مکرمی!
مولانا سجاد نعمانی ہندوستان کے جید و مشہور عالم دین ہیں، جو علم و عمل ،تقویٰ و پرہیزگاری اور ایثار وقربانی میں نمونہ اسلاف ہیں،ایک عالم دین ہوتے ہوئے خانقاہی بزرگان دین کے طریقہ کے مطابق قوم وملت کی اصلاح کا کام ایک خانقاہ سے شروع کیا ،ماشاء اللہ بندگان خدا کی ایک اچھی خاصی تعداد یہاں سے فیض یاب ہورہی ہے جن میں کافی تبدیلی آرہی ہے اس خانقاہ کے روداد کی روشنی میں یہ عرض کرنے کی جسارت کرتا ہوں کہ مولانا نعمانی اس وقت مرجع خلائق ہیں ،وہ اپنے پند ونصائح سے بندگان خدا کے اندر اصلاح اور سماج کو سدھارنے کا انقلاب برپا کررہے ہیں ،اور ہمارے ملک عزیز کو ایک معزز و ایماندار شہری فراہم کر رہے ہیں اور ملک کی تعمیر وترقی میں روز اول سے ایک بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں جس کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔
جہاں تک معاملہ اظہار رائے کی آزادی کا ہے تو یہ حق اس جمہوری ملک میں سب کو حاصل ہے، اس اظہار رائے کی آزادی کو فتویٰ قرار دینا ،ووٹ جہاد کا ہوا کھڑا کرنا میڈیا کی لاعلمی بلکہ جہالت پر مبنی ہے، تو دوسری طرف مولانا نعمانی مختلف تنظیموں سے منسلک ہیں، ان کی رائے کو ’’ کسی تنظیم یا بورڈ کی طرف منسوب کرنا میڈیا کی گھناونی سازش ہے، کیونکہ ہر شخص کو اظہار رائے کی اجازت ہے اس پر میڈیا کا مواخذہ ہونا چاہئے ‘‘۔
ہمارے ہی ملک میں یہ نعرہ آج کل بہت مشہور ہوچکا ہے ’’بٹو گے تو کٹو گے‘‘ ہمارے ایک آدمی کو ماریں گے تو ہم دس مسلمان کو ماریں گے، ہماری ایک دوشیزہ کو اٹھا لے جائیں گے تو ہم سو مسلم دوشیزاؤں کو اٹھا لائیں گے اور ایف آئی آر بھی درج نہیں کرائیں گے‘‘ راتوں رات ووٹوں کی خریداری چل رہی ہے؟ آخر یہ کون سا جہاد ہے؟ اس پر جہاد کا لیبل کیوں نہیں؟
جبکہ ملک کا وزیر اعظم اور ساری ریاستوں کے وزراء اعلیٰ اپنی اپنی پارٹی کے لئے ووٹ کی اپیل کرسکتے ہیں تو مولانا نعمانی کا اپنی رائے کا اظہار کرنا اور کسی پارٹی کے لئے اپیل کرنا کون سا جرم ہے ؟
مولانا نعمانی کی شخصیت نام نہاد میڈیا کی گھناؤنی سازش سے مجروح نہیں ہوسکتی بلکہ اس واقعہ نے تو مولانا نعمانی کی شخصیت کو چاند کی طرح روشن کردیا ہے جو نہیں جانتا تھا وہ بھی مولانا نعمانی کو عاشق سرگرداں کی طرح تلاش میں ہے۔ اس ناعاقبت اندیش میڈیا کی غلط پالیسی سے مولانا کی شخصیت مجروح نہیں ہوتی ہے بلکہ مجلیٰ و مصفیٰ ہو کر دوست و دشمن سب کے سامنے آگئی ہے، مولانا نعمانی کی شان میں عربی شاعر کا ایک شعر نذر کرتا ہوں جس کا ترجمہ ہے کہ ’’ اس کی مثال‘‘ اس پہاڑی بکرے کی ہے جو پہاڑ کو اپنی سینگ مارتا ہے تاکہ پہاڑ کو نقصان پہنچا سکے مگر اس سے پہاڑ کو تو کچھ نقصان نہیں ہوگا البتہ اس کی سینگ ٹوٹ جائے گی۔ یہی آج کل ہمارے میڈیا کا حال ہے، اور مولانا نعمانی کی شخصیت وہ عظیم پہاڑ ہے جو میڈیا کی گھناؤنی سازش اور دشمنوں کی ریشہ دوانیوں سے متزلزل نہیں ہوسکتی!
یہ دستور زباں بندی ہے کیسا تیری محفل میں
یہاں تو بات کرنے کو ترستی ہے زباں میری
آپ کا
مولانا اے،کے،رحمانی
قومی نائب صدر
مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
کسیا، کشی نگر، یوپی
