سہارنپور(احمد رضا): آج جس طرح سے سرکار کی ناک کے نیچے ملک کے آئین کے خلاف قدم اٹھاتے ہوئے عام آدمی کو تنگ اور پریشان کیا جا رہا ہے اور آئین ہند کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں یہ مستقبل کے لئے بہت خطرناک حکمت عملی ہے اس کو روکنا ہوگا کیونکہ ہمارا پاک شفاف آئین ملک بھر کے سبھی لوگوں کو مساوات اور انصاف پانے کے حق اور حقوق دیتا ہے ہمارا آئین ہم سب کے لئے قابل احترام اور لائق تحسین ہے!

ضلع بھر کے مسلم اداروں میں یوم آئین بڑی آن اور شان کے ساتھ منایا گیا پرچم تنظیم کی جانب سے کل یہاں شہر کی مشہور تعلیمی ادارہ ایور گرین اکیڈمی جونیئر ہائی اسکول  پیر والی گلی سہارن پور میں یوم ائین کا انعقادِ۔ بعنوان "آؤ  ائین کو جانیں ” کے طور پر کیا گیا جہاں ہزاروں بچے جوان اور بزرگ آئین کی حفاظت کے لئے عہد لیتے ہوئے نظر آئے!

اس خاص موقع پر مہمان خصوصی  کی حیثیت سے عوام سے خطاب کرتے ہوئے جنتا انٹر کالج کے سابق پرنسپل ستپال سینی نے کہا کہ 26 نومبر 1949 کو ائین کو اپنایا گیا تھا ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کو ہندوستانی ائین کے جنک کے روپ میں جانا جاتا ہے ہندوستان کا ائین 26 نومبر 1949 کو اپنایا گیا بجوریا انٹر کالج سے آئے پون رانا نے کہا   کہ ملک کا ائین 26 جنوری 1950 کو ہی لاگو کیا گیا تھا اور ملک کا ائین بنانے کے لیے  سویندھا نِ سبھا  کو دو سال 11 مہینے اور 18 دن لگے تھے۔

ڈاکٹر قدسیہ انجم نے  کہا کہ ہمارا ائین صِرف قانوں کا ایک دستاویز نہیں ہے یہ ہندوستاں کی روح کا ائینہ ہے یہ ہمیں حقوق کے ساتھ فرائض کی بھی یاد دلاتا ہے اس نے ہمیں  اظہار کی ازادی دی  ہے انیس احمد نے کہاکہ بھارت کے ائین  بنانے  میں   بھیم راؤ امبیڈکر نے خُصوصی  رول ادا کیا انہوں نے یہ طے کرنے کی کوشش کی کہ ہمیں ایک  ایسا ائین ملے جو ملک میں رہنے والے سبھی باشندوں کو برابری کے حق کے ساتھ ساتھ ازادی اور انصاف کے بنیادی حقوق بھی دے سکے۔

تقریب کی صدارت کرتے ہوئے ایور گرین اکیڈمی کے منیجر شان الٰہی شمسی نے کہا یہ دنیا کا سب سے بڑا قلم بند آئین ہے، ہمارا یہ آئین ہندوستان کو ایک  جمہوری ملک  بنے رہنے کا اعلان کرتا ہے، یہاں سبھی لوگوں کو مذہب ذات جنس اور علاقے کے نسبت سے برابری کے حقوق دیے گئے ہیں۔ آئین ہم بھارت کے لوگ سے شروع ہوتا ہے جو ہمیں احساس کراتا ہے کہ ہندوستان کی طاقت اس کی رنگا رنگی ہے۔ آج کے دن ہمیں اپنے آئین کی حفاظت اور اس کی ذمہ داری سمجھنے کی یاد دلاتا ہے۔

ساجدہ شاہد نے بھی خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم سبھی کو یہ عہد لینا ہے کہ ہم سبھی ہر صورت اپنے اس آئین کی حفاظت کریں گے، بشریٰ پروین نے  نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے طلباء اور طالبات کے ساتھ ہاتھ اُٹھا کر آئین کی دیباچہ ہم بھارت کے لوگ پڑھا۔ اس موقع پر بڑی تعداد میں اسٹاف اور طلباء و طالبات  اور شہری موجود رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے