بسواکلیان میں جماعت اسلامی ہند کے قرآن پروچن کاپہلادن ، ہزاروں مسلم وغیرمسلم بھائیوں کی شرکت
بیدر۔ 13؍ڈسمبر (محمدیوسف رحیم بیدری): آج 13؍ڈسمبر جمعہ کو جماعت اسلامی ہندبسواکلیان کی جانب سے ہر سال منعقد کئے جانے والے سہ روزہ قرآن پروچن کاپہلا دن تھا۔ جس میں ہزاروں مسلمان اور برادرانِ وطن نے شرکت کرتے ہوئے 9ویں سال بھی ’’قرآن پروچن‘‘ سے اپنی دلچسپی کااظہار کیا۔ ابتدائی تقریب میں ڈاکٹر سعدبیلگامی امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک شری مکل جین IAS، اسسٹنٹ کمشنر بسواکلیان، سابق ایم ایل سی وجے سنگھ ، ڈاکٹر عبدالقدیر چیرمین شاہین ادارہ جات بیدر ،ڈاکٹرشیوانند مہاسوامی گروبسویشورسمستھان مٹھ ہلسور، اور دیگرکاخطاب رہا۔
دیگر مہمانان میں شری ہواملی ناتھ ، شیوانند میترے تحصیلدار ، دتاترے گاداتحصیلدار، جناب محمد اسلم امیرمقامی جماعت اسلامی ہند بسواکلیان اوردیگرشامل رہے۔ بعدازاں جناب محمد کنہی سکریڑی JIHکرناٹک نے سہ روزہ قرآن پروچن کے پہلے دن سے ہرسال کی طرح امسال بھی خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بسونا کی زمین پر 9واں قرآن پروچن پروگرام ڈاکٹر سعدبیلگامی امیرحلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک کی زیرصدارت منعقدکیاگیاہے۔ شہ نشین پر بیٹھے ہوئے معززین اور یہاں موجود تمام شرکاء کے لئے شانتی اور فضل اللہ سے مانگتاہوں۔ انھوں نے آگے کہاکہ اس تقریب میں ہرسال مرد و خواتین حصہ لیتے ہیں۔ اگر ہم دنیا کو دیکھیں تو دنیا کی ترقی اس قدر ہے کہ فاصلے کم ہوگئے ہیں۔ ایک ملک سے دوسرے ملک کے فاصلے گھٹے ہیں۔ آسمان کل تک دور تھا، قریب ہوچکاہے۔ شہر سے شہر کے فاصلے قریب آگئے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ انسان کے درمیان انسان کے فاصلے بھی آیاکم ہوئے ہیں؟ اس کاجواب دینا آسان نہیں ہے۔ موصوف نے بڑی دردمندی سے کہاکہ پہلے کے مقابلے بے شمار سہولتیں انسانوں کودستیاب ہیں۔ لیکن افسوس کہ ہر دن ہم دور ہورہے ہیں۔ ہردن ہمارے تعلقات ایک دوسرے سے خراب ہوتے جارہے ہیں۔ ہمیں قریب آنا چاہیے۔ ہمارے ذہن اور ہمارے دل قریب آئیں۔ ہرطر ف دیکھیں، تنقید ہورہی ہے۔ مذہبی بڑوں کااپمان اور مذہبی کتابوں کی بے حرمتی کی جاری ہے۔ ایسے میں ’’قرآن پروچن ‘‘ پروگرام تمام کے لئے ایک اہم پروگرام ہے۔ لیکن ہم صرف پروگرام تک محدود نہ رہیں۔ اس سے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کے تعلقات کو مضبوط کریں۔ اور سہ روزہ پروگرام میں جو باتیں ہورہی ہیں، ان پر غور کریں۔مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ جیسا اہم ملک ہمارے قریب آچکاہے لیکن پڑوسی دور ہوچکاہے۔ ہم اخلاقی لحاظ سے بھی کمزور پڑچکے ہیں۔ اس کو طاقتور بننے کے لئے سماج میں مہم چلانا چاہیے۔،
جناب محمد کنہی نے کہاکہ قرآن کا ایک ہی پیغام ہے کہ انسان اور انسانیت اہم ہے۔ دھرم کاسندیش اہم ہے۔ مذہبی اقدار پر مبنی سماج کی تعمیر ہو۔ کسی بھی دھرم گرنتھ کوہم پڑھتے نہیں ہیں۔ تمام دھرم گرنتھ انسانیت کو بڑا مانتے ہیں۔ کیوں کہ انسان کو خالق نے بنایاہے۔ قرآن نے صاف کہہ دیاہے: اے انسان! تجھے میں نے اپنی عبادت کے لئے پیدا کیاہے۔ وید اور اپنشد نے بھی خدا کا تعارف کرایاہے۔ بسونا نے بھی خدا کاتعارف کرایا۔ وویکانند ، نرائن گرو نے بھی خدا سے تعلق کی بات کہی۔ قرآن کہتاہے: اس خدا کی عبادت کیاکرو جوتمام انسانوں کوپیدا کرنے اور پالنے والا ہے۔ قرآن کے بارے میں خود قرآن کہتاہے ’’یہ قرآن کا پیغام تمہیں سیدھا راستہ بتلاتاہے‘‘ ہماری زندگیوں کو پیغام دیتاہے۔ ہمیں آپس میں اچھا رہنے کی تعلیم قرآن دیتاہے۔
سہ روزہ قرآن پروچن پروگرام کا مول سدھانتھ یہ ہے کہ قرآن کہتاہے: ہم نے انسان کوعزت دی ہے۔ ذات، دھرم، لنگ، کی بنیاد پر نہیں بلکہ ہر انسان کی اہمیت اس کے کرم کے حوالے سے ہے۔ جوابدہی اہمیت رکھتی ہے۔ لاالہ الا اللہ ، کہہ کر ایک کرانتی کاری اعلان کیا۔ کہاکہ کوئی دیورو نہیں ہے، ایک اللہ کے سوا۔ تم کسی کے داس اور غلام نہیں ہیںسوائے اللہ کے۔ اللہ مسلمانوں کا ہے ایسا تعارف قرآن نے نہیں کرایاہے۔ وہ اللہ سبھی کااللہ ہے۔ اسی نے انسانوں کو پیدا کیاہے۔سہ روزہ قرآن پروچن کاآغازحافظ فرخندہ علی امام جامع مسجد بسواکلیان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ افتتاحی کلمات الطاف امجد آرگنائزر قرآن پروچن نے پیش کئے۔ تقریب کے فوری بعد تمام شرکاء کے لئے طعام کا بہترین نظم دیکھنے کوملا۔ پولیس کامعقول انتظام تھا۔
