(پروفیسر اخلاق احمد "آہن”)

انٹرویونگار: ابوشحمہ انصاری
یوپی بیورو چیف ہفت روزہ (نوائے جنگ) لندن

سوال : سب سے پہلے تو ہم آپ کی ذاتی زندگی کے بارے میں جاننا چاہیں گے یعنی آپ کی ابتدائی زندگی کیسی رہی اور کس ماحول میں آپ کی پرورش ہوئی ؟
جواب : میرا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں صدیوں سے درس و تدریس سے نسبت رہی ہے، اور علماء کا گھرانا رہا ہے۔ میرے دادا حاجی علی جان مرحوم ایک عالم، نہایت خدا ترس اور خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ والد مرحوم مولوی ریاض احمد شعر و ادب سے بھی شغف رکھتے تھے اور ماہی تخلص کرتے تھے۔ گھر میں پڑھنے پڑھانے، کتابوں، رسالوں کا چرچا تھا اور بچپن انھیں کے درمیان گذرا۔ شوق مطالعہ بڑھ کر عشق بن گیا اور اسکول کے دنوں میں بھی سیکڑوں کتابیں پڑھ ڈالیں۔ ان میں شعر و ادب اور افسانوں، ناولوں سے لے کر تاریخ، تفسیر، فقہ، طب وغیرہ کی کتب بھی سب شامل تھیں۔
سوال : آپ نے کن حالات میں تعلیم حاصل کی اور کہاں تک اس کو جاری رکھا اور اس سفر میں سب سے زیادہ آپ کو کس کا تعاون حاصل رہا؟
جواب : ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی، اسکول میں داخلہ واجبی تھا، لیکن چھٹی کلاس سے باضابطہ اسکول جانا ہوا۔ اس لیے بہت کم عمری میں دسویں اور بارہویں کا امتحان پاس کرلیا۔ پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا رخ کیا اور وہاں سے بی اے آنرس (جغرافیہ) امتیازی طور پر پورا کیا۔ فارسی اور اردو بھی اختیاری مضامین تھے۔ علی گڑھ میں ممتاز اساتذہ سے کسب فیض کا موقع ملا۔ ان میں بطور خاص پروفیسر آل احمد سرور، پروفیسر نادر علی خان، پروفیسر نذیر احمد، علی سردار جعفری، پروفیسر سید طارق حسن، ڈاکٹر کوکب قدر، پروفیسر شہریار، پروفیسر ابوالکلام قاسمی، ڈاکٹر علی اصغر، پروفیسر وحید اختر، پروفیسر عرفان حبیب، پروفیسر محمدعمر، پروفیسر کبیر احمد جائسی، پروفیسر خالد صدیقی، پروفیسر زیدی جعفر رضا، پروفیسر سعیدالظفر چغتائی اور دیگر بے شمار اساتذہ شامل تھے۔
بعد ازاں جواہرلال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی سے فارسی میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کی۔ ایران کی دو یونیورسٹیوں سے بھی تحصیل تعلیم کی۔
سوال: رسمی تعلیم کے بعد کیا شغف رہا؟
جواب: طالب علمی کے زمانے میں ہی درس و تدریس کے کام سے وابستہ ہوگئے۔ پہلے چار سال شعبہ فارسی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی میں بطور مہمان استاد تدریس کے کام انجام دئے اور گذشتہ ربع صدی سے شعبہ فارسی و مرکزی ایشیا، جواہرلال نہرو یونیورسٹی، دہلی سے وابستہ ہیں اور فی الوقت صدر شعبہ کی ذمہ داری بھی ہے۔بشمول امریکہ، مرکزی ایشیا، ایران، ترکی، انگلستان دنیا بھر کے مختلف ملکوں کے سفر کیے اور ادبی، علمی سیمناروں، محفلوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔حالیہ دنوں میری شاعری اور کتابیں ایران اور مرکزی ایشیائی ملکوں میں نصاب اور تحقیق کے موضوع کے بطور متعارف ہیں۔ تاشقند یونیورسٹی، ازبکستان میں بطور مہمان استاد خدمات انجام دیے اور اس کے علاوہ فلموں، ٹیلیویڑن اور ریڈیو سے بھی مختلف حوالوں سے وابستگی رہی ہے۔
