تعلیم کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ناممکن: تبارک سلفی
ھارون انصاری
یک شبی دینی، اصلاحی اور تعلیمی بیداری کانفرنس شانتی کے پیغامبر گوتم بدھ کی جائے پیدائش سے متصل پچھم شیوگڑھیا7 لمبنی سانسکرتک نگر پالیکا صوبہ لمبنی میں منعقد ہوا، جس میں ھندوستان اور نیپال کی معتبر شخصیات نے کانفرنس کے دعوت نامہ پر لبیک کہتے ہوئے حاضری دی، علاوہ ازیں اس عظیم الشان کانفرنس میں وزیر گھیمرے مع رفقاء شریک ہوئے۔
واضح رہے کہ کانفرنس کا آغاز بعد صلاۃ عشاء گاؤں سے متصل وسیع عریض میدان میں تلاوت قرآن مجید، حمد باری تعالیٰ اور نعت نبی پاک سے ہوا۔ کانفرنس کے کنوینر افضل احسان اثری استاذ جامعہ دارالھدی یوسف پور سدھارتھ نگر نے صدر کانفرنس شیخ خورشید احمد سلفی سابق شیخ الجامعہ جامعہ سراج العلوم السلفیہ جھنڈا نگر نیپال کی اجازت سے باضابطہ خطاب کا سلسلہ کیا۔
خطبہ استقبالیہ شیخ تبارک علی سلفی نے پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں دیگر اقوام ہم سے ہر میدان میں سبقت لے گئیں اور ہم محکومیت کی زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ ہم نے دنیا کو تعلیم دی اور زندگی گزارنے کے اصول و ضوابط متعارف کروائے اور ہم ہی اس میدان میں سیلاب کے جھاگ کی طرح بہہ رہے ہیں، مسلمانوں کو تعلیم کے میدان میں سرگرداں رہنا چاہئے اور بچوں کا رشتہ مدارس سے جوڑنا چاہئے لیکن افسوس کہ ہم اور ہماری قوم مخرب اخلاق افعال واعمال کے قعر مذلت میں ہیں اور خوشحال،پاکیزہ زندگی گزارنے سے عاری ہے۔انہوں نے کانفرنس کی انتظامیہ کی طرف سے خطبائے کرام، علماء عظام سامعین و سامعات کا صمیم قلب سے استقبال کیا۔
صدر کانفرنس شیخ خورشید احمد سلفی نے خطبہ صدارت میں کہا صالح معاشرہ کی تشکیل میں پاکیزہ تعلیمات کا اہم کردار ہوتا ہے اور اج کانفرنس منعقد ہوا اس کا مقصد تعلیمی بیداری ہے۔
شیخ صلاح الدین مدنی نے اپنے مختصر خطاب میں توحید کو اپنا موضوع بنایا اور انہوں نے کہا کہ توحید کے بغیر جنت کے دروازے نہیں کھلیں گے، توحید کا رشتہ ویسے ہی ہے جیسے جسم کا روح سے، شرک کی آلائشوں سے پاک رہ ہی رب دوجہاں کو خوش کیا جاسکتا ہے، جن کی زندگی شرک وبدعات میں لے پت ہوں انہیں تائب ہوکر معبود برحق کی طرف پلٹ کر آجاناچاہئے تاکہ ان کا مستقبل تابناک اور آخرت بہتر بن جائے، جنت میں داخلے کا انٹری پاس "توحید” ہے۔ عقیدہ توحید کی حفاظت کریں صحابہ کرام کی توقیر کریں، توکل لغیراللہ حرام ہے ، کاہنوں نجومیوں کی دسیسہ کاری سے بچیں۔
محمد عمر سلفی نے کہا کہ یہ دنیا دارفانی ہے اور دارالعمل ہے،جیسا کروگے ویسا کی جزاء روز حشر پاؤگے۔انہون نے اپنی خطاب میں کہا کہ ہماری زندگی وزٹ ویزہ کی طرح ہے۔ اور پرماننٹ ویزہ میدان محشر میں حساب و کتاب کے بعد لگے گا،اگر چاہتے ہو کہ آخروی زندگی بہتر ہو تو نیک عمل کرو اور ہر وہ کام جس سے تمہارا رب خوش ہو۔
نسیم احمد مدنی نے اپنے خطاب میں کہا اے لوگو!اللہ تمہیں جنت کی طرف بلا رہاہے، مغفرت کی طرف دعوت دے رہا ہے،عورتیں بچیاں اپنے وقار منزلت کو پہچانیں، گھروں سے پاپردہ نکلیں، کیونکہ جو خواتین اور بچیاں بن سنور کر زیب وتن کرکے نکلتی ہیں انہیں آوارہ بچے طنز کستے ہیں اور غلط الفاظ سے انہیں پکارتے ہیں،اسلام نے تمہیں عزت دی ہے اس عزت کو پہچانو۔ارتداد دین بڑی بیماری بن چکا ہے جس کی وجہ اینڈروئیڈ موبائیل اور سرپرستوں کی جانب سے کھلی آزادی ہے۔اور مردوں کے شانہ بشانہ رہناہے۔
شیخ پرویز احمد ریاضی نے اپنے پرمغز خطاب میں کہا کہ جس قوم کے پاس اسلام کو پہنچے پانچ سو سال ہوگئے ہوں اسکو اسکے عقیدہ کے بارے میں سمجھایا جائے عجیب سی بات لگتی ہے، انہوں نے بخآری کی لمبی حدیث کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے کہا علماء عظام لعن و طعن کے شکار ہیں جبکہ حال یہ ہے کہ علماء کرام ورثۃ الانبیاء ہیں انکی گرفت اوروں کے بالمقابل زیادہ ہوگی۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام کو خواب کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا جو لوگ قرآن یاد کرکے بھلا دیتے ہیں انکو سر توڑنے کا عذاب دیا جارہا تھا، زناکاروں کو تندور میں عذاب دیا جارہا تھا، جبڑے کو چیرا جارہا تھا وغیرہ وغیرہ، انہوں نے مزید کہا کہ آج کے اس دور میں عورتیں بےلگام بازاروں میں گھوم رہی ہیں اور غیر مردوں کے ساتھ دست گریباں ہوتی ہیں جو عذاب الٰہی کو دعوت دیتی ہیں۔
شیخ سعود اختر عبدالمنان سلفی نے احترام انسانیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا اسلام دین رحمت ہے اس نے بنی نوع آدم کی رشدوہدایت اور اخوت ومحبت کے لئے رحمت للعالمین کوبعوث فرمایا جن کا مشن دعوت ، رحمت اور معبودانِ باطلہ کی رد تھی اور انسانیت کے اندر انسانی تعلیم کا فروغ۔
شیخ عبدالغفار سلفی بنارسی، شیخ ظفر نعمانی مکی ، شیخ محمد حسین فیضی نے بھی اپنے اپنے خطاب سے سامعین کو محظوظ فرمایا۔

شیخ عبدالغفار سلفی کی تقریر کامختصر خلاصہ وتیرہ ناقص ھے۔