ایک گھر پر تعلیم حاصل کرتے طلبہ
مہنداول ،سنت کبیرنگر: کہتے ہیں کہ اگر حوصلہ ہو تو سبھی منزلیں آسان ہوجاتی ہیں، یہی حال حلقہ کے ایک محنتی استاذ کا ہے۔
حلقہ کے موضع تنہواں کے ماسٹر کلیم اللہ ایک مدرسہ میں بحیثیت ٹیچر خدمات انجام دے رہے تھے، جہاں پر کسی وجہ سے مستعفی ہونے کے بعد موضع دھوبہا میں بچوں اور بچیوں کے سرپرستوں کے سخت اسرار پر گاؤں کے ایک گھر پر بچوں کو پڑھانے کے ایک کوچنگ کا آغاز کیا،جس میں لوگوں نے بہتر پڑھائی کو دیکھ کر قرب وجوار سے بچوں کی ایک بڑی تعداد علمی پیاس بجھانے کے لئے پہونچ گئی،ماسٹر کلیم اللہ کے بہترین طریقہ تدریس کی وجہ سے ایک ماہ میں پانچ درجن بچے اور بچیاں کوچنگ میں شامل ہوئی اور روز بچوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ماسٹر کلیم اللہ نے بتایا کہ میری زندگی کا مقصد اپنی علمی صلاحیتوں کو لوگوں تک پہنچانا ہے، تعلیم سے ہی ہمارا سماج ترقی کرسکتا ہے، بعد نماز ظہر تنہواں میں 3/بجے سے اردو عربی، ہندی، انگریزی اور حساب کی تعلیم بھارت کوچنگ سنٹر تنہواں میں انجام دیتے ہیں، ماسٹر کلیم اللہ نے بتایا ایک استاذ کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو قوم کی امانت سمجھ کر محنت اور لگن سے پڑھائیں ، کا ایک رہائشی ہوں اور میں بھی ایک اور بات چیت کرتے ہیں، اس کو اس کا ان کی نفسیات اور ان کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے تدریسی خدمات انجام دیں،ایسا استاد کہیں بھی جائے گا بچوں کی بھیڑ ادھر ہی منتقل ہوجائے گی، انھوں نے کہاکہ مدرسہ ہو یا اسکول اس کا بہتر معیار تعمیر سے نہیں بلکہ تعلیم سے طے ہوتا ہے۔
