سہارنپور( احمد رضا): کمشنری سطح کی معیاری دینی علوم کی درسگاہ جامعہ الطیبات میں پچھلے پندرہ سال سے مسلسل خواتین کی اصلاح کے لئے مختلف تقاریب کا انعقاد ہوتا رہا ہے ان دنوں بھی جا معہ کی اصلاحی تحریک لگاتار جاری ہے اس ضمن میں کل بھی ایک جلسہ میں معلمہ رابعہ طیبی نے کلام اللہ شریف کی تلاوت پیشِ کی  اسکے بعد جامعہ کی درجہ دو کی طالبہ طیبہ ابرار نے نعتیہ کلام پیش کیا جلسہ کا آغاز کرتے ہوئے نغمہ اکرم سہارنپوری نے  سب سے پہلے نماز کی اہمیت و فضیلت پر بیان کرتے ہوے کہا کہ الصلوۃ عماد الدین نماز دین کا ستون ہے جس نے اس ستون کو قائم رکھا اس نے دین کو قائم رکھا جس نے اسے ضائع کردیا اس نے دین کو ضائع کیا، لہذا نماز کا اہتمام کریں۔ جامعہ کی عربی دوم کی طالبہ مبشرہ عبد المجید میواتی نے پردہ کی اہمیت بتلائی کہ پردہ ضروری ہے جس سے گنا ہوں سے بچنا آسان ہوتا ہے کیونکہ نظر ابلیس کے تیروں میں سے ایک تیر ہے۔

جامعہ کی مؤقر معلمہ رابعہ طیبی بنٹوی نے ذکر اللہ کی افادیت پر روشنی ڈالی کہ اذکروا اللہ کہ اللہ کا ذکر کرو اس سے قلب کو سکون ملتا ہے یہی فلاح کا ذریعہ ہے ! معلمہ الفشہ جہاں رحمانی چوک کے یہاں پر بھی  کل اصلاحی پروگرام منعقد ہوا جس میں شفاء فیروز نے تلاوت قرآن پاک کی اور جامعہ کی دورۂ حدیث کی طالبہ ثناء نظر الدین سہارنپوری نے نماز کی فضیلت پر بیان کرتے ہوئے کہا نماز کا جان بوجھ کر چھوڑ دینا آدمی کو کفر کے قریب کر دیتا ہے اسلئے نماز کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔ معلمہ عافیہ رمضانی طیبی نے حیاء کے عنوان پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ حیاء ایمان کا حصہ ہے اور حیاء سراپا خیر ہے لہذا حیاء کرنا چاہیے اور دورۂ حدیث کی طالبہ خوشبو انشاد نے تعلیم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ علم روشنی ہے عمل کیلئے لہذا جہالت کو چھوڑ کر علم کا حصول ضروری ہے تاکہ ہم صحیح عمل انجام دے سکیں کہ جہالت گمراہی کا ذریعہ ہے۔ علاوہ ازیں زنینہ معین الدین حبیب گڑھ کے یہاں پر بھی شاندار اصلاحی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں عالیہ رابعہ کی طالبہ ارم اکرام نے قرآن کریم کی تلاوت فرمائی اور زینب طیبی نے نعتیہ کلام پیش کیا اور دورۂ حدیث کی طالبہ ظروفہ مفتی اشرف اعظم گڑھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا الغیبۃ اشد من الزنا کہ حدیث میں ہے کہ غیبت زناء سے زیادہ سخت ہے لہذا غیبت کرنے سے احتراز کرنا چاہیے اور رمشہ جمشید نے پردہ کی اہمیت پر بیان کیا کہ پردہ اسلامی عورت کی شناخت ہے !

معلمہ شارقہ کی زیر نگرانی پرانا کلسیہ روڑ پر بھی ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں شارقہ جلال آباد ی نے تلاوت فرمائی اور ثناء مستقیم نے نعتیہ کلام پیش کیا عافیہ طیبی نے بیان کرتے ہوئے اسلام کے اہم ارکان نماز و روزہ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور ظروفہ اشرف اعظم گڑھی نے پردہ کی اہمیت سے خواتین کو روشناس کرایا کہ پردہ سے بہت سے گنا ہوں سے بچا جا سکتا ہے اور شارقہ جلال آباد ی نے اولاد کی تربیت میں ماں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ماں کی گود ہی بچہ کا پہلا مدرسہ ہے لہذا اولاد کی بہترین تربیت کریں کیونکہ بچہ کی تربیت میں ماں کا اعلیٰ کردار ہوتا ہے۔ اسی تحریک کے دوران آج بھی ناظرین میم کے یہاں بڑے اچھے انداز میں اصلاحی پروگرام منعقد ہوا جس میں ارم طیبی نے تلاوت فرمائی اور طیبہ ابرار نے نعتیہ کلام پیش کیا اور عرفانہ انوار میواتی نے معاشرہ کے ناسور نشہ کی قباحت بیان کرتے ہوئے کہا نشہ حرام ہے اس سے ہر مسلم مسلمہ کو بچنا ضروری ہے اور علمہ طیبی نے اعمال صالحہ کی فضیلت پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ عمل صالح جنت میں دخول کا ذریعہ ہے اور دورۂ حدیث کی طالبہ بشریٰ نعمان بنٹوی نے کہا پردہ کا اہتمام کریں کہ نظر کی حفاظت انتہائی ضروری ہے کہ نظر سے گناہ کا آغاز ہوتا ہے۔

آخر میں معلمہ گلستاں طیبی جامعہ ہذا کا تعارف کرایا کہ جامعہ میں دینی و عصری تعلیم کا بہترین انتظام ہے دینی تعلیم دورۂ حدیث شریف تک اور عصری تعلیم 12 ویں کلاس تک اور مزید بی۔ اے ۔ایم ۔ اے اوپن کے ذریعہ کرایا جاتا ہے لہذا زیادہ سے زیادہ داخلہ کرائیں، پروگرام میں کثیر تعداد میں خواتین نے شرکت کی اور جامعہ کی اس تحریک اصلاح کی سبھی خواتین نے خوب سراہنا کی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے