ڈاکٹر سید افتخارشکیل – رائچور۔ کرناٹک

اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

اس ملک کے گلشن کی تو اک تازہ کلی ہے
تہذیب و ثقافت کے تو رنگوں میں ڈھلی ہے
اُس پر ہے یہ خوبی کہ تو لشکر میں پلی ہے
پھولوں سی نزاکت لئے تلواروں سے کھیلی
اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

تو نے ہی کبھی میر سے اقرار کیا تھا
غالب کو اداؤں میں گرفتار کیا تھا
اقبال کی نظموں سے بہت پیار کیا تھا
تو نے ہی مئے عشق پیالوں میں انڈیلی
اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

سمجھا نہ زمانہ بھی کبھی تیری حقیقت
رستہ نہ کبھی روک سکی تیرا مصیبت
دلی سے تھی نسبت تجھے دکن سے عقیدت
آباد تھی دم سے تیرے غالب کی حویلی
اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

اک وقت تھا عزت تجھے دیتا تھا زمانہ
تاریخ میں روشن رہا تیرا بھی فسانہ
اب تجھ سے لیا جاتا ہے بس گانا بجانا
دلی ہو کہ لکھنو ہو کہ امروہہ بریلی
اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

لوگوں نے تری اصل کو مٹی میں ملایا
اقبال کی نظموں سے بھی کیا کیا نہ چرایا
کیا تجھ کو بنا دینا تھا، کیا تجھ کو بنایا
جب کچھ نہ بنا لکھ دیا غالب کی سہیلی
اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

زلفوں کو تری جس نے سنوارا تو اسی کی
جس نے بھی ترا حسن نکھارا تو اسی کی
جس نے بھی محبت سے پکارا تو اس کی
کنوینروں کی دوست نہ ناظم کی سہیلی
اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

یہ لوگ تو اردو کے وفادار نہیں ہیں
بدلیں گے چلن اپنا یہ آثار نہیں ہیں
اردو کے یہ قاتل ہیں پرستار نہیں ہیں
اردو کے لہو میں ہے سَنی ان کی ہتھیلی
اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

ائے کاش کوئی پھر سے ترا حسن نکھارے
آئینہ بنے داغ ترے رخ سے اتارے
اردو میں لکھے شعر پڑھے اردو میں سارے
اونچا ہو نصیبہ ترا روشن ہوحویلی
اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

مشہور یہاں تیرے فسانے ہیں کروڑوں
دنیا میں ترے اب بھی دوانے ہیں کروڑوں
تو شمع ہے شمع کے ہیں پروانے کروڑوں
نادان ہیں جو تجھ کو سمجھتے ہیں اکیلی
اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

اک بزم شکیل آج چلو ہم بھی سجائیں
پھر نظم کہیں اور غزل کوئی سنائیں
اردو کی فضاؤں میں نئے پھول کھلا ئیں
خوشبوئیں نئی لے کے چلیں بیلا چمبیلی
اردو ہے ترا نام عجب تو ہے پہیلی
دنیا میں تری دھوم ہے پھر بھی تو اکیلی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے