عبدالرحمن راشد عمری
نہ ہوگا ذکر کبھی اس کا اب جیالوں میں
ضمیر بیچ دیا جس نے کچھ نوالوں میں
تمام عمر مظالم رہی ہے جس کی شناخت
وہ جانا جاتا رہے گا انھی حوالوں میں
خوشی کی بات ہے ظلمت کا خاتمہ تو ہوا
الجھ گیا ہے وہ ناداں نئے سوالوں میں
جو شام، شام الم تھا ، تمام عالم میں
پھر آگیا ہے وہی امن کے اجالوں میں
شکستہ بازو ہیں ، لب پر اماں کے نغمے ہیں
ہمارے زخم نہ ڈھونڈو ہمارے چھالوں میں
خیال رکھنا ہے آیندہ کا ہمیں راشد!
بھلا کے قصے جو گزرے گزشتہ سالوں میں
