مسجد ناصر العلوم اسٹیشن روڈ، صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ یوپی کے امام وخطیب مولانا مقیت احمد قاسمی کا خطبہ جمعہ
گونڈہ : ۶/دسمبر ۲۰۲۴ بروز جمعہ بمطابق ۳/ جمادی الثانی ۱۴۴۶ مسجد ناصر العلوم اسٹیشن روڈ صاحب گنج بڑگاؤں گونڈہ یوپی میں جمعہ کے خطبہ میں مولانا مقیت احمد قاسمی نے بعنوان ہماری اولاد نافرمان کیوں؟ اس موضوع پر خطاب کرتے ہوئے کہا : آج ہمارے معاشرے میں جہاں بہت سی برائیاں پھیل چکی ہیں وہیں والدین کے تعلق سے اولاد کی نافرمانیاں عروج پر ہیں ، ماں باپ کس قدر لاڈ پیار سے اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں، اور دوران ِتربیت کس قدر مشقت اٹھاتے ہیں خود قرآن عظیم الشان کی یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ جس میں اللہ عزوجل نے فرمایا : وَوَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ اِحْسٰنًاؕ-حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ كُرْهًا وَّ وَضَعَتْهُ كُرْهًاؕ-ترجمہ اور ہم نے انسان کو حکم دیا کہ اپنے ماں باپ سے بھلائی کرے، اس کی ماں نے اسے پیٹ میں مشقت سے رکھا اور مشقت سے اس کوجنا ،
مولانا نے ۲۵/ منٹ کےاپنے خطبہ جمعہ کو قرآن کے پندرہویں پارہ سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر ۲۳/۲۴ کی تلاوت اور ترجمے کے ساتھ شروع کیا کہ جس میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے : اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے اُف تک نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے خوبصورت ، نرم بات کہنا۔اور ان کے لیے نرم دلی سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ اور دعا کر کہ اے میرے رب! تو ان دونوں پر رحم فرما جیسا ان دونوں نے مجھے بچپن میں پالا۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث بیان کرتے ہوئے مولانا نے فرمایا : کہ فرمانِ نبویﷺ کے مطابق اگر کوئی چاہے کہ اس کی رزق میں کشادگی ہو اور عمر میں اضافہ ہو تو وہ صلہ رحمی کرے اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے، والدین کی خدمت کرنے پر بڑی بڑی مصیبتیں ختم ہو جایا کرتی ہیں حتی کہ چٹان بھی راستہ دے دیا کرتا ہے لیکن اگر ہم اپنے والدین کو تکلیف دیں گے نافرمانی کریں گے ناراض کریں گے تو حدیث میں ہےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو لوگ اپنے والدین سے ناروا سلوک کرتے ہیں، اللہ ان کو دنیا اور آخرت دونوں جگہ سزا دے گا۔‘‘ یہ بات سو فیصد مشاہدے میں ہے کہ لوگ اپنے والدین کے ساتھ جیسا سلوک کرتے ہیں ان کی اولادیں بڑھاپے میں ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتی ہیں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے اور باپ کی رضا میں اللہ کی رضا شامل ہے۔‘‘
اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جو ماں باپ کو راضی نہ کرسکا وہ اللہ کی خوشنودی سے محروم ہوگیا۔ اور جو اللہ کی خوشنودی سے محروم ہوا وہ جنت سے محروم ہوا۔
والدین کی ناقدری کرنے والوں کی ہلاکت و بربادی کے تعلق سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر چڑھتے ہوئے حضرت جبرئیل امین کی بددعاء پر آمین فرمایا ہے، ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے تعلق سے جب حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ان پر مال خرچ کیا جائے، ان کی اطاعت کی جائے،ان کی خدمت کی جائے، اور ان کے مرنے کے بعد ان کے لئے دعاء مغفرت کی جائے۔
مولانا نے افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا آخر اس قدر تبدیلی اچانک کیسے آگئی کہ بچے ماں باپ کو ٹھوکر مار کر آزادانہ زندگی گزارنے کو ترجیح دے رہے ہیں ، بالغ لڑکے اور لڑکیاں مرتد ہو کر غیر مسلموں کے ساتھ دوستی اور شادی کر کے والدین سے دور ہو رہے ہیں ، تو اس سلسلے میں تین چیزیں بہت ہی اہم ہیں (۱) کس مال سے ہم اپنے بچوں کی پرورش کر رہے ہیں اگر حرام مال سے پرورش کریں گے تو بچے نافرمان ہی ہونگے۔ (۲) ہمارا سلوک خود اپنے والدین کے ساتھ کیسا رہا ہے، اگر ہم اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرے ہونگے یا کر رہے ہیں تو ہمارے بھی بچے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کریں گے، (۳) ہم اپنا محاسبہ کریں کہ ہم اللہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے کس قدر وفادار ہیں، اگر ہم سچے وفادار ہونگے تو ہماری اولاد بھی ہمارے ساتھ وفا کرے گی،
یہ تین چیزیں ہیں ان پر ہمیں عمل کرنے کی ضرورت ہے دعاء تعویذ، دنیا بھر کی نصیحتیں اولاد پر آزما کر تھک ہار چکے ہوں تو خدا را ان چیزوں پر عمل کریں اور اللہ عزوجل سے دعائیں کرتے رہیں ان شاء اللہ ہماری اولاد نافرمانی چھوڑ کر ہماری اطاعت و فرمانبرداری کرنے والی ہوگی، اللہ عزوجل ہمیں قرآن وحدیث کے مطابق زندگی گذارنے کی توفیق عطاء فرمائے آمین۔
