ایک آزاد کثیر آبادی والا ملک ہے ، یہ دنیاکے سب سے زیادہ جزیروں کا ملک ہے ، اس میں ۱۷؍ ہزار پانچ سو جزیرے ہیں ، جاوا ، سماترا ، بورنیو اور سلویسی اور ارین جایا اس کے اہم جزیرے ہیں ، اس کے پڑوس میں ملیشیا ، اور پاپوا نیوگنی ہے ، یہ علاقہ قدرتی وسائل اور زرخیز زمینوں سے مالامال ہے ، انڈونیشیا میں سب سے پہلے سماترا میں ۱۲۰۵؁ء میں سلطان الملک الصالح سمدر پسائے نے اسلام قبول کیا ، اس کے بعدیہ سلسلہ دیگر جزیروں میں قائم ہوا ، یہاں عرب اور ہندوستانی تجار آتے رہے ، جن سے متأثر ہو کر یہاں کے حکمرانوںنے اسلام قبول کیا ، اور وہ اسلام کے داعی قرار پائے ، یہاں نہ کسی فوج نے حملہ کیا ، اور نہ کسی نے یورش کی ، بلکہ اخلاق کے ذریعہ اسلام کی دعوت کو عام کیا گیا ، نوے فیصد یہاں مسلمانوں کی آبادی ہے ، بقیہ مذاہب کے لوگوں کا تناسب بہت کم ہے ( ایشیاء و افریقہ کے آزاد ممالک : ص۶۵) ۔
اس کثیر مسلم آبادی والے ملک میں پوپ فرانسیس سے پہلے کئی پوپ آچکے ہیں ، تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ۱۹۷۰؁ء میں سب سے پہلے پوپ کا دورہ ہوا تھا ، اس کے بعد ۱۹۸۹؁ء میں دوسرے پوپ کا دورہ ہوا تھا ، اور اب ستمبر ۲۰۲۴ء؁ میں پوپ فرانسیس کا دورہ ہوا ، انڈونیشا میں مسلمان بشمول تمام مذاہب کے ماننے والے محبت و یگانگت کے ساتھ رہتے ہیں ، ان کے درمیان کو ئی بھید بھاؤ اور دوری ومہجوری نہیں ، ان کے آپسی تعلقات بہت اچھے ہیں ، مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کا تو یہاںکوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا ، اورہر یونٹ اپنے افراد کے ساتھ اچھے انداز میں زندگی گذار رہی ہے ،توقع ہے کہ ایسے ماحول میں پوپ فرانسیس کے دورے سے تمام مذاہب کے ماننے والوں میں مزید اعتماد کی فضا قائم ہو گی اور لوگ ایک دوسرے کو سمجھ کر باہمی روابط و تعلقات کو مضبوط کریں گے ،اور آئندہ کے تعلق سے حکمت علمی مرتب کریں گے ، اس طرح ملک کو استحکام اور پائیداری حاصل ہوگی ، اور اس کے باشندے مزید خوشحال زندگی گذارسکیں گے ۔
لیکن اسی کے ساتھ یہ پہلو بھی قابل لحاظ ہے کہ انڈونیشاجیسے ممالک کے لئے مذہبی شخصیات کے دورے تو مفید اور نافع ہیں ہی ، کیونکہ مذہبی شخصیات معاشرہ انسانی میں بڑا کردار ادا کرتی ہیں ، ان کے پیچھے ایک جماعت ہی نہیں، بلکہ پورا معاشرہ ہوتا ہے ،جو ان کی باتوں پر لبیک کہتاہے ، اور ان کی آواز گوش دل سے سنی جاتی ہے ، مذہبی شخصیات جوڑنے کا کام کرتی ہیں ، توڑنے کا نہیں ، وہ تعصب اور نفرت کی بنیاد پر تفریق نہیں پیدا کرتی ، بلکہ بٹے ہوئے لوگوں میں باہمی ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کرتی ہیں ،وہ تشدد کی حامی نہیں ہوا کرتیں ، بلکہ امن کا پیامبر اور سلامتی کا سفیر ہوا کرتی ہیں ،مذہبی شخصیات کو ہر شخص سروں کا تاج بناتا ہے ، اور ان کے لئے اپنے جذبات و احساسات کو فرش راہ کرتا ہے ،کیونکہ ان کا صبح و شام یہ نعرہ اور شعار ہوتا ہے : تو برائے وصل کردن آمدی نے برائے فصل کردن آمدی ( تم جوڑنے کے لئے آئے ہو ، توڑنے کے لئے نہیں )یہی وجہ ہے کہ ایک شخص نے ایک بزرگ کو ہدیہ میں قینچی پیش کی تو انہوں نے برجستہ کہا کہ ہمیں قینچی کی ضرورت نہیں ، جس سے کاٹنے کاکام لیا جاتا ہے ، بلکہ ہمیں سوئی کی ضرورت ہے ، جس سے جوڑنے کا کام لیا جا تا ہے ، تو مذہبی شخصیات کا بنیادی کام ر بط و تعلق کو قائم کرنا ، بلکہ ان کو مستحکم کرنا ہوتا ہے ۔
اس تناظر میں اگر پوپ فرانسیس کا یہی دورہ یورپین اور امریکی ممالک کا ہوتا ہے اور ان ممالک کا ہوتا ، جہاں حقوق انسانی کو پامال کیا جاتا ہے ،اوروہاں انسانیت کا قتل ہوتا ہے ، بچوں کو ماراجاتا ہے ، گھروں کو مسمار کیا جاتا ہے،بے گناہوںکو موت کے گھاٹ اتار دیتے ہیں ، تو اور معنی خیز اور سبق آموز ہوتا ، وہ وہاں خدا کی تلاش کی باتیں کرتے ، اور باہمی احترام ومحبت پر زور دیتے ، تنگ نظری ، بنیاد پرستی اور انتہاء پسندی ، بلکہ قتل و غارت گری سے دور رہنے کا مشورہ دیتے تو انسانیت کے دشمنوں کے لئے سامان عبرت و نصیحت ہوتا ، کیونکہ وہاں جو انسانیت کا قتل عام ہو رہا ہے ، حیوانیت کا ننگا ناچ ہے ، مزید برآں کہ اس کا احساس بھی نہیں ، یہ بے ضمیری اور بے غیرتی کی انتہا ہے ، جس کا ہر سطح پر مظاہرہ ہے۔
اس وقت عالمی طور پر اسرائیل کے ذریعہ غزہ اور لبنان کی سرزمین پر جو قیامت صغری برپا ہے ، اور اس کے ذریعہ اکتالیس ہزار سے زیادہ بے گناہ شہید کئے جا چکے ہیں ، اور لاکھوں زخموں سے چور ہیں ، اور علاقے کے علاقے کھنڈر میں تبدیل ہو چکے ہیں ، اور یہ عمل ایک دو مہینے سے نہیں ، پورے ایک سال سے جاری ہے ، اور اسرائیل امریکہ کی شہہ پر پوری بے حیائی ، اور ڈھٹائی سے ایسی مجرمانہ حرکتوں کا مرتکب ہورہا ہے ، حماس کی اعلی قیادت میں شیخ اسماعیل ہانیہ کو دھوکہ سے شہید کیا گیا ہے ، اور اب یہ سلسلہ لبنان کے حدود میں داخل ہو کر جنگی تباہیوںکا پیش خیمہ ہورہا ہے، ایسے حالات میں پوپ فرانسیس کا ایک دورہ اسرائیل کا ہوتا ، اور وہاں جا کر اس کو انسانیت کا درس دیتے ، اور جنگ کی تباہیوں کی طرف اشارہ کرتے اور یہ بتاتے کہ جنگ کبھی کسی مسئلہ کا حل نہیں رہی ہے ، وہ خود ایک مسئلہ ہے ، کیونکہ جو قومیں جنگ میں الجھ کر رہتی ہیں ، وہ کبھی ترقی کے سنہرے خواب نہیں دیکھ سکتیں ، یا کم سے کم امریکہ جو اسرائیل کا پشت پناہ اور حلیف ہے اس کو خط لکھتے ، جو بایڈن سے ملاقات کرتے تو اپنے مذہبی شخصیت ہونے کا حق اد اکرتے ،اور ان کے منصب کی جو ذمہ داریاں ہیں ، وہ بھی پوری ہوتیں ،یا اس سے بھی فروتر یہ کہ عالمی مذہبی رہنماؤں کی ایک کانفرنس بلاتے ، جس میں دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والے شریک ہوتے اور ایک اجتماعی منشور پاس کر کے دنیا کے تخریب کار ممالک کو ایک وارننگ دیتے ۔ لیکن اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔ اس طرح کے مثبت اور تعمیری ، بلکہ انقلابی دورے کے بجائے انہوں نے پر امن ملک انڈونیشیا کا دورہ کیا ، اور روایتی انداز میں خیر سگالی ملاقات کر کے واپس چلے آئے،اس سے جہاں ایک طرف ان کے دورے کی عدم نافعیت کا پتہ چلا ، اور یہ کہ یہ دورہ برائے دورہ تھا ، کوئی تعمیری مقصد نہیں رکھتا تھا ، دوسرے یہ کہ ان کا عالمی وقار مجروح ہوا ،اور ان کاا عتباربھی متأثر ہوا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ مذہبی رہنما بھی مصلحت کوشی میں گرفتار ہوگئے ، اور سیاست کے رنگ میں رنگ ہوئے ہیں۔علامہ اقبال نے صحیح کہاتھا : فقیہ مصلحت بیںسے وہ رند بادہ خوار اچھا ۔
مذاہب کے افراد کے درمیان باہمی بات چیت اور گفت شنیدوقت کی ضرورت ہے ، کیونکہ انسانی زندگی میں اختلاف فطرت ہے ، اور قانون الہی کے تابع ہے ، اس لئے آئے دن انسانی معاشرے میں کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا ہوتا رہتا ہے ،اور اس کا حل باہمی گفت وشنید ہی سے ممکن ہے ، لیکن شرط ہے کہ فریقین اتحاد پر راضی اور مصالحت کے لئے متفق ہوں ، اسلام نے مصالحت ،باہمی رواداری پر بڑا زور دیا ہے ، اور اس کی بنیادیں بھی طے کردی ہیں ، سورہ ٔ آل عمران کی ایک آیت میں ہے ، جس میں اہل کتاب کو خطاب کر تے ہوئے بتایا گیا ہے کہ تو حید اور عدم شرک اتحاد و باہمی آہنگی کی دو بنیادیں ہیں ، ان کے ذریعہ جانوں کی حفاظت ہوگی اور مالوں کی بھی ،عزت و آبرو کی بھی اور سرمایہ اور جائداد کی بھی ۔
ابھی ستمبر کے مہینہ میں اقوام متحدہ کاسالانہ اجلاس ہوا ، جس میں ملک کے سربراہان شریک ہوئے ، اور سب نے متحد ہو کر اور یک آواز ہو کر مسئلہ فلسطین کو اٹھایا ، اور اسرائیلی جارحیت کا کھل کر پردہ فاش کیا ، ترکی صدر نے اقوام متحدہ کے اجلاس ( جنرل اسمبلی )میں کھل کر کہا کہ اقوام متحدہ اور انسانی اقدار غزہ میں مر چکی ہیں ، اور بنیامین نتین یاہوموجودہ دور کا ہٹلر ہے، جو انسانوں کا قتل عام کررہا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ نتین یاہو کی اقوام متحدہ آنے کی اجازت دینا ایک سیاہ دھبے کے مانند ہے ، یہ صرف ترکی صدر ہی کی آواز نہیں تھی ، بلکہ تمام انسانیت نواز سربراہوں کے دل کی پکار تھی ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ گفت و شنید وہیں مؤثر ہوتی ہے ، جہاں مسئلہ کا حل نکالنے کی طرف توجہ ہو ، اور انسانی و مالی خساروں کا احساس ہو ،جبکہ اقوام متحدہ کا قیام ۱۹۴۵؁ء میں جنگ عظیم دوم کے بعد اسی لئے ہوا تھا کہ دنیا کے کسی خطہ میں کوئی جانی یا مالی نقصان برداشت نہیں کیا جائے گا، اورہر ایک کی جان ، مال ، عزت ، آبرو کا تحفظ کیا جائے گا ، اس کا ایک عالمی منشور (چارٹر) بھی شائع ہوا ہے ، جس میں متعدد دفعات انسانیت کے تحفظ سے متعلق ہیں، مزید برآںہر سال دس دسمبر کو عالمی حقوق انسانی ڈے منایا جاتا ہے ، وہیں ایک سلامتی کونسل کا ادارہ ہے ، جو بین الأقوامی سلامتی و تحفظ فراہم کرنے کا دعویدار ہے ، لیکن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پوری قوت و اعتماد کے ساتھ سربراہان ممالک کے خطابات کے باوجود اس ادارہ کے کانوں پر پرجوں تک نہ رینگنا آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مرادف ہے ۔
خلاصہ کلام یہ کہ استقلا ل اعلامیہ کا تقاضایہ ہے کہ مظلوموں اور پریشان حال لوگوں کی فکر کی جائے ، ان کو انصاف دیاجائے اور ان کے لئے ایسا ماحول فراہم کیا جائے ، جس میں وہ ٹھنڈی سانس لے سکیں ، خاص طور سے مذہبی طبقہ کا معاشرہ میں جو اثر ہے اس کو اس کے لئے آگے آنا چاہئے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے