ذاکر حسین
بانی:الفلاح فاؤنڈیشن (بلڈ ڈونیٹ گروپ)
آج دوپہر ایک فون کال آیا، کال ریسیو کی تو دوسری طرف سے ایک گھبرائی ہوئی آواز آئی۔ ذاکر بھائی..؟ جی، میں نے جواب دیا۔ ذاکر بھائی، آپ کی فلاں تھانے تک رسائی ہے، میں جانتا ہوں۔ جی بولیں۔ میں نے ذرا توقف سے جواب دیا۔ جی بھائی، دراصل بات یہ تھی کہ ایک پاسپورٹ ویریفیکیشن کیلئے تھانے سے فون آیا ہے۔ لہجے میں ابھی تک گھبراہٹ کی کیفیت کو صاف محسوس کیا جا سکتا تھا۔ میں نے ذرا رک کر جواب دیا۔۔ کس کا ہے؟ الفلاح کے کسی شخص کا؟ اس نے کہا، ہاں۔ میں نے کہا کہ ایسا کریں کہ پولیس والے کا نمبر شیئر کریں، میں بات کر لوں گا۔ کام ہوجائے گا۔۔۔ اس سے قبل کہ میں مزید کچھ بولتا، وہ میری بات کاٹ کر بولا۔۔ ذاکر بھائی، پولیس والا پندرہ سو روپے مانگ رہا ہے، اگر پانچ سو روپے میں ہو جاتا تو۔ جملے میں سوال اور تکلف دونوں کی آمیزش تھی۔ میں نے کہا کہ نمبر دیجئے، میں بات کرتا ہوں، پھر آپ چلے جائیے گا۔ بہرحال لڑکا تھانے پہنچا۔ پولیس والا نہایت مہذب اور شائستہ تھا، اس نے ناچیز سے بہت شائستگی سے بات کی اور کام بالکل مفت میں ہوگیا۔ لڑکے کیلئے یہ کام کسی معجزے سے کم نہیں لگ رہا تھا۔
اس کے بعد سے میرے ذہن میں کئی سوال ایک ساتھ سر اٹھانے لگے کہ قوم کے نوجوانوں میں کس قدر پولیس سمیت دیگر سرکاری محکمے کا ڈر بیٹھ چکا ہے۔ پاسپورٹ ویریفیکیشن کا ایک کال متعلقہ فرد سمیت اس کے پورے خاندان کو گھبراہٹ، خدشات کی لپیٹ میں لے لیتا ہے، اس کے بعد اس ویریفیکیشن کیلئے کوئی نیتا یا صحافی ڈھونڈھا جاتا ہے۔ مذکورہ لوگوں میں اکثر وہ کوئی غیر مسلم ہوتا ہے۔ اس کے بعد قوم کے نوجوان اپنے ویریفیکیشن کیلئے کم از کم پانچ سو یا اس سے زائد رقم پولیس والے کے حوالے کر اس کرپٹ سسٹم کو اسموتھلی (smoothly) چلنے دینے میں اپنا نمایاں کردار ادا کر پھر اپنی زندگی میں مست ہو جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہیکہ قوم کے نوجوانوں کا یہ ڈر کیسے نکلے گا؟ کہ انہیں کسی سرکاری افسران سے بات کرنی پڑ جائے تو ان کی سانس کی رفتار تیز نہ ہو، وہ پر سکون اور باوقار انداز میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر سکیں۔ پاسپورٹ ویریفیکیشن کیلئے پولیس اہلکار کا ایک کال نہ صرف متعلقہ فرد کی ہرٹ بیٹ (heartbeat) تیز کر دیتا ہے، بلکہ اس کے پورے خاندان کو ٹینشن میں مبتلا کر دیتا ہے، یہ حالات نہ صرف اتر پردیش کے ہیں بلکہ اس طرح کے حالات کا سامنا پورے ملک کے مسلمانوں کا ہے۔
پاسپورٹ ویریفیکیشن کے نام پر مسلمانوں کی ایک بڑی رقم بطور رشوت پولیس اہلکاروں کے پاس جاتی ہیں۔اس حساس موضوع پر قوم کے باشعور افراد کو غورو فکر کی ضرورت ہے۔ مسلم نوجوان خوف میں مبتلا ہے، کسی بھی سرکاری ملازم سے آج کے بیشتر مسلم نوجوان پر اعتماد اور باوقار انداز میں بات نہیں کر پاتے۔ ایک لیڈر شپ ہو، جو بچوں کے اندر سے ڈر نکالے۔ مسلم بچوں کے اندر ہمت ہے، حوصلہ ہے، اعتماد ہے۔ لیکن ان کی ہمت،حوصلہ اور اعتماد کو تقویت کون پہنچائے؟ یہ کام تو قوم کی لیڈرشپ کرے گی؟ لیڈر شپ ہم کھڑی نہیں کرتے۔ مجھے یاد ہیکہ 2008 میں علماء کونسل کے قیام کے بعد 2010، 2011 میں یہ بات مشہور تھی کہ علماء کونسل کے ڈر سے اب پاسپورٹ ویریفیکیشن بالکل فری ہوتا ہے، بات میں کتنی حقیقت ہے، اس کا مجھے نہیں علم۔ لیکن اپنی لیڈر شپ ہی قوم کے نوجوانوں کے اندر سے پولیس کا ڈر، لیکھ پال کا ڈر، قانون گو کا ڈر، تحصیلدار کا ڈر اپنی لیڈر شپ ہی ختم کرے گی۔
یہاں ایک بات قابلِ ذکر ہیکہ مسلم نوجوانوں کو ڈاکٹری پیشے کے ساتھ ساتھ وکالت، جج، پولیس اور دیگر سرکاری ملازمت کیلئے بھی کوششیں کرنی چاہیے۔وطن عزیز سمیت عالمی سطح پر مسلمانوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم حاکم قوم ہیں اور محکوم نہیں، یہ ہماری محکوم بننے کی ادا نہ صرف قوم کے نونہالوں بلکہ تاریخ کے اوراق کو قطعی پسند نہیں آئے گی۔
