نان پارہ، بہرائچ (محمد رضوان گوہر ندوی): قصبہ نان پارہ کی ممتاز علمی شخصیت، صاحب نسبت عالم دین اور بانی اقامتی دینی ادارہ جامعہ خیر العلوم مولانا محمد احمد قاسمی کے سانحہ ارتحال پر دینی مدارس میں تعزیتی جلسوں اور دعاء مغفرت و ایصال ثواب کی تقریبات کے انعقاد کا سلسلہ جاری ہے، قصبہ کے قدیم تعلیمی ادارہ انجمن اسلامیہ بحر العلوم میں منعقد تعزیتی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد افضل ندوی نے کہا کہ مولانا محمد احمد قاسمی رحمۃاللہ علیہ علاقے میں تعلیمی بیداری کے لئے ہمیشہ کوشاں رہے، روایت سے ہٹ کر بالکل جداگانہ نہج پر انھوں نے خیر العلوم کو قائم کیا، ابجد ہوز کے علاوہ شروع ہی سے انھوں نے علاقے کو پہلی مرتبہ 1982 میں یہ یاد دلایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم کے ساتھ ذکر الہی، تزکیہ نفس اور دینی تربیت کے لئے ہر موقع پر دعاؤں کا خاص اہتمام فرمایا ہے، اسی لئے انھوں نے جمعرات کو نصف آخر وقت میں صرف دعاؤں کے مذاکرہ کا حلقہ لگوایا تاکہ بچے بچپن سے ہی آداب اسلامی اور دعاؤں کے اہتمام کا معمول بنائیں، انھوں نے ہمیشہ اس بات کی تلقین کی کہ تمام ادارے آپس میں رفیق بن کر کام کریں، فریق قطعی نہ بنیں، مولانا وقار احمد قاسمی نے تفصیل سے اپنے تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ استاذ محترم مولانا محمد احمد قاسمی بڑے باذوق علمی انسان تھے، انھوں نے وسعت علم اور فروغ تعلیم کے لئے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا، ایسی ایسی نادر اور قیمتی کتابیں انھوں نے مدرسہ کی لائبریری میں جمع کر دیا جو بسا اوقات آس پاس کے کئی اضلاع کے کتب خانوں میں موجود نہیں ہیں، وہ ہر کتاب کا گہرائی کے ساتھ بالاستیعاب مطالعہ فرماتے تھے، درسیات میں بہت سی کتابوں کے وہ حافظ تھے، ان کے پاس چند منٹ کے لئے کوئی پہنچ جائے تو وہ لا یعنی چیزوں میں اپنا اور اس کا وقت برباد کرنے کے بجائے براہ راست کسی نہ کسی بہانے سے کوئی علمی سوغات اور قیمتی معلومات سے اس کا دامن و ظرف بھر دیتے، پھر اسے دعاؤں کے ساتھ رخصت کرتے، علم کا سمندر تھے، کسی کو کسی مسئلے میں معمولی اشکال ہوتا تو وہ ہر پہلو سے مضبوط استدلال کے ساتھ اس کا حل پیش فرماتے، مطمئن کرنا بہت اچھا پہلو ہے کسی کے قریب آنے کا لیکن وہ تو مالامال کردیتے تھے، ایسا لگتا تھا جیسے علم کے موتی لٹا رہے ہیں، شہر کے کئی اہم مسائل کو سلجھانے میں ان کی تبحر علمی اور دور اندیشی کا کلیدی کردار رہا ہے، وہ کسی کی دینی اور علمی رہنمائی کے لئے ذرہ برابر بخل سے کام نہیں لیتے تھے، ان کا درس قرآن محض روایتی درس قرآن نہیں ہوتا تھا بلکہ اس میں حاضرین و سامعین کے دکھ درد کا علاج بھی شامل ہوتا تھا، وہ اپنی گہری نگاہ سے فورا بھانپ لیتے تھے کہ اس مجلس میں کیسے کیسے لوگ ہیں اور ان کو کس چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے، پھر عین موافق آیات قرآنی کا انتخاب فرماتے اور ان کی بر وقت پیاس ہی نہیں بجھاتے بلکہ سیراب کر دیتے.
مولانا محمد احمد قاسمی رحمۃ اللہ علیہ کے جانشین اور ان کے خطیبانہ جوہر کے امین و وارث جامعہ خیر العلوم کے نائب مہتمم مولانا محمد سالم قاسمی نے آبدیدہ ہو کر فرمایا کہ حضرت والد کی شخصیت ہمہ جہت اور ہمہ گیر تھی، ہمارے خاندانی حالات، شرک و بدعت اور رسم و رواج اور خرافات کا ماحول ، دادا جان کی ہمت جس میں ان کا خاندانی بائیکاٹ ہوا، حقہ پانی بند ہوا، ان کو بے دین کہا گیا اور ان کا راستہ ہر جہت سے روکا گیا، جب ہر پہلو سے جائزہ لیا جاتا ہے تب پتہ چلتا ہے کہ والد صاحب نے حصول علم کے لئے کیا کیا قربانی دی، پھر جب حاصل کرکے سماج میں آئے تو کس نہج پر لگن اور اخلاص کے ساتھ کام کیا، مدنی خاندان سے ان کا عشق، اکابر و علماء کی قدردانی، مدرسہ اور مسجد کے لئے ان کی تڑپ، دعوت و تبلیغ کے لئے پیہم کوشش،اپنوں اور بیگانوں سے ملنے ملانے اور ان کے حق میں مفید تر ثابت ہونے کا فن، درس و تدریس کا البیلا و موثر طریقہ، طلبہ کے ساتھ ان کا لگاؤ جیسے بہت سے روشن پہلو ہیں زندگی کے جن پر روشنی ڈالنا تفصیل طلب ہے، لیکن ان کی زندگی کا ہر باب ایک بہترین نمونہ ہے.
مدرسہ مظہر العلوم کالونی میں منعقد تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فاروق احمد قاسمی نے کہا کہ ان کی تربیت کا انداز بہت نرالا تھا، مولانا رفیق احمد قاسمی نے کہا کہ مولانا جب فارغ ہو کر آئے تو علمی حلقوں میں ہلچل سی مچ گئی، انھوں نے تعلیم کے میدان میں زبردست پیش رفت دکھائی، بہت دور دور سے طلبہ ان کے ادارے میں کھنچے چلے آتے تھے، بہار، بنگال، آسام اور دیگر صوبوں سے آکر طلبہ نے اپنی علمی پیاس بجھائی، اطراف کے درجنوں گاؤں سے طلبہ کی ایک بڑی تعداد روزانہ آجا کر اکتساب فیض کرتی تھی، مولانا الیاس قاسمی نے کہا کہ وہ صاحب بصیرت عالم دین تھے، نان پارہ کی سرزمین اس نقصان کی آسانی کے ساتھ نہیں کر پائے گی، مولانا محمد احمد قاسمی کے دیرینہ رفیق مدرسہ رشیدیہ رکنا پور کے مہتمم مولانا اشتیاق احمد قاسمی نے کہا کہ میں نے مولانا مرحوم کے ساتھ 54 سال بتائے، دس سال زمانہ طالب علمی میں اور 44 سال تدریسی ذمہ داریوں میں لیکن ان کی طرف سے کبھی کسی بات کو لے کر دل میں تنگی نہیں پیدا ہوئی، نصف صدی سے زائد کی رفاقت ہی ان کی اعلی ظرفی اور بلند اخلاقی کی بین دلیل ہے، ان میں ایک بات خاص اور قابل تقلید وصف تھا کہ ان کی کسی مجلس میں غیبت نہیں ہوتی تھی، وہ سارا وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ آنے والے کا وقت ضائع نہ ہونے پائے اور وہ زیادہ سے زیادہ اپنے دامن حیات کو گوہر علم سے مزین کرلے. اس کے علاوہ ایک تعزیتی نشست تحصیل دار والی مسجد میں منعقد ہوئی، اور آس پاس کے متعدد مدارس و مکاتب میں دعاء مغفرت اور ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا۔
ممتاز علمی شخصیت مولانا محمد احمد قاسمی کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی نشستوں کا سلسلہ جاری
