محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ مناسب بیان ؟!
ظلم گفتگو کے ذریعہ کیاجائے یا تشددکے ذریعہ ، یاپھر اشاروں کنایوں کی زبان میںظلم ہو، اگر برداشت کرسکتے ہوتو دنیا میںخوشی خوشی رہ سکتے ہو، نہیں برداشت کرسکتے توپھرتم اپنا خدا حافظ سمجھیں۔
جس نے بھی کہاتھاسچ ہی کہاتھا۔ ظلم کوبرداشت کرنا ہی ایک سیوئلائزڈ معاشرے میں جینے کاطریقہ ہے ۔ اَن سیویلائزڈ معاشرے میں البتہ ظلم کاجواب جوابی ظلم سے دیاجاتاہے۔ کیا اس بیان میں کوئی خامی ہے یابیان مناسب ہے ؟
۲۔ قتلِ خواہ مخواہ (سچے واقعہ سے متاثر ہوکر ) 
وہ اپنے شوہر کو قتل کرناچاہتی تھی ۔ میں نے صاف کہہ دیاکہ’’قتل کے بعد تو گرفتار کرلی جائے گی‘‘ وہ بولی’’ میں چاہتی ہوں، میں گرفتار نہ کی جاؤں ۔ میریبجائے میراعاشق یعنی میراجیٹھ گرفتار ہو‘‘
میں نے حیرانی سے پوچھا’’اس کامطلب کیاہوا؟‘‘ وہ بڑے لگاوٹ سے بولی ’’ اس کامطلب جو بھی ہو، مجھے اس گھر سے بچ نکلناہے‘‘ میں نے کہا’’اس قدر قتل وتل کے بجائے شوہر سے طلاق لے لے، اس طرح تواس گھر سے بچ نکلے گی‘‘وہ بولی ’’ہم ہند وہیں ‘‘ پھر اس کو غصہ بھی آگیا۔
اس نے کہا’’میں یہاں مشورہ لینے نہیں آئی ہوں ، تجھے اس قتل میںمیری مدد کرناہے اور بس ‘‘ میں نے بھی سوچا کہ اس کو سمجھایانہیں جاسکتا،اور سمجھاکر اپنا گراک کیوں کھوٹا کرنے کا۔کہناپڑا
’’اوکے‘‘۔ اس کے شوہر کاقتل کردیاگیا، جیٹھ گرفتار ہوچکاہے اور وہ بھی۔ میں اس وقت فرار ہوں ،قتل میں مددکرنے والے کی پولیس کو تلاش ہے۔
۳۔ سرما ئی موسم 
سردی بہت زیادہ ہونے سے کیاہوگا؟ گرمی بھی بہت زیادہ ہوسکتی ہے۔ تمہارے اپنے مزاج پر منحصر ہے کہ کس موسم میں زیادہ آرام سے رہ سکتے ہو، اپنے پسندیدہ موسم میں آرام سے رہیں لیکن جس موسم سے تکلیف ہوتی ہے عین ممکن ہے کہ وہ موسم دوسروں کواچھالگے۔ جیسے بارش کاموسم ۔ تمام دیوانے اس موسم کے شیدائی ہوتے ہیں۔ اچھا، نہیں ہوتے۔ تودوسرے کسی موسم کے شیدائی ہوتے ہوں گے ۔ ہے نا۔پھر ؟۔۔۔۔ موسم نعمتوں کی ذیل میں آتے ہیں ، مجھ سے زیادہ آپ سمجھدار ہیں۔ ان نعمتوں سے استفادہ کریں ۔ ورزش پر دھیان دیں ۔ خشک میوہ جات کااستعمال کریں ۔
۴۔ گول زندہ باد
دنیا پوری طرح گول ہے ، اس کاثبوت یہ ہے کہ انسان کوکوئی کونانہیں ہے۔ ہرطرف سے وہ گول ہے۔ سرگول ہے ، انگلیاں گول ہیں، ناک لمبی اور گول ہے۔ گردن ، پیر، پیٹ سبھی کچھ گول یاآدھا
گول ہے۔ لیکن باقی آدھا کاکوئی کونانہیں ہے۔اب تو سمجھ گئے کہ دنیا ہی گول نہیں ہے بلکہ گول گول آنکھیں رکھنے اور گھمانے والا انسان بھی گول ہے۔ توپھر بولو ’’گول گول گول ، زندہ باد ۔ ہمارا گول زندہ باد ‘‘
۵۔ خدائی کے خواہاں 
میری جس سے دوستی ہے، وہ بھی اسی شہر سے وابستہ ہے۔ کیاکیاجائے؟ اتنی طاقت تو ہے نہیں کہ متعلقہ شہر کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اس شہر کوخاک آلود کردیاجائے ؟ لہٰذا خاموشی میں سبھی کی عزت ہے۔ لوگوں کاکام گالی بکناہے، بکنے دیںگالی۔
شیرکوشکار سے مطلب ہوتاہے اور شیرایک کامیاب شکاری ہوتاہے۔ سمجھے نا ؟ یاپھر شکار کرنا پڑے گا۔ نہیں نا۔ وہی کہہ رہاہوںکہ دشمن کے علاقے سوکھے کی لپیٹ میں آناچاہیے۔ اور ہماراگلہ ہمیشہ تر رہے۔ ترگلوں میں زندگی کا مزا الگ ہوتاہے۔ مؤرخ لکھتاہے کہ اسکے بعد وہاں بہت کچھ ٹوٹ پھوٹ گیا۔ بہت کچھ ختم ہوگیا۔ لیکن انسان کے خدا بننے کی خواہش کم نہ ہوئی۔ لاحول ولاقوۃ
۶۔ کامیاب زندگی کا راز
دھیرے دھیرے چلنے سے منزل مل جاتی ہے۔ یہی سبق ہم نے سناتھااپنے اساتذہ سے ۔ آج ہم گلیوں سے باہر نہیں نکل سکے ۔ اور بیک بنچرس ہم سے آگے نکل کر ریاستی شاہراہ پہنچ چکے ہیں۔ ایک دو وہ ہیں جنہوں نے قومی شاہراہ پر اپنا سفر شروع کردیاہے۔
غلطی ہمارے اساتذہ کی نہیں ، ہماری ہے کہ ہم نے اساتذۃ کی بات کو درست مان کردھیرے دھیرے چلنا شروع کردیا۔ کاش کہ نئی نسل اپنے دل ودماغ اور نئی آنے والی تکنیکی مشینوں پر بھروسہ کرتے ہوئے اپناسفر شروع کردے تو یقین ہے کہ وہ اپنی سسکتی رینگتی زندگی میں کامیاب ہوجائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے