محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ ناکام جنگ 
وہ بھی پوری تیاری سے سامنے آن کھڑا تھا مگر ہم نے کوئی چال نہیں چلی اور نہ اس کوکوئی چال چلنے کاموقع دِیا۔اس طرح جنگ کے ماحول پر پانی پھرگیا
۲۔ مثالیں 
میں کام پر دھیان نہیں دے رہاتھا۔ سارادفتر میرے کام کی چیکنگ پر گویا مامور ہوچکاتھا۔ میں نے جھلا کر ایک دن اپنے ساتھی سے کہہ دیاکہ یار ، یہاں دفتر ی آداب کسی کو پتہ ہیں کہ نہیں ؟ کیوں کر میری پرائیویسی میں دخل دیا جارہا ہے ؟ساتھی نے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا’’تم نے اچھاسوال کیاکہ کیوں میری پرائیویسی میں دخل دیاجارہاہے ؟جواب یہ ہے کہ تم جب اپنی پرائیویسی کے خلاف تم خود مشتہر بن رہے ہوتو لوگ تمہاری ٹوہ میں ضرور رہیں گے۔اجتماعی کام ایک دوسرے کے بغیر ممکن نہیںہوتے ۔ اس لئے اجتماعیت میں رخنہ اندازی یا بے توجہی کو لوگ بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں۔ چلتی سڑک پر اگر کوئی چیخے یا گر جائے یا گاڑی کو بریک لگادے تولوگ پلٹ پلٹ کر ، گھور گھور کرضروردیکھیں گے ‘‘
میں پہلے ہی غصہ میں تھا ،اس پر ساتھی کی مزید بکواس نے میراموڈ خرا ب کردیاتھا۔کہناپڑا ’’ہاں ہاں ، رہنے دے ، بہت آیا مثالیں دینے والا‘‘۔
۳۔ معاشرتی پیمبری 
’’لوگ جیسے بھی ہیں، اپنے ہیں۔ کچھ مخالف بھی ہیں توانھیں اپنابنانا سیکھنا ہوگا‘‘ والدصاحب اور والدہ نے ، استادوں نے ، یہاں تک کہ اہلیہ نے بھی یہی پٹی پڑھانے کی کوشش کی تھی ۔میں سدا کا ان پڑھ ، ضدی ،اور تھڑدِلا، اس طرف مائل نہ ہوا ، اسلئے اس پٹی کو پڑھ نہ سکا۔ مولوی خدام الدین کہتے ہیں،میاں اسی لئے تم معاشرتی پیمبری کے کوہ ِ صفا پر چڑھ نہ سکے۔
۴۔ وقت کاحامی 
وہ کہانیاں لکھا کرتاتھااور کرداروں کو باہر سے لینے کی بجائے خود کومختلف کہانیوں کے کردارمیں ڈھال لیتا۔ گزشتہ گیارہ سال کے دوران لوگوں نے یہی سمجھاکہ وہ معاشرے کی نہیں ، خود اپنی کہانیاں لکھتارہتاہے۔
جی ہاں ،وہ کسی بھی طرح اپنے قارئین کوباور نہیں کراسکاکہ یہ عمل میں مقدمات سے بچنے کے لئے کیاکرتاہوں ۔ کہیں کوئی شخص اٹھ کریہ نہ کہہ دے کہ اس کہانی میں کہانی کار نے میرا نام لے کر میرامذاق اڑایا ہے، فلاں کہانی میں اس نے میرے والدصاحب کونشانہ بنایاہے۔ لہٰذا جج صاحب اس کوکڑی سے کڑی سزا دی جائے۔ وہ سزاؤں سے نہیں ڈرتاتھا، وقت سے ڈرتاتھا۔ اس کوڈھیر سا وقت چاہیے تھا، تاکہ اپنامقصد پورا کرسکے ۔
۵۔ سمجھدار بے چارہ
میں نے اس کو سمجھایاکہ پہلی صف میں بٹھایاجانا تمہار احق ہے ، اس کے بجائے تمہیں پانچویں صف میں بٹھایاجارہاہے یاآدھانظرانداز کیاجارہاہے تو اس عمل کومثبت لیناچاہیے کہ تمہارا قد بہرحال اونچا پوراہے۔بوناوہ ہوتاہے جو دوسروں کے قدکم کرنے کی سعی کرتاہے۔میری اس بات پر اس نے بھی اچھی بات کہی’’بھائی ، میں بھی انسان ہوں ،اوروہ بھی بقول آپکے ایک قدآور انسان ،میراقد کم کرنے کی صاف کوشش پر مجھے تکلیف تو ہوگی نا‘‘
جواباً میں نے کہا’’سچے اور قدآور انسانوں کے مقسوم میں تکالیف موسم ِ بہار کی طرح ہوتی ہیں ،سب کچھ انگیزکرنا پڑے گا، اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں‘‘بے چارے کو میری با ت سمجھ میں آچکی ہے۔
۶۔ مسائل کے سانپ
کم زہریلے اورخطرناک حد تک زہریلے مسائل کے سانپ روزانہ نکل آتے ہیں، ان کا پیچھا کرنا پڑتا ہے، تاکہ انھیں مار ڈالا جاسکے۔ دوسری بات یہ بتائی گئی کہ…… چینل اور اخبارات دراصل وہ سپیرے ہیں، جن کی پیٹیوں سے یہ خطرناک سانپ نکال کر ملک بھر میں عام کئے جاتے ہیں۔ تیسری بات یہ سامنے آئی کہ…. ان سانپوں سے ڈرنا نہیں ہے. ان کے پھن کچل کر رکھ دینا چاہیے۔ مسائل کاحل اسی عمل میں پوشیدہ ہے ۔
۷۔  کاروباری داعیہ   
وہ خواتین کا ایک گروہ تھا۔دین کے کام میں دن رات لگا ہوا تھا۔شیاطین نما انسانی گروہ کو یہ بات قطعاً پسند نہیں تھی کہ یہ لوگ دین کا کام کریں۔ایک منصوبہ بنایا گیا، اور خفیہ طریقے سے اس منصوبے پر عمل کیا گیا۔آج خواتین کا وہ گروہ ریاست میں مثالی Lady Entrepreneur کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے