محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ گم شدہ لوگ 
عجیب معاملہ تھا۔ اپنی اولاد وںسے کوئی توقع نہیں رکھی اور جب مرگئے تو تاریخ کے صفحات سے گم ہونے کی چاہت کے ساتھ لاپتہ ہوگئے۔ انہیں شہرت سے زیادہ اپنی گمنامی پسند تھی، سو وہ گمنام ہوکر رہے ۔
۲۔ پرامید 
امتحانات کی اطلاع اچانک دی گئی تھی اور کوئی بھی سنبھل پا نہیں رہاتھا۔ اسی کیفیت کے درمیان فرقان شریف نے اپنے مقام پر کھڑے ہوکر کہا’’میرے خیال میں قیامت کی اطلاع اسی لئے دی گئی ہے تاکہ یہ نہ کہہ سکیں کہ قیامت اچانک آگئی اور ہم سنبھل نہیں سکے ۔ اور دوسری بات یہ کہ ساری انسانیت قیامت آنے تک یقیناسنبھل جائے گی ‘‘ سبھی طلبہ فرقان شریف کو گھورے جارہے تھے۔ کلاس کے سب سے ذہین بچے کے دل کی زبان پر تھا’’نالائق، کم فہم ‘‘
مگر استا د مسعود احمد رضوی کاکہناتھاکہ ’’فرقان شریف نے جس توقع کا اظہار کیاہے وہ فرقان شریف کے مزاج کودرشاتا ہے۔ قبل ازقیامت سنبھل سکیں گے کہ نہیں ، اس سے قطع نظر آج سے ہماری اس کلاس کا سب سے پرامید طالب علم فرقان شریف ہو گا ۔ پرامید طالب علم کاٹیاگ اس کے سینے پراِمسال سجارہے گا‘‘سبھی طلبہ نے تالیاں بجاکر اس فیصلے کاخیرمقدم کیا
۳۔ صرا ط مستقیم سے ہٹ کر 
ہم بھی اسی دور میںپیداہوئے جس دور میں وہ لوگ ولی بن کرشہیدہو چکے تھے۔ اور جب ہمیں دیاگیا وقت کاخاتمہ ہواتو ہم لوگ شیطان کے وارث ثابت ہوئے اور ہمارے ہاتھوں سے قتل ہونے والے مقتول انبیاء کے وارث قرار دئے گئے۔ ہماری بدنصیبی کو ہم نے مرنے کے بعد محسوس کیا۔ دنیا میں رہ کر کچھ سمجھ ہی نہیں سکے کہ درست راہ کون سی ہے؟ اور جب کبھی کچھ سمجھ میں آیا ، اسی وقت عقل پر پردہ بھی پڑگیا۔
۴۔ سامنا
اچھی چیزیں سبھی کو پسند آتی ہیں۔ انہیں بھی وہ لڑکی پسند آگئی تھی لیکن فرزند کی نشاندہی پر اس لڑکی کی شادی  اپنے فرزند سے کردی اور گھر سے نکل آئے ۔ کیوں کہ وہ اپنی پسند کے تنہاگواہ تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ اپنی پسند کابار بارسامناہوسکے۔
۵۔ پچھتاوؤں کا راج
دنیا بھر میں پچھتاوے نے اپنے جھنڈے گاڑھ رکھے تھے۔ دولت مند ، متوسط طبقہ ، مزدور اور غریب سبھی اپنی اپنی موجودہ پوزیشن سے مطمئن نہیں تھے۔ حکومتوں کو بھی دس سے پچاس پچاس سال تک حکومت کرتے ہوئے بھی یکسوئی حاصل نہیں تھی۔ وہ سمجھتی تھیں کہ کبھی بھی اقتدار ہاتھ سے نکل سکتاہے اور پیروں تلے سے زمین ۔
ان پچھتاوؤںکے درمیان جو بھی پرامید ہے ، کہ اس کے سرپراللہ کاہاتھ ہوگاتو وہ کامیاب شخص ہے۔ اور کامیاب عورت ہے۔ ان کی کامیابی کو دیکھنے کے لئے قیامت تک انتظار کرناپڑے گا۔ لیکن یہ سچ ہے کہ پچھتاوؤں کاراج ساری دنیا پر ہے۔
۶۔ مقصد کا چہرا
مقصد کی نئی نئی تشریحات کرتے ہوئے اس کاتھوبڑا بری طرح سے مسخ کرکے رکھ دیاگیاتھا۔ سوجھے ہوئے گالوں اور پھولے ہوئے چہرے کے ساتھ مقصد جب بھی سامنے آتا اجنبیت اور بیماری کی ایک دیوار آن کھڑی ہوتی ۔ میں سمجھ رہاتھاکہ یہی حال رہاتو ایک دن مقصد فوت ہوجائے گا۔ اس کے چاہنے والے اس قدر تھے کہ وہ اسکوفوت کرنے کے بجائے ’’ممی‘‘ بناکر رکھ سکتے ہیں۔سناہے کہ مقصد فوت ہوچکاہے اور ۔۔۔۔۔۔آپ کافی سمجھدار اور کھوجی افرادمیں سے ہیں۔ کھوج کرتے رہیں کہ وہاںکیاہورہاہے۔دانشور انسان باخبربھی رہتاہے۔ تاکہ آنے والے دنوں کامقابلہ کرسکے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے