سدھارتھ نگر۔(عبدالمبین منصوری) کل رات بعد نماز عشاء شہنشاہ بطحیٰ کانفرنس سدھارتھ نگر ضلع ہیڈکوارٹرپر کے محلہ کھجوریہ (ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نگر) میں منعقد ہوئی جس میں ملک بھر کے نامور خطیبوں اور شاعروں نے شرکت کیا، پروگرام کا آغاز حافظ محمد شفیق رضوی نے اپنی خوبصورت آواز میں تلاوت کلام پاک سے کیا، اس کے بعد حافظ شرف الدین نے اپنے خطاب میں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتوں اور تعلیمات کی سائنسی نقطہ نظر سے اہمیت بتاتے ہوئے کہا کہ آج سائنس بہت سی بیماریوں کی تشخیص میں کافی وقت اور پیسہ ضائع کر رہی ہے۔ اس کے بعد جا کر کہیں ہم کسی نتیجے پر پہنچ رہے ہیں، آج سے تقریباً کم و بیش 1400 سال قبل ہمارے نبی حضور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں جو کچھ بتایا اور سکھایا وہ تمام انسانوں کے لیے مشعلِ راہ اور نجات کا ذریعہ ہے۔ مثال کے طور پر تمام ٹیکنالوجی، مشینری اور ٹیسٹوں کا استعمال کرنے کے بعد آج کے طبیب اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ ہمارے لیے کون سی دوا کارگر ثابت ہوگی۔ اتنا ہی نہیں بنا مشینری ٹیکنالوجی کے آج کے ڈاکٹر یہ بتانے کے قابل نہیں ہیں کہ عورت کے پیٹ میں پرورش پانے والا بچہ لڑکا ہے یا لڑکی، جبکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے 1400 سال پہلے یہ بتا دیا تھا کہ جب مرد کا خصوصی اثر ات عورت کے خصوصی اثرات پر غالب ہو جاتا ہے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کا مخصوص جراثیم مرد کے مخصوص جراثیم پر غالب آجاتا ہے تب لڑکی پیدا ہوتی ہے۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جس پر ریسرچ کرکے اسلام کے دامن میں تیزی کے ساتھ غیر مسلم قومیں داخل ہوتی جا رہی ہیں۔
اس کے بعد مولانا عبدالکریم نے منقبت و نعت پڑھ کر اپنی حاضری سے عوام کو داد و تحسین اور انعام و اکرام سے نوازنے پر مجبور کر دیا۔
ربّ سلم کی صدائیں گن گناتے جائینگے
جگا دیجئے میری قسمت سرکار غوث اعظم
مجھے اپنے در پر بلا لیجئے سرکر غوث اعظم
پھراس کے بعد نعت رسول مقبول اشرف رضا نے نعت پاک پڑھ کر ماحول کو اور خوشنما بنا دیا، اس کے بعد بلرام پور سے تشریف لائے فیضان رضا جمالی نے اپنے فصیح الکلام سے حاضرین کے دلوں کو مسحور کر دیا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشنودی اور تعلیمات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑی قربانیوں کے بعد اسلام کو ہم تک پہنچایا ہے۔ اس لیے ہم سب کا بھی یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دی ہوئی تمام تعلیمات پر سختی سے عمل کریں، دن میں پانچ وقت کی نماز پڑھیں، اور اپنے والدین کی خدمت کریں۔ آج کل پوری دنیا میں مسلمان مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہم روزے نہیں رکھتے اور چوراہوں اور ہوٹلوں پر کھلے عام رمضان کے مہینے میں کھاتے پیتے ہیں، اس طرح ماہ رمضان کے تقدس کو مسلمان پامال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں اس پر ستم یہ کہ غیر وں کے سامنے بھیک مانگتے پھر رہے ہیں۔اس لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد گجرات سے تشریف لائے شاہ کار ترنم نعت خواں مہتاب اشرف کچھوچھوی نے اپنا کلام پیش کرتے ہوئے خوب داد و تحسین حاصل کیا۔
انگوٹھی میں جیسے نگینہ الگ ہے
میرے مصطفیٰ کا مدینہ الگ ہے
اس کے بعد مہمان خصوصی پیر طریقت سید محمد نورانی میاں نے حاضرین کے دل و دماغ کو معطر کرنے کی غرض سے اپنے خطاب کا آغاز کرنے سے قبل نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھ کر تمام حاضرین کو مدینہ منورہ کی سیر تخیلات کی دنیا میں کرنے پر مجبور کر دیا۔
بن مانگے ملا کرتا ہے دربار نبی میں
سلطان بھی بک جاتے ہیں دربار نبی میں
اس کے بعد اپنے خطاب کے عنوان میں کل نفسی ذ ا ئقۃ الموت (ہر ذی روح کو موت کا مزہ چکھنا ہے) نے بہت سادگی سے احادیث اور مثالیں پیش کیں اور اپنا پیغام لوگوں کے دلوں تک پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ چکھنا ایک ایسا لفظ ہے جو بہت کم وقفے کے لیے ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کسی بھی کھانے کی چیز کو تھوڑا سا زبان پر لے کر رکھنا چکھنا کہلاتا ہے۔ اسی طرح ہر ذی روح یعنی جاندار کو موت کی لذت چکھنی ہے۔ یعنی موت تھوڑی سی دیر کے لیے آئے گی۔ موت برحق ہے۔ موت کے بعد انسان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ یعنی ایک دنیا سے دوسری دنیا میں جانے اور منتقل ہونے کو ہی انتقال کہا جاتا ہے۔ اس طرح انہوں نے زندگی اور موت کے فلسفے کو بڑی آسانی کے ساتھ سمجھا یا۔
انہوں نے سامعین کو بہت سے مفید باتیں حدیث کی روشنی میں بیان کیے اور لوگوں کو اسلام کے قوانین پر مکمل یقین رکھنے اور اس کے تمام احکام پر دل و جان سے عمل کرنے کی تلقین کی۔
انہوں نے کہا کہ آج مسلمانوں میں ساری برائیاں موجود ہیں اس لیے آج پوری دنیا کے مسلمان پریشان حال ہیں۔ آج ضرورت ہے ہمیں مسلمانوں کو اسلام کے دامن کو مضبوطی کے ساتھ پکڑتے ہوئے اس پر پوری ایمانداری کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی۔ ورنہ آج ہمارے اعمال کی بنیاد پر ہی ہمارے اوپر ظالم حکم راں مسلط ہیں۔ہمیں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہمیں عمل کے میدان میں سختی اور ثابت قدمی کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہنے کی ضرورت ہے۔
پروگرام میں قاصد گورکھپوری نے بھی فارسی میں اپنی شاعری پیش کی۔ پروگرام کی نظامت قمر اعظمی نے کیا۔ پروگرام کی صدارت حافظ و قاری قطب الدین چشتی نے کیا اور حافظ اشرف الدجی، محمد شاکر حسین مصباحی اور مولانا ارشاد احمد نظامی کے حمایت سے پروگرام شب آخر تک جاری رہا۔
اسٹیج پر مولانا سید سہیل امام جامع مسجد تیتری بازار، مولانا ابرار احمد، مولانا کلام الدین ، مولانا اعجاز احمد اہیرولی، مولانا نورالدین، مولانا مہرالدین بلسر، مولانا مہدی حسن سالم فیضی مہریہ، مولانا حیدر علی بیلسر، حافظ اسلام الدین بلسسر،قاری اطہر حسین انوپ نگر، مولانا شمس اللہ، مولانا فضل اللہ، مولانا عبدالقادر اور دیگر بہت سے علم موجود تھے۔
سامعین میں مقصود عالم عرف چری پردھان، عابد علی، رمضان علی، ساجد علی، استخار احمد، سلیمان علی، محمد قیش، عبدالمتین، سلیم اختر، محمد ہادی رضا عرف ریحان، محمد زاہد رضا عرف حسان،محمد مجاہد رضا عرف عدنان، نادر علی، محبوب عالم، محمد ہاشم رضا عرف دلشان، نور عالم، ڈاکٹر نوشاد اعظمی، محمد آصف رضا، سہراب علی، انسان علی، عبدالکلام، نظام الدین، گودھری محمد فیضان رضا عرف ارسلان، نکہت۔ پروین، نزہت پروین وغیرہ سینکڑوں کثیر تعداد میں مرد و خواتین پروگرام میں شرکت کیے اور پروگرام کے اختتام تک فیضیاب ہوتے رہے۔
۰۰۰۰۰۰۰۰
