ذاکر حسین
بانی: الفلاح فاؤنڈیشن (بلڈ ڈونیٹ گروپ)
نئی دہلی
گزشتہ دنوں اعظم گڑھ کی تحصیل نظام آباد کے ایک گاؤں کی غریب بستی کی ایک بچی کا ویڈیو شیئر ہوا تھا۔ ویڈیو میں بچی کی صحت کی قابلِ رحم حالت سبھی نے دیکھی۔ ویڈیو کے ساتھ تحریر کے ذریعہ بتایا گیا تھا کہ بچی کی ایسی حالت بھوک کی وجہ سے ہوئی ہے۔ بچی نے پندرہ دنوں سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ متاثرہ بچی کا تعلق اعظم گڑھ کے ایک گاؤں کے نہایت غریب فیملی سے ہے۔ اس دردناک ویڈیو کو سیکڑوں لوگوں نے دیکھا۔ لیکن ان میں چند نے ہی اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کی۔ آخر کار ویڈیو شئیر کرنے والے نے خود لے جاکر کھریواں موڑ واقع ہاسپٹل ڈاکٹر آصف صاحب کے یہاں ایڈمٹ کرایا۔ بھلا ہو، ڈاکٹر صاحب کا کہ اس بچی کے علاج کا پورا خرچ وہ اٹھا رہے ہیں۔ جہاں ایک طرف ڈاکٹر آصف صاحب نے یہ قابلِ ذکر کام انجام دے کر بہترین نیکی کا کام کیا تو وہیں ہم لوگوں کیلئے ایک سبق بھی دے گئے کہ ہم کیوں اتنے بے حس ہیں کہ اس طرح کا دردناک ویڈیو منظر عام پر آنے کے باوجود بھی ہمیں کوئی فرق نہیں پڑا۔ وہ فیملی ابھی بھی غربت کے سائے میں زندگی گذار رہی ہے اور گھر کے مکین شاید تینوں ٹائم گھر کا کھانا بھی نہیں کھاتے ہوں گے۔ لیکن ہمیں اس طرح کی فیملیز کی خبر گیری کی عادت نہیں رہ گئی۔

اب آتے ہیں، اسی گاؤں کے تعلق سے ایک خبر کے بارے میں، ایک مسلم فیملی کی ایک ماں اپنی دو جوان بیٹیوں اور ایک جوان بیٹے کے ساتھ کسی فراڈ کے الزام میں جیل میں بند ہیں۔ اب اس معاملے میں ہم نے بیشتر کو فعال پایا، ہر کوئی ویڈیو شئیر کر رہا، کوئی قہقہے کی ایموجی کی ساتھ یہ افسوسناک خبر شیئر کر رہا ہے، کوئی اس فیملی کے تعلق سے نازبیا باتیں کر رہا ہے۔ اب سوچئے کہ اول الذکر موضوع پر ہم نے لوگوں کی بہت توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہیں ہوئے۔ اور اب موخر الذکر موضوع پر عوام کا اچانک سے متحرک ہو جانا جہاں صرف حیرت میں ڈالنے والا ہے تو وہیں افسوسناک بھی ہے۔ قوم کی جوان مسلم بیٹیوں کا جیل میں رہنا بہت بے چین کر دینے والا معاملہ ہے۔ ہم سب کو اپنا احتساب کرنا چاہئے کہ ہم نے بھوک سے مر رہی بچی کو نظر انداز کر دیا لیکن دوسرے معاملے میں کتنی دلچسپی سے ہم لگاتار ویڈیوز، خبریں شیئر کرکے تبصرے کر رہے ہیں۔ اس پر غور کرنے کی ضرورت ہیکہ ہمیں کس طرح کے معاملے میں ہمیں اپنی دلچسپی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ بھوک سے مر رہی بچی کو لیکر ہمیں سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا تھا یا پھر قوم کی جوان بیٹیوں کو جیل میں جانے پر ان کی عیوب کو منظرِ عام پر لانے میں؟ ہمارا ماننا ہیکہ ان مسلم جوان لڑکیوں کو جلد از جلد ضمانت کرانے کی کوششیں ہوں تاکہ ان کی نفسیات، ان کے جذبات، ان کی عزت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ دوسرے فریق سے بھی گزارش کریں گے کہ معاملے کو میڈیا، تھانہ اور کورٹ تک لانے میں صرف ایک مخصوص فیملی کی نہیں بلکہ پوری قوم کی بدنامی ہوتی ہے۔ لہذا کوشش کریں کہ معاملے اب سے مصالحت کے ذریعہ حل کر لیں۔ گزشتہ رات اسی معاملے کو لیکر ایک غیر مسلم کا تبصرہ آیا کہ "آتنک واد کے بعد اب چوری، گھپلا بھی کرنے لگے ہیں یہ لوگ (مسلمان)، ہماری بہن، بیٹیوں کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہیکہ آپ کی حرکتوں سے پوری قوم کا سر شرمندگی سے جھک رہا ہے۔ انہیں بھی اپنا احتساب کرنا ہوگا۔
