معذور سماجی خدمت گار خواجہ فریدالدین انعامدار کی جانب سے تہنیت اور 25سالہ اظہار تشکر
گلبرگہ ۔ 21؍ڈسمبر (راست): شہر گلبرگہ کی سب سے محترم اور سادات شخصیت جناب حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب سجادہ نشین، درگاہ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودراز (رح) اور چانسلر خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی گلبرگہ و صدر خواجہ ایجوکیشن سوسائٹی گلبرگہ شریف کی دیوڑھی شریف پہنچ کر محب ِ اردو ، سماجی خدمت گاراورایک پاؤں سے معذور وظیفہ یاب محکمہ پولیس جناب خواجہ فریدالدین نے ان کی شالپوشی اور گلپوشی کرتے ہوئے ان کی خدمت میں اپنے پاؤں کاٹے جانے کے سلورجوبلی سال (25سال) ختم ہونے پر ایک مکتو ب بطور ِ تشکر دیا ہے جس میں تحریر کیاگیاہے کہ میں خواجہ فرید الدین ولد خواجہ بہاؤالدین، ساکن گلبرگہ آپ اور آپ کی کامیاب طبی خدمات کااس مکتوب کے ذریعہ کرتا ہوں۔ میں ایک ریٹائرڈ پولیس اہلکار ہوں اور سروس کے دوران جب میرا پاؤں کاٹ دینے کی نوبت آئی تومیں خواجہ بندہ نواز ٹیچنگ اینڈ جنرل ہسپتال، خواجہ نگری، بلاک- ڈی، اسٹیشن روڈ، گلبرگہ میںداخل کیاگیا۔ میرا آئی پی نمبر 00897 تھا۔اور میراداخلہ 27-02-1999 کوکیاگیا اورمیری 01.03.1999 کو میری بائیں ٹانگ گھٹنے کے اوپر سے کاٹ کر میرے جسم سے علیحدہ کردی گئی ۔ میرے پیر کی سرجری ڈاکٹر A.H. Baogi M.S. آرتھو اور مرحوم ڈاکٹر مقبول احمد سگری نے کی۔دوتین سابقہ ڈاکٹروں نے کہاتھا کہ سرجری کے بعد میں شاید ہی زندہ رہوں گا۔آپ کے کے بی این اسپتال نے میری ٹانگ کی کامیاب سرجری کی تھی اور اس سرجری کے بعد میں بلامبالغہ خوشگوار زندگی گزار رہا ہوں اور 01.03.2024،کومیری سرجری کی مدت کے 25 (پچیس) سال مکمل ہو چکے ہیں، اوران 25 سال گزرنے کے بعد بھی اللہ کے فضل وکرم سے میں خود کو اور زیادہ صحت مند محسوس کررہا ہوں۔ جس کے لئے میں اور میرا خاندان ہمیشہ آپ کے شکر گزار رہیں گے۔ میں یہ خط احترام اور شکر گزاری کے جذبہ کے سبب آپ کی جناب میں پیش کر رہا ہوں جس کے ذریعہ آپ کے خواجہ بندہ نواز اسپتال کی تعریف مقصود ہے ایک کامیاب ترین سرجری کی بدولت پچیس سال کا طویل عرصہ مکمل کیاگیا۔اس شکرگذاری میں میرے ساتھ میرا چھوٹا لیکن ہونہار فرزندخواجہ سراج الدین انعامدار بھی میرے ساتھ موجود ہے۔ جناب خواجہ فریدالدین انعامدار نے ایک اور مکتوب بطور ِ اظہار تشکر فریم بناکر ڈاکٹر سید مصطفیٰ الحسینی ڈائرکٹر آف خواجہ بندہ نواز ایجوکیشن سوسائٹی گلبرگہ کی جناب میں بھی پیش کیا۔ اس موقع پر خواجہ فریدالدین انعامدار نے سجادہ نشین جناب حافظ سید محمد علی الحسینی صاحب کو بتایاکہ 26؍فروری 1999ء کو نظام انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنس کے Dr Pinjala RamKrishna , Vascular Surgeon نے میرا پیر کاٹنے سے انکار کرتے ہوئے کہاتھاکہ آپ کرناٹک اسٹیٹ کے پولیس ملازم ہواور آپ وسکیولر ڈیسیز ہائی رِسک مریض ہو۔ میں گلبرگہ کے سرکاری دواخانہ کے لئے ریفرکرتاہوں لیکن سرکاری اسپتال جانے کے بجائے خواجہ بندہ نواز ٹیچنگ اینڈ جنرل اسپتال گلبرگہ میں داخل ہونا پسند کیا۔ پھر یہاں الحمد للہ ، کامیابی کے ساتھ میرے بائیں پیر کو گھٹنے کے اوپر سے آپریشن کے ذریعہ نکال دیاگیا۔ اس بڑے آپریشن کی کامیابی پر میں رب کریم کاشکر گذار ہوں ۔ اوربلاشبہ حضرت خواجہ بندہ نوازگیسودراز بلند پروازؒ کا مجھ پر خصوصی فضل رہا۔اس حادثہ کے باوجو دبھی آج میں ایک فعال سماجی خدمت گزار ہوں ۔ 525سے زائد اسکولوں تک پہنچ کر میرے وظیفہ کی رقم سے وہاں کے طلبہ وطالبات کو اردو ، انگریزی اور کنڑی قواعدکی ہزارہا کتابیں مفت تقسیم کرچکاہوں اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ جس کا 14سالہ صحافتی اور تصویری ریکارڈ میرے پاس موجودہے۔ یہ سب آپ کے مثالی بزرگ اور ہم سب کے حضرت خواجہ بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ کاخصوصی فضل اور میرے خاندان کے دیگر تمام بسابزرگوں کی دعاؤں کانتیجہ ہے کہ سماجی خدمت کرتے ہوئے گلبرگہ ضلع انتظامیہ کاایوارڈ یافتہ میراچھوٹافرزندخواجہ سراج الدین انعامدار بھی میرے ساتھ ہے۔واضح رہے کہ اس موقع پر سجادہ نشین جناب حافظ سید محمد علی الحسینی اور چانسلر خواجہ بندہ نواز یونیورسٹی گلبرگہ کی شالپوشی اور گلپوشی خواجہ سراج الدین انعامدار نے بڑے عقیدت اور احترام سے کی۔ اسی طرح ڈاکٹر سید مصطفیٰ الحسینی ڈائرکٹر آف خواجہ بندہ نواز ایجوکیشن سوسائٹی گلبرگہ کی بھی شالپوشی و گلپوشی کی گئی۔
