محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ روحانی کارکردگی  
ابو بٹانے کھارہے تھے اور چن چن کر اچھے اچھے کھارہے تھے۔ میں نے ان سے کہا’’بٹانے پورے ہی کھانے ہیں، توپھر چن چن کرکھانے کی کیاضرورت ہے ؟‘‘ابو نے فوری جواب دیا’’بیٹے ، موت تو سبھی کو آنی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ ایک ایک کواٹھاتاہے ، پوروں کو نہیں اٹھاتا، چننا دراصل سماج اورروحانی کارکردگی کاحصہ ہے ‘‘
۲۔ زندۂ جاوید 
’’تم نے رب کو کیسے پہچانا؟‘‘
جواب ملا۔’’ میرے پاس پیسہ ختم ہوجاتے ہیں، تب سوچتاہوں کہ پیسے کس طرح آئیں گے جب کہ پیسوںکے آنے کاکوئی راستہ ہی نہیں ہوتا۔ پھراچانک سے میرے پاس پیسے آجاتے ہیںتو سمجھ لیتاہوں کہ دینے والا موجود ہے۔ اورزندہ ء جاویدہستی ہے ، مجھے زندہ رکھنا اسے ہی آتاہے۔
 ۳۔ بے صلاحیت حریف
اس کوخیال آیاکہ وہ انقلاب لاسکتاہے۔ معاشرے نے ، دوستوں نے اور اس کی خود بیوی نے اس کوا س قدر ستایاکہ وہ اس گاوں سے نکل بھاگا۔ کئی سال تک غائب رہا۔پھر جب منظرعام پر آیاتو وہ اس ملک کامسیحا بن کرسامنے آیا۔
وہ پورے ملک میں انقلاب لاچکاتھا۔ اس کی بیوی ، دوستوں اور اس گاوں کے معاشرے کوجب پتہ چلاکہ سیمٹر ا قحطانی ملک کے سیاہ وسفیدکامالک بن چکاہے تو کسی کو بھی یقین نہیں آیا۔اس کے بارے میں وہ کل بھی بے یقینی کا شکار تھے اور آج جب کہ اس کاسورج نکل چکاتھااور سوانیزے پر تھا، تب بھی وہ اس کی صلاحیتوں کی بابت یقین سے محروم ہیں۔اسی لئے کہتے ہیں، دوست وہ ہوتاہے جوآپ سے اور آپ کی صلاحیتوں سے واقف ہو۔ ورنہ باقی توٹانگ ہی کھینچیں گے۔بھلے بیوی کیوں نہ ہو
۴۔ ناپید 
کئی اذانیں اور کئی نمازیں ایسے ہی گزرگئیں۔ پھر وہ اور اس کی نسل بھی گزرگئے۔ سناہے کہ اس کی نسل سے کسی اور کوپیدا نہیں کیاجانے والا ۔ گویاوہ اور اس کی نسل ختم ہوکر رہ گئی۔ کسی کو اس کانام تک معلوم نہیں ہے۔ اس کی نسل کے بارے میں کوئی کیاجان سکتاہے ؟
۵۔ طاقتِ زوال 
سب نے مل کر سورج پر حملہ کردیا، جو چیز ملی اس سے سورج پر حملہ کردیا۔ آخرکار جلتے ہوئے اُس انگارے کو آسمان سے اتار لیاگیا۔ تب اُسے پتہ چلاکہ سب سے بڑی طاقت زوال ہے۔ اور اس طاقت سے بچ کر چلناچاہیے۔
۶۔ حماقت نہیں
عرصہ بعد ملاقات ہوئی۔ دیکھا ہاتھ میں گرمی کاشائبہ نہیں تھا۔ ہاتھ سرد بھی نہیںتھا۔ لیکن آگے بڑھائے گئے ہاتھ نے شرمند ہ کردیاکہ واقعی وہ ایک بڑا آدمی ہے، اسی لئے تو ہاتھ ملانے کے لئے اپنامصروف ترین ہاتھ ہماری جانب بڑھارہاہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہم نے بھی کبھی خود کو بڑا سمجھنے کی بھول نہیں کی۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ نے وہ مادہ ہی نہیں رکھاتھاکہ خود کوبڑا سمجھ بیٹھنے کی حماقت کرتے۔
۷۔ خوش مزاج ڈاکٹر
  ڈاکٹر صاحب نے کھاناکھلاناشروع کردیاتھا۔ ان کے دفتر پر لنچ کے وقت کوئی بھی آکر کھانا کھاسکتاہے۔ سنا ہے کہ شہرکے غریب ترین امیر ان کے ہاں لنچ کے لئے پہنچ جاتے ہیں اور ڈاکٹر صاحب ان کی آمد سے خوش ہوجاتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے