کلبرگی 19 / نومبر. (محمدیوسف رحیم بیدری): آپ حضرات اس بات سے بہ خُوبی واقف ہیں کہ انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کی ہر تقریب پُر وقار، یادگار اور منفرد ہوتی ہے. انجمن بلا مبالغہ جنوبی ہند کی ایک معروف اور انتہائی فعال ادبی تنظیم ہے، جو گزشتہ 65 برسوں سے مسلسل اردو زبان و ادب تعلیم و تہذیب کی بقاء کے لئے خدمات انجام دے رہی ہے. ان خیالات کا اظہار محترمہ کنیز فاطمہ قمرالاسلام رکن اسمبلی گلبرگہ شمال و صدر نشین کرناٹک سلک انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ و رکن کرناٹک وقف بورڈنے كیا۔ اور كهاكه انجمن ترقی اُردو ہند گلبرگہ نے آج میرے اعزاز میں جلسہ تہنیت اور ایس ایس ایل سی امتحان اپریل 2024ء میں ضلع گلبرگہ کی سطح پر امتیازی نشانات حاصل کرنے والے طلباء میں ” قمرالاسلام اردو گولڈ میڈل” اور رقمی انعامات کی تقسیم کا اہتمام کیا ۔ میں اس بات سے اچھی طرح واقف ہوں کہ جناب قمرالاسلام صاحب اس انجمن کے سب پروگراموں میں شریک ہوتے اور انجمن کے احباب کی ہمت افزائی کرتے۔ میں یہ بھی جانتی ہوں کہ انجمن کے ایوانِ اردو کی تعمیر میں انہوں نے اپنے فنڈ سے بڑی مدد کی ۔
گزشتہ روز وہ انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کے زیرِاہتمام منعقدہ جلسہ تہنیت و ضلعی سطح کے ایس ایس ایل سی ٹاپر 2024ء کو "قمرالاسلام اردو گولڈ میڈل” و دیگر ٹاپرس میں رقمی انعامات، میمنٹوز اور توصیفی اسناد کی تقسیم کے بعد حضرت خواجہ بندہ نوازؒ ایوانِ اردو انجمن کامپلیکس میں اولیائے طلبہ، سامعین و طالب علموں سے خطاب کر رہی تھیں. انہوں نے انجمن کی قابلِ قدر سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر اکرم نقاش صدر انجمن اور ڈاکٹر ماجد داغی معتمد انجمن کے علاوہ اس پوری ٹیم کو مبارکباد دیتی ہوں کہ انجمن ہمیشہ زبان وادب کے علاوہ طلباء کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک زمانے سے طلبہ میں انعامات کی تقسیم کا عمل جاری رکھا ہے۔ انہوں نے انعام یافتہ طالب علموں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ مجھے بے حد خوشی حاصل ہے کہ میرے شہر گلبرگہ کے وہ طلبہ جو آج انعامات حاصل کئے ہیں شہر گلبرگہ، اپنے اسکولز، اساتذہ اور اپنے والدین کا نام روشن کیا ہے ۔ انہوں نے طالب علموں کی امتیازی حیثیت سے کامیابی میں اداروں، اساتذۂے کرام اور والدین کے کردار محنتوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ "قمرالاسلام اردو گولڈ میڈل” حاصل کرنے والی طالبہ کا تعلق الامین ادارے سے ہے، میں الامین اسکول اور یہاں کے اساتذہ و ذمہ داران کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتی ہوں. ہیومن ایج اردو ہائی اسکول کے چار طلبہ نے انعامات حاصل کئے ہیں، مجھے بے حد خوشی ہوئی میں اس اسکول کی صدر معلمہ، اساتذہ اور اسوسی ایشین کے ذمہ داران کو بھی مبارکباد پیش کرتی ہوں ۔ گورنمنٹ اُردو ہائی اسکول مدینہ کالونی ایم ایس کے ملز ، ثناء اُردو میڈیم ہائی اسکول مدینہ کالونی ایم ایس کے ملز کے طلبہ کو بھی میں مبارکباد پیش کرتی ہوں کہ انہوں نے بھی اپنی امتیازی کامیابیوں سے نیک نامی حاصل کی ہے ۔
انہوں نے قمرالاسلام کی تعلیمی خدمات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ میرے شوہر اور آپ تمام کے قائد انجمن کے جلسوں میں خاص طور پر تقسیمِ انعامات کے جلسہ میں ہمیشہ شریک رہے، علم کے فروغ اور طلبہ کی ہمت افزائی کی. محترم خواتین و حضرات یہاں شہ نشین پر قائدِ اردو و محترم بزرگ جناب وہاب عندلیب صاحب تشریف فرما ہیں، جنہوں نے اس انجمن کو مستحکم بنایا اور آج تک اس ادارہ سے وابستہ ہیں میں ان کو مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ پروفیسر عظیم باشاه صاحب اسسٹنٹ رجسٹرار کرناٹک سنٹرل یونیورسٹی نے بھی بہت اچھے انداز میں آپ کو مخاطب کیا ۔ انہوں نے ریاستی حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میں وزیراعلیٰ مسٹر سدارامیّا جی کی حکومت کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انھوں نے مجھے کرناٹک سلک انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ کا صدر نامزد کیا۔ میں انجمن کے ساتھ ہوں میرا تعاون ہمیشہ انجمن کو حاصل رہے گا۔ میں بے حد مشکور ہوں کہ انجمن ترقی اُردو ہند شاخ گلبرگہ کی کہ اس نے میرے اور فراز الاسلام کے اعزاز میں تہنیت کا اہتمام کیا اور طلبہ میں گولڈ میڈل اور رقمی انعامات سے نوازا ۔
پروفیسرعظیم پاشاہ اسسٹنٹ رجسٹرار کرناٹک سنٹرل یونیورسٹی نے کہا کہ خواتین کی تعلیم پر مسلمانوں کو خاص توجہ دینی چاہئیے پڑھنے والی بیٹیوں کی ہمت افزائی کی جائے اور اعلی تعلیم کے حصول کے لیے شہر گلبرگہ سے باہر معیاری اداروں سے تعلیم حاصل کرنے کے موقعوں پر بھی سنجیدہ فیصلہ لیتے ہوئے ان کے تعلیمی سفر کو جاری رکھنے میں معاون بنیں ۔ انھوں نے کہا کہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت کی بہت ضرورت ہے، والدین سے آپ نے خواہش کی کہ اپنے بچوں کو موبائل سے دور رکھیں۔ موبائل کا غلط استعمال اخلاقی بگاڑ کا ذریعہ بن رہا ہے۔ اخلاق کے بغیر تعلیم بھی ادھوری ہے پروفیسر عظیم پاشاہ نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ زبان سے لا پرواہی نا برتیں ۔ کنڑا زبان سیکھیں۔ صرف انگلش اور اردو ہی کافی نہیں ہیں ریاستی زبان کنڑا بھی ترقی کے لئے ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ غربت حصولِ علم میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے اساتذۂے کرام حکومت سے ملنے والی امداد کے بارے میں والدین اور طلبہ کو واقف کرائیں تاکہ انہیں حصولِ علم میں آسانی ہو. مہمانانِ خصوصی پروفیسر عظیم پاشاہ اور ڈاکٹر وہاب عندلیب سابق صدر کرناٹک اُردو اکاڈمی نے محترمہ کنیز فاطمہ ، جناب فراز الاسلام اور انعام یافتگان کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے دعاوں سے نوازا ۔ جناب فراز الاسلام نے انجمن کی بہتر کار کردگی پر عہدیداران کو مبارک پیش کی انھوں نے کہا کہ قمرالاسلام انجمن ترقی اُردو ہند کو بہت قریب رکھتے تھے اور انجمن کی کارکردگی پر ہمیشہ مسرت کا اظہار کرتے تھے. انجمن ترقی اردو ہند ہمارا ایک اہم ادارہ ہے ہم ہمشہ اس کے کاموں میں معاون رہیں گے ایس ایس ایل سی ٹاپرس کو انھوں نے مبارکباد پیش کی اور انجمن کا شکریہ ادا کیا کہ انجمن نے ان کی عزت افزائی فرمائی. انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ گلبرگہ کے عوام کی بھلائی اور گلبرگہ کی ترقی کے لیے میں دن رات محنت کروں گا ۔ کلے رواں ایجوکیشنل اینڈ چاریٹیبل ٹرسٹ میں مزید تعلیمی شعبہ جات کا اضافہ اور کاپلکس کی خوبصورتی میری ترجیحات میں شامل ہیں. اور میں اس سمت میں کام شروع کرچکا ہوں ۔
صدر انجمن ڈاکٹر اکرم نقاش نے اپنی صدارتی تقریر میں فرمایا کہ قمرالاسلام ، محترمہ کنیز فاطمہ اور جناب فراز الاسلام گلبرگہ کی ترقی کا ایک تسلسل ہیں. انہوں نے ایس ایس ایل سی ٹاپرس اور ہال میں موجود طالب علموں سے کہا کہ وہ آگے بڑھیں اور اعلی تعلیم حاصل کریں تاکہ ہمارا معاشرہ صد فیصد تعلیم یافتہ معاشرہ ہو۔
دریں اثناء محترمہ کنیز فاطمہ قمرالاسلام کو کرناٹک سلک انڈسٹریز کارپوریشن لمیٹڈ کی صدرنشین نامزد ہونے اور جناب فراز الاسلام کو معتمد کلے رواں چارٹیبل ٹرسٹ منتخب ہونے پر انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کی جانب سے ڈاکٹر اکرم نقاش صدر انجمن اور ڈاکٹر ماجد داغی معتمد انجمن نے کنیز فاطمہ اور فراز الاسلام کو شہ نشین پر شال پوشی کے ذریعے عزت افزائی کی اور ان دونوں کو میمنٹوز اور گلدستے پیش کئے گئے بعد ازاں ڈاکٹر اکرم نقاش صدر انجمن نے انجمن ترقی اردو ہند شاخ گلبرگہ کی جانب سے محترمہ کنیز فاطمہ قمرالاسلام کی خدمات کا اعتراف کرتے معزز حاضرین کو سپاسنامہ پڑھ کر سنایا اور محترمہ کنیز فاطمہ قمرالاسلام پیش کرتے ہوئے حکومت کرناٹک کی جانب سے انہیں کرناٹک سلک انڈسٹریز کارپوریشن کا صدرنشین بنائے جانے پر مبارکباد پیش کی۔

جناب امجدجاوید نے ابتدائی تقریر میں فرمایا کہ تعلیم ہی ترقی کا واحد ذریعہ ہے انھوں نے جناب قمرالاسلام اور محترمہ کنیز فاطمہ قمرالاسلام کی شہر کی ترقی کے لیے کی گئیں خدمات کا ذکر کرتے ہوئے تعلیمی ماحول کو بنائے رکھنے میں شہر کے تعلیمی اداروں بالخصوص کے سی ٹی کی ستائش کی آپ نے انجمن کی سرگرمیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ انجمن کا اپنا ایک معیار و وقار ہے جس کا انجمن ہرحال میں خیال رکھتی ہے۔ خواجہ بندہ نوازؒ ایوانِ اردو اور مولانا ابوالکلام آزاد ریسرچ لائبریری کا قیام انجمن کے اہم کارناموں میں شامل ہے۔ جناب ولی احمد نے انجمن کے جلسہ کی غَرَض و غایَت اور مقصدیت پر روشنی ڈالی اور اردو ذریعہ تعلیم کو اختیار کرنے اولیائے طلبہ کو ترغیب دینے میں انجمن کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور مہمانانِ خصوصی کا تعارف پیش کرتے ہوئے معزز حاضرینِ جلسے کا استقبال کیا ۔
محترمہ کنیز فاطمہ قمرالاسلام کے ہاتھوں ضلع گلبرگہ کی سطح پر اول مقام پانے والی طالبہ آمنہ ضحی بنت محمد ایوب الامین اردو ہائی اسکول جیلان آباد کو قمر الاسلام گولڈ میڈل گیارہ ہزار روپے نقد، توصیفی سند اور کتب تفویض کئے گئے . جبکہ صدر انجمن ڈاکٹر اکرم نقاش کے ہاتھوں دوسرا مقام پانے والی طالبہ سیدہ امت الحنان سید عظمت اللہ حسینی ہیومن ایج اُردو ہائی اسکول کو سات ہزار روپئے نقد، توصیفی سند میمنٹو اور کتب عطا کی گئیں۔ اسی طرح تیسرا مقام پانے والی طالبہ الفیہ انجم محمد مبین ثناء اُردو ہائی اسکول مدینہ کالونی ایم ایس کے ملز کو ڈاکٹر ماجد داغی معتمد انجمن کے ہاتھوں پانچ ہزار روپے نقد، میمنٹو، توصیفی سند و کتب عطا کئے گئے.
ترغیبی انعامات میں اقصٰی تحریم محمد محبوب علی الامین خونی الاوہ، محمدی جویریہ بنت جہانگیر ہیومن ایج اردو ہائی اسکول کو دو دو ہزار روپے نقد میمنٹو سندِ توصیف و کتب دی گئیں.
اور زبان اول میں 125 میں سے 125 نشانات حاصل کرنے والی طالبات ثانیہ بیگم گورنمنٹ اُردو ہائی اسکول مدینہ کالونی ایم ایس کے ملز، سیدہ ہادیہ فردوس سید یونس قادری اور انشرح ملک محمد ابرار الحق ہیومن ایج اردو ہائی اسکول کو فی کس دو ہزار روپئے، میمنٹو، سندِ توصیف کتب بطور انعام دیا گیا ۔ مہمانانِ خصوصی پروفیسر عظم پاشا، وہاب عندلیب ، جناب فراز الاسلام ، جناب امجد جاوید اور ڈاکٹر ناصب قریشی نائب صدر انجمن نے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے ۔جناب ولی احمد نے بحسن خوبی نظامت کے فرائض انجام دیں اور حافظ و قاری جناب عبید اللہ کی قرآت و نعت سے اجلاس کا آغاز ہوا، ۔ڈاکٹر اسماء تبسم شریکِ معتمد کے شکریہ پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔ اس بات كی اطلاع انجمن كے ذرائع نے دی هے۔
