ڈاکٹر سراج الدین ندوی
مدیر ماہنامہ اچھا ساتھی ۔بجنور
کہانی یا قصہ کی اہمیت و افادیت کا سب سے بڑاثبوت وہ آسمانی کتابیں ہیں جن میں خود اللہ تعالیٰ نے قصے بیان فرمائے ہیں ۔حضرت عیسی ؑ پر نازل ہونے والی انجیل کا زیادہ تر حصہ تمثیلات ۔کہانیوں اور قصوں پر منحصر ہے ۔اللہ کی آخری کتاب جو مستند بھی ہے اور محفوظ بھی ۔ اس میں بھی کئی قصے بیان کیے گئے ۔بلکہ اس میں حضرت یوسف ؑ کے قصہ کو احسن القصص کہا گیا ہے ۔
کہانی کی کہانی بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود انسان کی کہانی ۔حضرت آدم ؑ کی پیدائش ،ملائکہ کو سجدے کا حکم ،ابلیس کا انکار،جنت میں قیام اور وہاں سے زمین پر بھیجے جانے کے واقعات کو قرآن مجید میں بہت دل نشیں پیرائے میں بیان کیا گیاہے ۔قاری جب انھیں پڑھتا اور سنتا ہے تو اسے کسی قسم کی بوریت نہیں ہوتی ۔بلکہ اس کا تجسس بڑھتا ہے ۔اس میں کہیں کہیں ڈائیلاگ بھی ہیں ۔وہ ڈائیلاگ اپنے کرداروں کی فطرت کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں ۔یہ سب باتیںایک اچھی کہانی کی خوبیاں ہیں ۔قرآن اور دیگر کہانیوں میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ قرآن کی کہانیاں نہ صرف سچے واقعات پر مبنی ہیں بلکہ ان کے کرداروں کے نام بھی حقیقی ہیں ۔دیگر کہانیوں میں اگرچہ پلاٹ اور مرکزی مضمون کسی نہ کسی سچے واقعہ پر ہی مبنی ہوتا ہے ۔لیکن ان کے کردار وں کے نام فرضی ہوتے ہیں ۔قرآن تو اپنے آغاز ہی میں لاریب کہہ کر اپنے ہر حرف کی صداقت کا اعلان کرتا ہے جب کہ کہانیوں کی کتابوں کے اندرونی ٹائٹل پر لکھا ہوتا ہے ۔’’ اس کہانی کے کرداراور مقامات کے نام فرضی ہیں ۔‘‘
کہانی کے تعلق سے یہ بات بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ اس کی ابتداء تمام نثری اصناف ادب سے پہلے ہوئی ہے ۔انسان نے جب مافی الضمیر کی ادائیگی کا ہنر سیکھا تو اس نے ایک دوسرے کو وقوع پذیر واقعات کی رپورٹننگ کرنا شروع کی اور یہی کہانی ہے۔
آپ میری اس بات سے بھی اتفاق کریں گے کہ جس قدر توجہ اور دل چسپی سے کہانیاں سنی جاتی ہیں بلکہ اب دیکھی بھی جاتی ہیں ،اس سے زیادہ شاید کسی صنف کو توجہ حاصل نہیں ہوتی ۔آپ وعظ و تقاریر سے بہت جلد اوبنے لگتے ہیں ۔اشعار کی محفل سے آپ لطف اندوز ضرور ہوتے ہیں مگر پوری توجہ مبذول کرانے میں وہ کامیاب نہیں ہوتیں ۔آپ کسی شاعر کی پوری غزل نہ بھی سنیں تب بھی آپ اس سے مستفید ہوسکتے ہیں ۔لیکن کہانی کا اگر ایک جملہ یا ایک پیرا بھی آپ سے مس(MISS)ہوتا ہے تو آپ بہت دیر تک اس تک پہنچنے سے قاصر رہتے ہیں ۔
مجھے یاد ہے جب بچپن میں ہماری بوڑھی دادی یا نانی رات کو قصہ سناتی تھیں ۔سب بچے ان کی آواز پر کان دھرے بیٹھے رہتے تھے ۔اگر کسی کو حوائج ضروریہ بھی لاحق ہوتی تو وہ قصہ کو وہیں ’’STOP‘‘ کراکے جاتا اور اگر کہیں قصہ گو اس کے غیاب میں کہانی کو جاری رکھتا تو اسے پھر سے دہروایاجاتا۔قاری یا سامع کی یہ توجہ کسی دوسری صنف کو حاصل نہیں ۔
کہانی کی ان صفات کے سبب ہر زبان میں کہانیاں لکھی گئیں ۔طول طویل کہانیاں وجود میں آئیں۔الف لیلیٰ کو آپ داستان میں شمار کریں مگر وہ ایک ہزار کہانیاں ہی ہیں جن کا حقیقی ربط اسے داستان کی شکل دیتا ہے،کلیلہ و دمنیٰ ،قصہ چہار درویش کہانیوں کی قسم سے ہی متعلق ہیں۔یہ بالی ووڈ کی فلمیں کیا ہیں ؟ہر فلم ایک کہانی ہے ۔موجودہ زمانہ چونکہ برق رفتاری کا زمانہ ہے ،لوگوں کے پاس وقت کی مصنوعی قلت ہے ۔اس لیے اب مختصر کہانیوں کا زمانہ ہے ۔جہاں تک بچوں کا سوال ہے تو ان کے لیے مختصر کہانیاں ہی مفید ہیں ۔
میری اس گفتگو سے آپ نے اندازہ لگالیا ہوگا کہ کہانی انسانی زندگی کا لازمہ ہے ۔کیوں کہ وہ خود اس کی کہانی ہے ۔کہانی سب سے زیادہ دل چسپ صنف ہے ۔دل چسپ ہونے ساتھ ساتھ اثر پذیر بھی ہے۔
ہرکہانی اپنا اثر چھوڑتی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ وہ اثر منفی ہے کہ مثبت۔بازار میں کہانیوں کی ہر قسم کی کتابیں موجود ہیں ۔تمام نظریات کے نمائندوں نے بچوں کو مخاطب کیا ہے ۔فحاشی اور بے حیائی پھیلانے والوں نے اس میدان میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں ۔حق کے علم بردار آج بھی کہانی کی افادیت اور اثرات پر گفتگو کررہے ہیں ۔آپ یوٹیوب پر چلے جائیں اور KIDS STORYکو سرچ کریں سیکڑوں کہانیاں آپ کے سامنے آجائیں گی ۔ان میں سے نناوے فیصد کہانیاں باطل نظریات کے حاملین کی ہوں گی ۔بہت احتیاط سے عرض کررہا ہوں کہ ایک فیصد کہانیاں ایسی ہیں جنھیں آپ اخلاقی کہانیوں میں شمار کرسکتے ہیں۔اسلامی کہانی کا تو تصور بھی نہیں ہے ۔جس دین کے ماننے والے فوٹو گرافی،گراموفون کے استعمال اور ریڈیو ٹی وی کے جوازو عدم جواز پر آج تک الجھے ہوئے ہیں وہ بھلا کہانیاں کیسے لکھ سکتے تھے ؟ان کے نزدیک بچوں کی کوئی اہمیت ہی نہیں رہی ۔
بچوں پر کہانی کے وسیع اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
اخلاقی اثرات:
کہانی کار اگر اخلاقی کہانیاں لکھیں تووہ بچوں کو صحیح اور غلط کی پہچان کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ جب بچے کہانیوں کے کرداروں کے فیصلوں اور ان کے نتائج کو دیکھتے ہیں، تو وہ سیکھتے ہیں کہ ان کے اعمال کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، کہانیاں جیسے کہ ”پہلی بار نیک بننے کی کہانی” یا ”دوستی کی اہمیت” بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ ایمانداری، ہمدردی، اور وفاداری جیسے اصول کتنے اہم ہیں۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ ایک کردار کی ایمانداری اسے کامیابی کی طرف لے جاتی ہے یا بدعنوانی اسے مشکلات میں ڈال دیتی ہے، تو وہ ان تجربات سے سبق سیکھتے ہیں۔
یہ اخلاقی اسباق بچوں کے اندر ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں، جو ان کی زندگی میں صحیح فیصلے کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ کہانیاں ان کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کرتی ہیں، جہاں وہ مختلف اخلاقی د dilemmas کا سامنا کر سکتے ہیں اور ان کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔
کہانیاں کرداروں کے تجربات کے ذریعے بچوں میں ذمہ داری اور عزم کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہیں۔ جب بچے دیکھتے ہیں کہ کردار اپنے مقاصد کے حصول کے لیے محنت کرتے ہیں یا کسی مشکل صورتحال کا سامنا کرتے ہیں، تو وہ اس عزم اور لگن سے متاثر ہوتے ہیں۔
مثلاً، اگر کوئی کردار اپنے دوست کی مدد کرنے کے لیے مشکلات کا سامنا کرتا ہے، تو بچے سیکھتے ہیں کہ ذمہ داری کا احساس کس طرح ان کی زندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کہانیاں انہیں یہ بھی سکھاتی ہیں کہ ناکامیوں کا سامنا کرتے ہوئے ہار نہیں ماننی چاہیے، بلکہ انہیں نئے طریقے سے کوشش جاری رکھنی چاہیے۔اس طرح، کہانیاں بچوں کی کردار سازی میں مدد دیتی ہیں، کیونکہ وہ عزم، استقامت، اور ذمہ داری کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ یہ خصوصیات ان کی زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہیں، چاہے وہ تعلیم ہو، دوستی ہو، یا دیگر چیلنجز کا سامنا۔
سماجی اثرات:
کہانیاں دوستی، ہمدردی اور تعاون کی اہمیت سکھاتی ہیں، جو بچوں کے سماجی روابط کو بہتر بناتی ہیں۔جب بچے کرداروں کو ایک دوسرے کی مدد کرتے یا ایک دوسرے کے ساتھ دوستی نبھاتے دیکھتے ہیں، تو وہ ان مثالوں سے متاثر ہوکر اپنی زندگی میں بھی یہی رویے اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔کہانیاں اکثر ایسے حالات پیش کرتی ہیں جہاں کرداروں کو مل کر کام کرنا پڑتا ہے، جیسے کسی مشکل کا سامنا کرنا یا کسی دوست کی مدد کرنا۔ اس سے بچوں میں تعاون کا جذبہ پیدا ہوتا ہے اور وہ سیکھتے ہیں کہ ایک دوسرے کی مدد کرنا کس قدر اہم ہے۔یہ تجربات انہیں ہمدردی کا احساس دلانے میں بھی مدد دیتے ہیں، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کے جذبات اور مشکلات کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ اس طرح کہانیاں نہ صرف تفریحی ہوتی ہیں، بلکہ وہ بچوں کے سماجی روابط کو مضبوط بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہیں۔
نفسیاتی اثرات: اس کو ہم دو قسموں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
1. تصوراتی ترقی: کہانیاں بچوں کی تخلیقی سوچ کو فروغ دیتی ہیں، جس سے ان کے تخیل کی دنیا میں وسعت آتی ہے۔یعنی کہانیاں بچوں کی تخلیقی سوچ کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ جب بچے مختلف کرداروں، مقامات، اور حالات سے ملتے ہیں، تو ان کے تخیل کی دنیا کھلتی ہے۔ کہانیاں ان کے تجسس کو بڑھاتی ہیں اور انہیں نئے خیالات اور تصوراتی منظرنامے تخلیق کرنے کی تحریک دیتی ہیں۔
اس کے علاوہ، کہانیاں بچوں کو اخلاقی سبق بھی سکھاتی ہیں اور ان کی جذباتی ذہانت کو بڑھاتی ہیں۔ مختلف کہانیوں کے ذریعے وہ دوسروں کے تجربات اور احساسات کو سمجھنے میں مدد حاصل کرتے ہیں، جو ان کی سماجی مہارت کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
2. احساسات کی تفہیم: کرداروں کے جذبات اور حالات سے بچے مختلف احساسات کو سمجھتے ہیں، جیسے خوشی، غم، اور خوف۔کہانیاں بچوں کو کرداروں کے ذریعے مختلف احساسات کی تفہیم کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ جب بچے کسی کہانی میں کرداروں کی خوشیوں، غموں، یا خوف کا تجربہ کرتے ہیں، تو وہ ان جذبات کو خود میں محسوس کرنے لگتے ہیں۔مثلاً، جب ایک کردار کسی کامیابی پر خوش ہوتا ہے، تو بچے اس خوشی کا حصہ بنتے ہیں۔ اسی طرح، اگر کوئی کردار مشکل حالات کا سامنا کرتا ہے، تو بچے اس کے ساتھ ہمدردی محسوس کرتے ہیں اور سیکھتے ہیں کہ زندگی میں چیلنجز کا سامنا کیسے کیا جائے۔یہ تجربات بچوں کی جذباتی ذہانت کو بڑھانے میں مدد دیتے ہیں، اور وہ سیکھتے ہیں کہ مختلف احساسات کا اظہار کیسے کیا جائے۔ اس طرح، کہانیاں نہ صرف تفریح فراہم کرتی ہیں بلکہ بچوں کی سماجی اور جذباتی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کیا آپ نے کبھی دیکھا ہے کہ کسی کہانی نے آپ کے بچے کے جذباتی ردعمل کو کیسے متاثر کیا؟
یہ اثرات مل کر بچوں کی شخصیت کی تشکیل میں معاون ثابت ہوتے ہیں اور ان کے مستقبل کی بنیاد رکھتے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ تعمیر پسند ادباء اس میدان میں اپنا فعال رول ادا کریں۔ ہمارا ادبی شعبہ تخلیق کاروں کی تربیت کے ساتھ ساتھ ان کی حوصلہ افزائی کا اہتمام کرے ۔مفید تخلیقات کی طباعت و اشاعت کا نظم کیا جائے ۔چھ تا بارہ سال کے بچوں کے لیے لکھنے والوں کا ایک گروپ تشکیل دیا جائے ۔انھیں موضوعات فراہم کیے جائیں ۔پھر ان کی تخلیقات کی اشاعت کا لازمی اہتمام کیا جائے ۔اس لیے کہ ایک تخلیق کار اپنا خون جگر لگاکر کوئی کہانی لکھتا ہے ۔اگر اس کی طباعت کا نظم نہ ہونے کی بنا پر اس کا مسودہ برسوں دھول پھانکتا رہے تو اس کی دل شکنی ہوتی ہے اور اس کا تخلیقی عمل رک جاتا ہے ۔
ایک کام یہ ہے کہ کہانیوں کا جو ذخیرہ ہمارے مکتبوں اور لائبریریوں میں موجود ہیں ۔ان کو از سر نو نئے زمانے کے مطابق شائع کیا جائے ۔ بڑے سائز پر ہو۔ چار رنگوں میں ہو۔ ٹاٹئٹل دیدہ زیب ہو۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ کہانیوں کو فلمایا جائے ۔یہ کام بھی احسن طریقہ پر ہو۔شیطان اور اس کے کارندے جن آلات جدیدہ سے رحمان کے خلاف بغاوت پھیلا رہے ہیں ۔رحمان کے بندوں کو اس سے بھی زیادہ اپ گریڈ آلات ا استعمال کرنا چاہئے ۔
