ازقلم ۔ عبدالواجد 

متعلم ۔ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد 

ہندوستان ایک متنوع اور متحمل ثقافت کا حامل ملک ہے، جہاں مختلف مذاہب، اور مختلف قوموں اور مختلف تہذیبوں کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔ ہندو، مسلمان، سکھ ، عیسائی ،جین،بدھ مت اور دیگر مذاہب کے پیروکار یہاں کے سماج کا حصہ ہیں، اور ان مذاہب کے درمیان ہمیشہ ایک خاص قسم کا ہم آہنگی کا رشتہ رہا ہے، تاہم، حالیہ دنوں میں ایک ایسا ماحول پیدا ہوا ہے جس میں مذہبی نوعیت کے تنازعات اور اشتعال انگیزیوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، حکومتوں کی ناکامی اور ان کے خود غرضانہ سیاسی مفادات کے سبب مندر مسجد مزار جیسے حساس معاملات کو ہوا دی جارہی ہے، جس سے ملک میں تنازعات بڑھ رہے ہیں ۔

ہندوستان میں کچھ ایسی درگاہیں اور مذہبی مقامات ہیں جو ہندو مسلم سکھ عیسائی سبھی مذہبوں کے پیروکاروں کے لئے عقیدت کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک درگاہ وہ ہے جو آٹھ سو سال سے موجود ہے اور جسے ہندو مسلمان سکھ عیسائی سبھی عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر حالیہ دنوں میں، اس درگاہ کو ایک خاص مقصد کے تحت ایک خاص تنظیم کے تحت نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ صرف خواجہ کا دربار نہیں، بلکہ ایک ایسا مقام ہے جو ہندوستان کی دھڑکن ہے مختلف عقائد کے لوگ آپس میں مل کر اس بار گاہ میں حاضری پیش کرتے ہیں جس سے بھائی چارے کی فضا قائم ہوتی ہیں۔

خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کی درگاہ ایک ایسی درگاہ ہے جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ ہندوستان کے تمام عقائد کے پیروکاروں کے لیے عقیدت کا مرکز ہے۔ یہ درگاہ ہندوستان کی روحانیت کا اہم حصہ ہے اور یہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنی عقیدت اپنی مرادیں پوری کرنے کے لیے آتے ہیں، جس سے یہاں گنگا جمنی تہذیب کی مثال قائم ہوتی ہے۔

خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ کو آٹھ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے، اور اس دوران انہوں نے اپنے پیغامِ محبت، رواداری، اور امن کو پورے ہندوستان میں پھیلایا

غریب نواز نے ہمیشہ انسانیت کی خدمت کی اور لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے اور محبت سے پیش آنے کی تعلیم دی۔ ان کی تعلیمات نے تمام مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کیا، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی درگاہ میں ہندو، مسلمان، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ اکٹھے آ کر دعا کرتے ہیں۔

لیکن حالیہ دنوں میں، ایک ایسا ماحول پیدا ہو رہا ہے جس میں مذہبی مقامات کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ خواجہ معین الدین چشتی کی درگاہ بھی اس کا شکار ہو رہی ہے۔ بعض سیاسی اور مذہبی قوتیں اس مقدس مقام کو ہدف بنا کر اپنے مفادات کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے نہ صرف وہاں کے عقیدت مندوں کی دل آزاری ہو رہی ہے بلکہ پورے ملک میں مذہبی تناؤ اور فرقہ واریت کو بڑھاوا مل رہا ہے۔

یہ درگاہ نہ صرف درسگاہ نہیں ہے بلکہ اس کا تاریخی اور ثقافتی اہمیت بھی ہے۔ یہاں کی فضاء ہمیشہ امن اور محبت کی فضاء رہی ہے، اور یہ ہر مذہب کے پیروکاروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کا ذریعہ بن چکی ہے اس کے باوجود اگر اس مقدس مقام کو تنازعہ کا شکار بنایا جائے گا، تو اس سے ہندوستان کی جڑوں میں موجود مذہبی ہم آہنگی کی فضا گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہنچے گا۔

مگر، سیاسی مفادات کے تحت اس طرح کے مقامات پر تنازعات کی ہوا دینا نہ صرف مذہبی ہم آہنگی گنگا جمنی تہذیب کو نقصان پہنچاتا ہے، بلکہ پورے ملک پر اس کا اثر پڑتا ہے جب کسی درگاہ یا عبادت گاہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے، تو اس کے اثرات پورے معاشرے پر پڑتے ہیں۔ اس سے نہ صرف عقیدت مندوں کی دل آزاری ہوتی ہے، بلکہ اس سے ملک کے عوام میں نفرت اور تفرقہ بڑھتا ہے، جو کہ کسی بھی قوم کی ترقی کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

اس کے علاوہ، یہ بھی اہم ہے کہ جب حکومت یا سیاسی جماعتیں اس قسم کے معاملات میں اپنی مداخلت کرتی ہیں تو ان کی اصلیت سامنے آتی ہے عوامی جذبات کو بھڑکانے کے بجائے، حکومت کو چاہیے کہ وہ مذہبی آزادی اور بھائی چارے کے اصولوں کا احترام کرے اور اس قسم کے تنازعات سے بچنے کے لیے کوئی خاص قدم اٹھائیں۔ حکومت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ اس کے اقدامات نہ صرف ایک خاص کمیونٹی کی دل آزاری کا سبب بنیں، بلکہ پورے ملک میں امن و سکون کو یقینی بنائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے