جامعۃ الفیصل تاج پور، بجنور میں خواتین کا جلسہ اسلامی معاشرہ
تاج پور(بجنور) 27نومبر2024: انسانیت کی تعمیر اور سماج کی اصلاح میں سب سے بڑا رول ایک عورت کا ہے ۔وہ جس طرف اپنے گھر کو لے جانا چاہے لے جاسکتی ہے۔ اس کی گود میں مستقبل پرورش پاتا ہے۔ ہر کامیاب آدمی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ آج مسلم معاشرہ جس بے راہ روی کا شکار ہے اس کی ذمہ دار ہماری خواتین ہیں۔ وہ اپنا کردار بھول گئی ہیں، آج ہماری ماؤں کے پاس اپنے بچوں کو کہانیاں سنانے کا وقت بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنا خالی وقت موبائل پر ڈرامے دیکھنے میں صرف کررہی ہیں، ان ڈراموں کے ذریعہ بے حیائی، باہمی تکرار اور خود غرضی میں اضافہ ہورہا ہے۔ضرورت ہے کہ مسلمان خواتین قرآن و حدیث کے ساتھ ساتھ امہات المومنین کی سیرت کا مطالعہ کریں اور خود کو ان کے سانچے میں ڈھالیں تاکہ ان کی گودوں میں پلنے والے بچے نیک اور صالح ہوں اور ملک و قوم کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرسکیں۔
ان خیالات کا اظہار عالمہ و فاضلہ گلناز سراج صالحاتی نے خواتین کے ایک جلسہ عام کو خطاب کرتے ہوئے کیا۔ خواتین کا یہ جلسہ جامعۃ الفیصل جونئر ہائی اسکول تاج پور میں منعقد کیا گیا تھا۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی مولانا محمد آصف پلاوالا نے کہا کہ خواتین اپنے مردوں کی اصلاح کرنے کا ہنر بھی جانتی ہیں، جب وہ مردوں کو اپنی پسند کے کپڑے اور زیور خریدنے پر مجبور کرسکتی ہیں تو انھیں اللہ و رسول کے احکام پر چلنے کے لیے کیوں نہیں مجبور کرسکتیں۔
مولانا نے کہا کہ آج خواتین کی فضول خرچیوں اور بے جا خواہشات کی وجہ سے کرپشن میں اضافہ ہورہا ہے ،ان کی خواہشات تکمیل کے لیے بعض مرد حضرات نامناسب طریقہ سے دولت کمانے پر مجبور ہورہے ہیں ۔اس لیے خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے مردوں کی جائزآمدنی کے مطابق ہی اپنے گھر کو چلائیں اور اس بات کو یاد رکھیں کہ حرام رزق کا ایک لقمہ بھی جہنم میں لے جانے کو کافی ہے۔
اس موقع پرشیر کوٹ سے تشریف لائیں عالمہ رافعہ طالبہ نے کہا کہ بچے کا پہلا مدرسہ ماں کی گود ہے، بچے کی تعلیم میں ماؤں کا بڑا اہم کردار ہے۔ بعض مسلمان بچے اس لیے بھی تعلیم میں کمزور رہ جاتے ہیں کہ گھر پر والدین کی طرف سے انھیں کوئی مدد حاصل نہیں ہوتی۔ ضرورت ہے کہ ہماری بیٹیاں زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کریں تاکہ ان کی آغوش میں پرورش پانے والی نسل بہتر تعلیم حاصل کرسکے۔
ناظم جامعہ مولانا سراج الدین ندوی نے شرکاء و مقررین کا شکریہ ادا کیا۔ جلسہ کا آغاز قاری عنایت اللہ نے تلاوت قرآن سے کیا۔ قاری محمد فراز نے نذرانہ نعت پیش کیا اور حافظ محمد عمر نے انگریزی جب کہ قاری ابو الحسن نے عربی میں خطاب کیا۔ نظامت کے فرائض مولانا محمد مسعود جمال قاسمی نے انجام دیئے۔ جلسہ میں تین سو سے زیادہ خواتین نے شرکت کی۔
