مکرمی!
سپریم کورٹ نے تحفظ قانون مساجد کے تحت جو فیصلہ کیاہے، وہ ایک تاریخی اور اہم فیصلہ ہے، اس کاہم خیر مقدم کرتے ہیں،اس بنچ کو سلام کرتے ہوئے خراج تحسین پیش کرتے ہیں،جمعیت علماء ہند کی عبادت گاہوں کے تحفظ قانون سے متعلق عرضی میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اپنے اہم فیصلہ میں تاحکم ثانی مساجد اور درگاہوں کے سروے پر روک عائد کردی ہے، آج چہار جانب اس کا خیر مقدم ہورہا ہے، کیونکہ اس فیصلہ نے ملک میں بگڑتے ہوئے حالات اوربڑھتی ہوئی منافرت پر شکنجہ کسنے کاکام کیا ہے، اس سے جہاں منافرت میں کمی آئے گی وہیں پیار ومحبت میں اضافہ ہوگا، جس کی آج ہمارے ملک کو شدید ضرورت ہے، کل تک توسروے کی ایسی آندھی چل رہی تھی جس سے محسوس ہورہا تھا کہ ہمارا ملک بڑی تیزی سے خانہ جنگی کی طرف بڑھ رہا ہے جو ملک میں پیار ومحبت کے سارے تانے بانے کو مسمار کرتا نظر آرہا تھا، اللہ کاشکر ہے عدالت عظمیٰ کے اس اہم فیصلہ نے اقلیتوں کے متزلزل اعتماد کو تقویت پہنچائی،یقینا یہ ایک اہم اور تاریخی فیصلہ ہے، آئندہ بھی سپریم کورٹ سے یہی امید ہے کہ حق وانصاف پر مبنی فیصلہ کرتارہے گا اور آزادی کے ساتھ اپنے خیالات وخدشات کا اظہار کرتا رہے گا۔
مولانا اے.کے. رحمانی
قومی نائب صدر مسلم پولٹیکل کاونسل آف انڈیا
حجاز منزل ، کسیا،کشی نگر،یوپی