سوال : اردو ادب کی طرف آپ کا رجحان کب اور کس طرح ہوا؟
جواب : بچپن سے ہی۔ گھر کے ادبی و علمی ماحول کے سبب۔ والدین کو مطالعے کا شوق تھا، گھر میں درجن بھر اردو کے رسالے اور اخبارات بشمول ہما، ہدی، شبستاں، شمع، بیسویں صدی، نقیب، نئی دنیا، مجرم وغیرہ آتے۔ چھوٹا سا کتابخانہ تھا جس میں مختلف موضوعات پر متعدد کتابیں تھیں۔ فارسی شاعروں میں امیرخسرو، خیام، سعدی، حافظ وغیرہ اور اردو شاعروں میں مائل خیرآبادی، اسمعیل میرٹھی، حالی، اقبال، غالب، جوش، مجاز وغیرہ ناول نگاروں میں نذیر احمد، شرر لکھنوی، ابن صفی، صادق سردھنوی،پریم چند، اسی طرح تفسیر، تاریخ، طب وغیرہ اور دیگر موضوعات پر جو کتابیں دستیاب ہوتیں وہ پڑھ ڈالتے۔ پڑھنا شوق بلکہ اعتیاد ہوگیا۔
سوال : آپ کی پہلی تخلیق عمر کے کس حصے میں منظرِ عام پر آئی اور کس رسالے یا اخبار کی زینت بنی اور اس وقت آپ کے احساسات کیا تھے؟
جواب: بچپن کے ابتدائی دنوں سے لکھنے اور شعرگوئی کی طرف طبیعت مائل ہوگئی۔ پہلی کہانی اور مضمون آٹھویں کلاس کے اسکول میگزین میں شائع ہوا۔ بہت خوشی ہوئی۔ اس کے بعد بی اے کے زمانے میں نظمیں، غزلیں اور مضامین وغیرہ علی گڑھ قیام کے دوران باضاطہ شائع ہونا شروع ہوئیں۔ہوسٹل میگزین کے مجلس ادارت کا بھی حصہ تھا اور مشاعروں اور ادبی پروگراموں میں سرگرم رہا۔
سوال : شعر گوئی کے کیا محرکات ہیں اور اپنیتخلیقی سفر کے حوالے سے روشنی ڈالیں۔ کیا آپ نے کسی کی تقلید یا پیروی بھی کی ہے؟
جواب : بچپن سے ہی طبعی طور پر شعر کی طرف رجحان رہا۔ شاید گھریلو ماحول اور والد صاحب کے سبب بھی۔ اور اسی زمانے سیاسی، سماجی اور ذاتی نوعیت کے احساسات و جذبات کا اظہار ہوتا۔ اقبال اور حالی سے زیادہ متاثر تھا اور اسکول اور نوجوانی کے زمانے میں ان کی پیروی کی کوشش بھی کی، لیکن بعد میں کسی طرز یا نظریے کی تقلید نہیں رہی۔ میری افتاد طبع کسی کی پیروی کی متحمل نہیں۔
سوال : اردو ادب کی ترویج میں فصاحت و بلاغت اور اصول و قواعد کا خیال رکھنا کس حد تک ضروری ہے؟
جواب : ہر ادب کا ایک معیار ہوتا ہے، جسے اساتذہ ادب قائم کرتے ہیں اور اس ادب کا کلاسیکی سرمایہ اس معیار کا مخزن ہوتا ہے۔ متاخرین کو اسے پیش نظر رکھنا چاہیے، البتہ ہر بڑا تخلیق کار اس میں رنگِ تازہ بھرتا ہے۔
سوال : یہ بات میں نے خاصی گہرائی سے نوٹس کی ہے کہ اکثر اردو بولنے والوں کا تلفظ درست نہیں ہوتا عوامی سطح پہ اس کو بہتر بنانے کے لئے کس طرح کی کوشش درکار ہے؟
جواب: ابتدائی تعلیم کے دوران اردو کو ایک مضمون کے بطور پڑھنے پڑھانے کا اہتمام ہی اس مسئلے کا سب سے بنیادی حل ہے۔ درست اردو تلفظ کی عمومیت اور اردو زبان و ادب کی بقا اور ترویج کے لیے بچوں کو اردو پڑھانے کا اہتمام بہت ضروری ہے۔ اسکولوں میں اگر یہ سہولت نہ ہو تو محلے کی مساجد میں یا گھر میں اس کا اہتمام کیا جانا چاہئے۔
سوال : گزرتے وقت کے ساتھ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر اردو کے طلبہ میں اضافہ ہوا ہے یا قابل تشویش کمی واقع ہوئی ہے؟
جواب: تعداد میں تو بظاہر اضافہ ہی ہوا ہے خاص طور سے یونیورسٹیوں میں، البتہ اسکولوں میں کمی آئی ہے جو تشویشناک ہے۔ تدریس و تحقیق کے معیار میں گراوٹ کا مشاہدہ بھی ہوتا ہے۔
سوال : یوں تو آپ واقعی اردو ادب کے بیلوث خدمتگار ہیں۔ معاصرین میں پسندیدہ ادیب و شاعر کون ہیں اور آپ کی نظر میں اردو کا مستقبل کیا ہے؟
جواب : شکریہ، لیکن میں اردو کا ایک دلدادہ اور عاشق ہوں اور شعر و ادب سے شغف ہے۔ میرے لیے یہ سعادت کی بات ہے کہ اردو فارسی کے متعدد ممتاز معاصر ادباء، شعرا، اساتذہ اور محققین سے کسب فیض اور رفاقت کی سعادت رہی ہے۔ علی گڑھ کے زمانے کے اساتذہ کا ذکر آچکا ہے۔ ان کے علاوہ جن اردو اور فارسی اہل ادب سے استفادہ، آشنائی اور رفاقت کا موقع ملا ان میں محمد حسن، شمس الرحمن فاروقی، شمیم حنفی، تنویر علوی، صدیق الرحمن قدوائی، شارب ردولوی، منیب الرحمن، احمد فراز، افتخار عارف، حمایت علی شاعر، قاضی عبدالستار، تقی عابدی، خلیل الرحمن، جاوید دانش، فاطمہ حسن (اردو) اظہر دہلوی، امیر حسن عابدی،صبر ہووالا، آزرمی دخت صفوی، عراق رضا زیدی (فارسی)، شفیعی کدکنی، سروش سپہری، محمد علی اسلامی ندوشن، مہدی محقق، رضا نصیری، علی رضا قزوہ، محمد علی بہمنی، عبدالجبار کاکائی (ایران)، رہنورد زریاب، اسداللہ حبیب، پرتو نادری، فتانہ نجیب، عبدالخالق رشید، زلمی ہیوادمل، مسعود خلیلی،فضل الرحمن فاضل، افسر رہبین، ہارون یوسفی، فیض محمود، عظمت ضیا، قرابیکوف، مقصودوف، رضابوف، شکورزادہ (افغانستان و مرکزی ایشیا) وغیرہ بطور خاص قابل ذکر ہیں۔
دیکھیے، اردو دنیا کی بڑی زبانوں میں سے ایک ہے، اس کا مستقبل تابندہ ہے۔
سوال : اپنا کوئی پسندیدہ شعر سنائیں؟
جواب : اگر ضمیر ہے تابوتِ بے حسی میں بند
یزیدِ شہر سے بیعت میں پھر قباحت کیا
سوال : کیا آپ نے نظم کے ساتھ ساتھ نثر میں بھی طبع آزمائی کی ہے اگر ہاں تو اس ضمن کے کون سے پہلو قابل ذکر ہیں؟
جواب : جی ہاں، افسانے، سفرنامے، انشائیے وغیرہ لکھے ہیں۔ ان کے علاوہ تقریبا تیس کتابیں تحقیق و تنقید اور ترجمہ پر مشتمل ہیں اور سو سے زائد مضامین شائع ہوئے ہیں۔ اگر توفیق ہوئی تو ناول لکھنے کا ارادہ بھی ہے۔ البتہ شعر اور تخلیقی تحریریں اردو اور فارسی میں ہیں اور دیگر موضوعات اور علمی کام ان کے علاوہ دو اور زبانوں انگریزی اور ہندی میں بھی ہیں۔
سوال : یوں تو آپ واقعی اردو فارسی کے ممتاز شاعر و ادیب ہیں، لیکن آپ کے پسندیدہ ادیب و شاعر کون ہیں؟
جواب : بے شمار ہیں اور مختلف زبانوں کے ہیں۔ چند نام مثلا خیام، ابوسعید ابوالخیر، مولانا رومی، سعدی، امیرخسرو، حافظ، نظیری، بیدل، وحشی، صائب، سہراب سپہری، فروغ فرخزاد، سایہ، درد، میر، غالب، حالی، اقبال، فیض، ن م راشد (فارسی اردو) بھرتری ہری، کالیداس، (سنسکرت)، امام شافعی، المتنبی (عربی)،کبیر، رحیم، جائسی، میرا، سورداس، قطبن، جے شنکر، نرالا، بچن، پنت، ناگارجن، مکتی بودھ (ہندوی/ہندی)، ٹیگور، نذرل، مائیکل مدھوسودن (بنگلہ)، ہومر،شیکسپئیر، ملٹن، بائرن، ولیم بلیک، کیٹس، رلکے، گوئیٹے، سروانتس، ڑولا،(یوروپی) وغیرہ وغیرہ
سوال : آپ کی نظر میں اردو کا مستقبل کیا ہے؟
جواب : تابندہ، روشن، اور ترقی کی نئی منزلیں طے کرتی ہوئی۔
سوال : کیا آپ کو نہیں لگتا کہ اردو کو اردو میڈیم اسکولوں میں بھی وہ پذیرائی نہیں مل رہی جو اس کو ملنی چاہئے یا جو انگریزی کو مل رہی ہے ؟
جواب : اردو کو کسی بھی زبان کی رقابت میں رکھنے کے بجائے اسے اسکولی تعلیم اور اسے اپنے ادبی، ثقافتی اور تہذیبی ذوق کے زبان کے بطور اپنانا ہے جیسے ہم اپنی غذا، موسیقی، لباس اور ثقافتی رسوم کو اپناتے ہیں۔ اسے روزگار سے جوڑ کر دیکھنا بھی مثبت رویہ نہیں ہے۔
سوال : رومن رسم الخط کے فروغ نے اردو رسم الخط کو کس حد تک متاثر کیا ہے ؟
جواب : اس کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے۔ اردو کو اردو خط میں لکھنے اور پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
سوال : وہ کون سے معاصرین وقت ہیں جن کی اردو خدمت سے آپ بہت متاثر ہوئے ہیں ؟
جواب : مذکورہ افراد کے علاوہ نقد و تحقیق کے میدان میں رشید حسن خاں، شکیل الرحمن، ع واجد،اور اس کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے سہارا شری،راموجی راو، سنجیو صراف،ڈاکٹر جاوید شیخ، اردو کے کچھ فعال ادارے بشمول غالب انسٹی ٹیوٹ، این سی پی یو ایل، انجمن ترقی اردو ہند، بنگال اردو اکادمی، دہلی اردو اکادمی بطور خاص اختر الواسع صاحب اور ان کے متقدمین کے زمانے میں۔
سوال : موجودہ وقت میں اردو ادب کے فروغ کے لئے کی جانے والی کوششیں کس حد تک نتیجہ خیز ہیں کیا وہ اپنی شناخت کو انمٹ بنانے میں مزید کسی سہولت و خدمت کی محتاج ہیں؟
جواب : جب تک کوئی بھی کوشش اردو کو اسکولی تعلیم سے اور اردو کے عام قاری سے حقیقی طور پر نہیں جوڑتی، وہ کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتی یا مقصد سے دور ہے۔
سوال : آپ کے اپنے خاندان میں اردو ادب کے تئیں کیا نظریات و جذبات پائے جارہے ہیں کیا مستقبل میں وہ مزید ترقیاتی مراحل طئے کرے گی؟
جواب : ہمارے گھرانے میں اردو پڑھنے پڑھانے کا چلن ہے، اور نئی نسل بھی اردو سے آشنا ہے۔
سوال : فی زمانہ آپ کا ادبی و علمی شغف کیا ہے یا کس کام کی طرف توجہ ہے ؟
جواب : حالیہ دور ابتلا میں جب عام طور سے لوگ گھروں تک محدود تھے، اور سخت حالات کا سامنا تھا، لیکن ان سے قطع نظر مجھے ذاتی طور پر ایک طرح کا طویل تخلیقی و شعری استغراق کا دور نصیب ہوا، جس میں بڑی تعداد میں منظومات، غزلیات، منظوم تراجم تخلیق ہوئے۔ منظومات کا مجموعہ بعنوان "خرابات” اور فارسی غزلوں کا انتخاب بنام "نماز عشق” شائع ہوئے۔ غزلیات زیر ترتیب ہیں، البتہ اسی دور میں ایک بالکل نیا شعری تجربہ بھی ہوا جو عنقریب شائع ہوگا۔ عربی اور فارسی کے عارفانہ کلام کے منظوم تراجم بھی زیر ترتیب ہے۔ اس کے علاوہ داراشکوہ اور خان عبدالغفار خان کے حوالے دو کتابیں بھی شائع ہوئیں۔سفرنامیاور کچھ دیگر تحریریں بھی لکھی گئیں۔
سوال : نئی نسل کے تخلیق کاروں اور قلمکاروں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟
جواب : ہم اپنے ادب کا وسیع مطالعہ کریں، ساتھ ہی متعلقہ ادب کو بھی پیش نظر رکھیں۔ شہرت طلبی کے بجائے احتسابِ ذات اور اصلاح فن کی طرف توجہ ہوتو فروغ کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہمارا قلم ہماری ضمیر کا نقیب اور ترجمان بھی ہے، اس کے اظہار میں مصلحت پسندی حائل نہ ہو جو اب عام ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے