مشکل کوئی آن پڑے تو گھبرانے سے کیا ہوگا
جینے کی ترکیب نکالو مر جانے سے کیا ہوگا
سہارنپور (احمد رضا): گزشتہ شب نگر نگم سہارن پور کے زیر اہتمام یہاں ثقافتی پروگرام کے سلسلے کی شکل میں ایک خوبصورت محفل مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ مشاعرہ میں خاصی بھیڑ متوقع تھی اس لئے پروگرام  کنوینرس کی گزارش کو نگر نگم نے قبول کیا اور پروگرام جن منچ کی بجائے اسلامیہ ڈگری کالج  کے وسیع ترین میدان پر ہوا جس میں مقامی اور بیرونی شعراء حضرات نے شرکت کی۔ پروگرام ٹھیک 10 بجے نوجوان شاعر خرم سلطان کے کلام کے ساتھ شروع ہوا اور صبح 4:30 بجے شکیل اعظمی کے کلام کے ساتھ نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔
پروگرام میں شہر سہارنپور کے معزز شعراء کو شال اور مومنٹو اعزاز کے طور پر پیش کرٹے ہوئے مقامی شعراء حضرات کا اقبال بلند کیا گیا جس میں اکمل امام کو وقارِ ادب، ہارون صابر فریدی کو معمارِ ادب، دانش کمال کو خادمِ ادب کے اعزاز و لقب سے سرفراز کیا گیا۔ ساتھ ہی فیّاض ندیم کو شعری مجموعے بنیاد کی اشاعت پر اعزاز دیا گیا۔ طاہر امیںن جو کہ ایک کہنہ مشق شاعر ہیں، کو تنویرِ ادب کا ایوارڈ دیا گیا۔
ڈاکٹر قدسیہ انجم کو دبستانِ سہارنپور کی اشاعت پر مبارکباد پیش کی گئی اور ایواڈ بھی دیا گیا۔۔۔
خرم سلطان نے اکمل امام، ہارون صابر فریدی، دانش کمال، فیّاض ندیم، ڈاکٹر قدسیہ انجم اور طاہر امین کی شخصیت اور ان تمام کے ادبی دنيا کے نمایاں کاموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ پروگرام کے کنوینر سعید صدیقی اور اظہار منصوری رہے جبکہ معاون کنوینر منصور بدر رہے۔ پروگرام کی نظامت التمش عباس (بمبئی) نے کی۔ پروگرام کو کامیاب بنانے کے لئے کاشف رضا کا تعاون ناقابلِ فراموش رہا۔
پروگرام کی صدارت عام آدمی پارٹی کے سینئر لیڈر یوگیش دھیا نے کی۔ مشاعرہ کا افتتاح منصور بدر اور نوازش خان ایڈیٹر نیوز پریکرما نے کیا۔ مشاعرے کی شمع انقلابی رہبر ملت قاضی شایان مسعود نے روشن کی۔ مشاعرے میں خرم سلطان، محمود اثر، امجد عظیم، ڈاکٹر نوشاد، طالب عرفانی، کاشف رضا، رحمان رضا، اقراء نور نے سہارنپور کی نمائندگی کی جبکہ شہزادہ گلریز، شکیل اعظمی، کلیم ثمر، جوہر کانپوری، ممتاز نسیم، شائستہ ثنا، اظہر اقبال، خورشید حیدر، ندیم شاد، جہاز دیوبندی، عبید نجیب آبادی، امجد آتش، اقبال اشہر، جاوید اشاعتی وغیرہ بیرونی شعراء کی موجودگی نے مشاعرے کو کامیاب کیا!
جن شعراء کو زیادہ پسند کیا گیا ان کا کلام قارئین کی نذر ہے ۔۔۔۔۔۔
ذرا سی عقل سلیقہ شعور کچھ بھی نہیں
قریب جا کے جو دیکھا حضور کچھ بھی نہیں
خرم سلطان
مشکل کوئی آن پڑے تو گھبرانے سے کیا ہوگا
جینے کی ترکیب نکالو مر جانے سے کیا ہوگا
ندیم شاد
بجائے سینے کے آنکھوں میں دل دھڑکتا ہے
یہ انتظار کے لمحے عجیب ہوتے ہیں
شہزادہ گلریز
مدتوں بعد میسر ہوا ماں کا آنچل
مدتوں بعد ہمیں نیند سہانی آئی
اقبال اشہر
یہ سوچ کے ہر کام خدا دیکھ رہا ہے
ہم نے تمام نیکیاں دریا میں ڈال دی
رحمان رضا
یہ مرے دوستوں کے خنجر ہیں
دشمنوں میں یہ حوصلہ کب تھا
التمش عبّاس
سبھی نے دیکھی ہے لڑکی بڑے گھرانے کی
 کی کسی نے چال چلن کی طرف نہیں دیکھا
امجد عظیم
یہ نہیں کہ اس جہاں میں کوئی پھر ملا نہیں ہے
تیرے بعد سچ تو یہ ہے کہیں دل لگا نہیں ہے
ندیم انور
بات انسان کے کردار کی ہوتی ہے میاں
ورنہ پیسا تو طوائف بھی لیتی ہے
محمود اثر
جب جواں ہوئی بیٹی اک غریب مفلس کی
بے ضمیر لوگوں نے اس سے فیض اٹھایا ہے
طالب عرفانی
 اپنوں کے التفات سے ڈرنے لگا ہوں میں
گہرے تعلقات سے ڈرنے لگا ہوں میں
ڈاکٹر نوشاد سہارنپوری
یہ مرے دوستوں کے خنجر ہیں
دشمنوں میں یہ حوصلہ کب تھا
التمش عبّاس
میری ہمت نے بے وفائی کی
ورنہ خواہش تھی لب کشائی کی
امجد آتش
 ارمان اس لئے بھی مرے سب اداس ہیں
یوں بھی اڑے ہوئے مرے ہوش و ہواس ہیں
جہاز دیوبندی
سفر سبھی کا ہے میدانِ حشر کی جانب
جہاں نتیجے سب اپنے عمل کے دیکھیں گے
کاشف رضا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے