تحریر:-محمد مصطفیٰ کعبی ازہریؔ فاضل الازھر یونیورسٹی مصر عربیہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پوری انسانیت کے لئے رحمت اور مسیحا ہیں ، آپ کی تعلیم اور کردار ایسا نمونہ پیش کرتا ہے جس سے دشمن بھی راحت محسوس کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ مہذب دنیا اور تہذیب یافتہ قوموں نے آپ کی تعریف اور تحسین بیان کی ہیں، ہاں! غیر مہذب، مغلوب ذہنیت والے اور حسد و تعصب کی عینک لگانے والے ہردور میں پیدا ہوتے رہے ہیں جسے اپنے کیفر کردار تک رسائی بھی ہمیشہ ہوتی رہی ہے ۔
اور اس روئے زمین پر رہنے والے تمام مسلمان اللہ وحدہ لاشریک کے بعد جس شخصیت سے محبت کرتے ہیں او جس کا مقام ومرتبہ اللہ تعالیٰ کے بعد اسلام میں ہیں وہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم ہےاور یہ بات بھی اظہر من الشمس ہے کہ مسلمان ہر چیز برداشت کرسکتے ہیں مگر شان رسالت میں، معمولی گستاخی بھی برداشت نہیں کرسکتے ہیں،جب کوئی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شان میں گستاخی کرتا ہے تو وہ پوری امت مسلمہ کو دل کی تکلیف ہوتی ہے اور آپ کو بھی معلوم ہونا چاہیے کہ دل کی تکلیف ہو تو اس کو بھلایا نہیں جاتا ہے اور حال ہی میں ”رام گیری مہاراج (مہاراشٹر)“ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تھی تو جناب امتیاز جلیل سابق ممبر آف پارلیمنٹ ہند نے مسلمانوں کی قیادت کرتے ہوئے ممبئی میں گستاخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ریلی نکالے ۔ ہندوستان میں مسلمان تاریخ رقم کرنے کے ساتھ لاکھوں مسلمان سڑکوں پر نکل آئے تھے اور ابھی ایک دو دن قبل ”یتی نرسمہنا نند سرسوتی(اتر پردیش)“ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی ہے، ان دونوں نے ایسے نہایت اشتعال انگیز اور توہین آمیز بیانات دیے ہیں جو نہ صرف بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرتے ہیں بلکہ ہندوستانی آئین کے اصولوں کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ معلوم ہونا چاہئے کہ جو بھی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں وہ کسی اور کے نطفہ سے پیداوار ہوتے ہیں یعنی ولد زانی اور حرامی ہوتے ہیں۔
اسی طرح چند ماہ قبل سابق جج’’ کمل نرائن داس نیپالی‘‘نے شان رسالت میں شدید گستاخی کرکے مسلمانوں کو سخت اذیت پہنچایا ہے اور نیپال میں موجود اب تک کی تمام حکومتیں آپسی رواداری اور بھائی چارے کو قائم رکھنے میں بہت سنجیدہ ہیں ۔
معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان اور نیپال ہمیشہ سے مذاہب کے مابین باہمی احترام اور ہم آہنگی کا گہوارہ رہا ہے۔ آئیے ہم مل کر ان اقدار کو برقرار رکھیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہمارا ملک امن اور یکجہتی کا علمبردار رہے،مگر برا ہو ان فتنہ پروروں کا جو اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو بچانے کے لئے ملک میں اشتعال انگیزی کو ہوا دینا اپنی کامیابی سمجھتے ہیں ، لہذا زیر نظر مضمون میں انہی بدبختوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
شیخ ابو ھلال عبدالمجید بھکراہوی اسلامک اسکار کاٹھمنڈو نیپال فرماتے ہیں کہ : رسول اللہ ﷺ پر ”گستاخانہ پوسٹ“ قابل برداشت نہیں کیونکہ ان دنوں ایک حواس باختہ سابق جج کا فتنہ سر چڑھ کر بول رہا ہے، یہ شخص ہمارے نبی ﷺ کی کردار کشی پر مشتمل کچھ پوسٹ متواتر ڈال رہا ہے جس سے مسلمانوں کے جذبات بری طرح مجروح ہوئے ہیں ۔ یہ جذباتی تعلق ہی تو دین و ایمان کی پہچان ہے ورنہ انسان مجرد اور انتہا پسند ہوجاتا ہے ۔ اس پر جب تک دینی ذمہ داری کا احساس اور اس کی حمیت نہ ہوگی پھر وہ کس ذریعہ سے دوسروں کو امن و امان کی دعوت دے گا ،تاریخ انسانی میں محمد رسول اللہ ﷺ کی جو مثالی چھوی اور مسلّمہ کردار ہے اپنے تو اپنے غیر بھی ان کی تائید ہی نہیں بلکہ ترجیح بھی دیتے ہیں ،جیساکہ مائیکل ہارٹ ایک یہودی نے سو کامیاب انسانوں کی تاریخ لکھ کر سرفہرست محمد ﷺ کا نام لکھا ہے۔
ایسی حرکت کرنے والے کے اندر اگر مذہبی عصبیت اور پراگندہ ذہن نہ ہو تو سب سے پہلے وہ اسلام کا مطالعہ کرے پھر اس پر اپنا ریمارک لکھے اور جن لوگوں نے بھی آج تک مخالفانہ ذہنیت سے مطالعہ کیا ہے اس کا ذہن صاف ہی ہوا ہے بلکہ وہ اسلام کی آغوش میں آگیا ہے۔
ہندوستان اور نیپال میں مسلمانوں کی اس وقت جو آزمائش روبرو ہوئی ہے اس کا واحد اور پہلا سبب اس کی بزدلی اور ذہنی محرومی ہے ،کیونکہ وہ اس نازک مسئلہ میں بھی آپسی اختلاف اور مسلکی تسامح کو ذہنوں پر سوار کرکے ہر قسم کی آواز اور تحریک کو کمزور کردیتے ہیں۔
یقینا مسلمانوں کی جماعتوں اور قیادتوں میں شعور و آگہی کا فقدان ہرگز نہیں ہے جہاں کسی کھائی میں گرنے کا خطرہ خوف پیدا کرتا بلکہ وہ ہر مسئلہ کو بہ حسن و خوبی حل کرنے کا مزاج اور حوصلہ خوب رکھتے ہیں پس ضرور ہے کہ مسلمانوں کا ہر طبقہ بیدار ہوکر اس فتنہ کے سدّباب میں حکومت سے مذاکرات کی راہ ہموار کرے!!۔
اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت پوری امت پہ اللہ پاک کا احسان عظیم ہے، خاتم النبیین کی محبت اور تکریم ہر مسلمان کے لئے سرمایہ حیات ہے اور اس کے بغیر کوئی مسلمان ایمان کا تصور بھی نہیں کر سکتا اس لئے کوئی بھی شخص ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ، زبان درازی کرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرنا ہماری اولین ذمہ داری ہے ہم مسلمان حتی الوسع اس کا دفاع کریں کیونکہ گستاخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قرآن اور صحیح احادیث میں بکثرت وعیدیں بیان ہوئی ہیں اور وہ مندرجہ ذیل ہیں:
❶ انبیاء کرام کی شان میں گستاخی کرنا کفار و مشرکین کی پرانی روش ہے ۔(سورہ الانعام : 10 و 33 و 34 و 112، سورہ الفرقان: 31، سورہ ھود: 38، سورہ یٰس: 30) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آواز بلند کرنے سے بھی اعمال کا ضائع ہوتا ہے۔ (سورہ الحجرات: 2) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دور سے آواز دے کر بلانا کم عقلی کی علامت ہے۔ (سورہ الحجرات : 4) مؤمن شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن سے کبھی محبت نہیں کرتا۔ (سورہ المجادلہ: 22) جو شخص آپس میں جھگڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاکم نہ مانے وہ مؤمن نہیں! (سورہ النساء: 65) جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کی مخالفت کرے گا اس کے لئے سخت عذاب ہے۔ (سورہ الانفال : 13) جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو توہین و تمسخر اور تکلیف دے تو دنیا اور آخرت میں اسے رسوا کن عذاب اور جہنم ہے ۔ (سورہ الاحزاب : 57 و 61 ، سورہ التوبہ: 61 و 63 و 64 و 65، سورہ المجادلہ : 5) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کی سزا قتل ہے۔ (إسنادہصحيح: رواہ أبو داود : 4363 ، والطبراني في المعجم الصغير : 659) ابولہب نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو رب العالمین نے پوری ایک سورت اس کی مذمت میں نازل فرمائی اور رب العالمین نے ارشاد فرمایا: ” ابولہب کے دونوں ہاتھ تباہ ہوں۔(سورہ تبت : 1 و 2)
ایک نابینا صحابی رسول نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والی ام ولد کو جو ہمیشہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتی ، نابینا صحابی رسول نے ایک چھری اٹھائی اور اسے اس کے پیٹ پر رکھ کر خوب زور سے دبا دیا ،وہ اس کے پیٹ میں گھس گئی یہاں تک کہ میں نے اسے مارہی ڈالا۔ (إسنادہ صحيح : رواہ أبو داود في سنن: 4361)
عتبہ جو ابولہب کا بیٹا تھا اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تو اللہ نے اس پر شیر کو مسلّط کردیا اور وہ شیر عتبہ کو چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ ( إسنادہ حسن : رواہ الحاکم في المستدرک : 3984 ، والبيہقي في الدلائل :622 ، وابن عساکر : 38 / 302 ، وتفسير ابن ثير سورۃالنجم ، وحسنہ الحافظ ابن حجر في فتح الباري : 4 /39 ، والعيني في عمدۃ القاري : 16 /51 ، والشوہ اني في نيل الأوطار :5 /80 ، والصنعاني في ’’سبل السلام‘‘ : 2 /195، ومحمد الأمين الشنقيطي في أضواء البيان : 2 / 165 ، وصححہ الإمام الحاکم ووافقہ الذہی)
کعب بن اشرف نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا ۔ (صحیح : رواہ البخاری : 4037) عکرمہ بن ابی جہل، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد ابی سرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں اور تمسخر کیا کرتے تھے تو ان لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا چاہے وہ غلاف کعبہ سے چمٹا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔ (إسنادہ صحيح : رواہ النسائي في سنہ: 4067) ابو رافع یہودی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو صحابہ کرام نے اس کو بھی قتل کر دیا ۔ (صحیح : رواہ البخاری : 4039 و 4040)
شاہ فارس کسریٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو اللہ تعالیٰ نے کسریٰ بدبخت کو اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں موت کے گھاٹ اتار دیا اور اس طرح سے اس کے اور اس کی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے – (صحیح : رواہ البخاری : 4424)
ولید بن مغیرہ، اسود بن عبد یغوث الزہری، قبیلہ اسد بن عبدالعزیٰ کا ابو زمعہ اسود بن مطلب، حارث بن عیطل السہمی اور عاص بن وائل یہ پانچ رؤساء تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتے تھے تو ان لوگوں کی موت بھی مختلف حادثات میں ہوئی ہے بعدہ ولید قبیلہ خزاعہ کے ایک آدمی کے پاس سے گزرا جو اپنے تیر میں پر لگا رہا تھا تو تیر اس کے پاؤں میں لگ گئی اور رگیں کٹ گئی ۔ اسود بن مطلب اندھا ہوگیا ۔ اسود بن عبد یغوث کے سر کے اندر زخم پیدا ہوگیا جس سے وہ ہلاک ہوگیا، حارث بن عیطل کے پیٹ میں زرد پانی جمع ہوگیا یہاں تک کہ اس کے منہ سے پاخانہ نکلنے لگا اور اسی وجہ سے اس کی موت واقع ہوئی ۔ اور عاص کے سر میں کانٹا چبھ گیا تو سر میں پیپ بھر گئی اور اسی وجہ سے وہ جہنم واصل ہوا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ طائف کی طرف اپنی سواری گدھے پر سوار ہو کر روانہ ہوا تو ایک جگہ اترتے وقت اس کے پاؤں میں کانٹا چبھ گیا اور اسی سے وہ جہنم رسید ہوا ۔ (صحیح : رواہ البيہقي في السنن الکبریٰ : 17731 ، والطبراني في المعجم الاوسط : 4986 ، وصحیح السیرۃ النبویۃ للألباني : 220 / 221) اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہم تمام مسلمانوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کو دفاع کرنے کی توفیق دے ۔ آمــــــــــــــــین
