محمد رضوان گوہر ندوی
کے این پبلک اسکول ،محلہ قلعہ ، نانپارہ ، ضلع بہرائچ

محبت و عقیدت کو ہمیشہ خیر و خوبی کی تلاش ہوتی ہے ، جہاں خیرو خوبی مل گئی محبت و عقیدت کا سلسلہ قائم ہو نے میں دیر نہیں لگتی،محبت و عقیدت کے لئے دیداراور ملاقات کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی،آنکھیں اکثر دھوکہ کھاجاتی ہیں لیکن دل کو دھوکہ دینا مشکل ہوتا ہے، آنکھوں کی بینائی سے دل کی بینائی تیز ہوتی ہے ، جب دل میں کوئی سما گیا ، دل کسی کی عقیدت کے لئے مائل اور مشتاق ہوگیا تو مرور ایام کے ساتھ اس نقش کا رنگ ہلکا اور کمزور ہونے کے بجائے گاڑھا ہی ہوگا ،میں نے بچپن سے ہمیشہ مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابو الحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا ہر مجلس اور محفل میں ذکر خیر ہی سنا تھا ،پھر جب مدرسہ جلیلیہ فرقانیہ جرول ضلع بہرائچ ملحقہ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں بغرض تعلیم داخل ہوا تو وہاں ان کی بہت سی کتابیں پڑھنے اور بہت کچھ ان کے بارے میں سننے کو ملا ، اس طرح محبت و عقیدت میں اضافہ ہوتا ہی چلا گیا ۔
دل میں بار بار آرزو پیدا ہوئی کہ کوئی موقع نکلے تو اس محبوب شخصیت کے دیدار سے مشرف ہوکر اپنی آنکھوں کو ٹھنڈی کیا جائے ، اتفاق سے ۱۹۹۴ ء میں استاذ گرامی قدر حضرت مولانا احمد علی صاحب ندوی دامت برکاتہم مدرسہ کے کسی کام سے دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ جانے کے لئے تیار ہوئے تو اچانک انھوں نے ساتھ چلنے کے لئے کہا ، دل میں بڑی تمنا تھی ملاقات کی لیکن اچانک استاذ محترم کا حکم سنا تو تھوڑی دیر کے لئے ہکا بکا رہ گیا ، کبھی اس سے پہلے لکھنؤ نہیں گیا تھا ،گھر سے مدرسہ اور مدرسہ سے گھر ، کبھی کبھار نانی نانا کے یہاں جانا ہوتا تھا لیکن کسی بڑے شہر میں کبھی جانا نہیں ہوا تھا،مدرسہ کے ماحول میں گرچہ پانچ سال گزر گئے تھے ، اردو اور عربی کی متعدد درسی کتابیں بھی پڑھ ڈالی تھیں پھر بھی زبان پر کوئی خاص کنٹرول نہیں تھا،صرف اساتذہ سے یا درس گاہ میں کچھ اردو بولنے کا رواج تھا باقی وقت اپنی مادری زبان دیہاتی یا قدیم اودھی میں ہی کام چل جاتا تھا،لکھنؤ کے بارے میں سن رکھا تھا کہ وہاں کا عام آدمی اور رکشہ والا بھی گاڑھی اور قافیہ ردیف سے سجی اردو بولتا ہے ،ایک انجانا سا خوف ستانے لگا کہ بڑے شہر میں کیسے کیا ہوگا ؟ پھر دل نے تسلی دی کہ استاذ محترم ساتھ میں ہیں تو خوف اور اندیشہ کیسا ؟ جلدی جلدی ایک گھنٹہ میں جانے کی تیاری کی ، بس سے لکھنؤ پہونچے ، بس اڈہ سے ندوہ تک فاصلہ رکشہ سے طے کیا گیا ، ندوۃ العلماء کے گیٹ پر پہونچے تو استاذ محترم نے چلتے چلتے تمام عمارتوں کا تعارف کرایا ، کچھ تاریخ بتائی ، کچھ بڑے اساتذہ کے بارے میں بھی معلومات فراہم کیں ، پھر بتایا کہ ہم لوگ سب سے پہلے مہمان خانہ چلیں اور دیکھیں حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ ہوں تو ان کی ملاقات کے بعد ہی کوئی کام کیا جائے ، میری تو جیسے مراد ہی پوری ہوگئی ، مہمان خانہ پہونچے تو پتہ چلا کہ حضرت مولانا تشریف فرما ہیں ، اجازت لے کر اندر داخل ہوئے تو ضعف اور کمزوری کے باوجود بشاشت اور خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کی ، میری تو فرط عقیدت کی وجہ سے زبان گنگ ہوکر رہ گئی تھی ،استاذ محترم نے میرے بارے میں کچھ بتایا اور نصیحت کی درخواست کی، حضرت مولانا نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مختصر نصیحت کی، کچھ دیر ہم لوگ مجلس میں بیٹھے اس خوبصورت پیکر کو دیکھتے رہے اوران کی قیمتی باتیں سنتے رہے ، پھر یہ سوچ کر سلام کرکے مہمان خانہ سے باہر آگئے کہ حضرت کا وقت بہت قیمتی ہے، کہیں ہم لوگوں کے زیادہ دیر تک رکنے سے کوئی رکاوٹ اور خلل نہ پیدا ہواور ان کے تصنیفی اور تالیفی کام میں کوئی تکدر واقع نہ ہو،ہاتھ روئی سے بھی زیادہ نرم و نازک تھا ، ایک ایک لمحہ ذکر الہی سے معطر تھا ، چہرہ پر متانت ،شرافت ، نجابت اورانابت کا نور جھلک رہا تھا،نور و نکہت کی جیسے بارش ہورہی تھی، طبیعت چاہتی تھی کہ اتنا عظیم سرمایہ ہاتھ آنے کے بعد ہاتھ سے جانے نہ دوں لیکن طبیعت کو اطمینان دلایا کہ یہ کوئی آخری ملاقات تھوڑی ہے ، آئندہ سال جب عالیہ اولی شریعہ کے امتحان کے بعدیہیں تعلیم کا موقع ملے گا تو ہر روزملاقات کا موقع رہے گا اور ہر روز عید ہوگی۔
مدرسہ پہونچے تو ایسا لگا کہ سب کچھ وہیں چھوٹ گیا ہے ،دل جمعی،اطمینان، چین اورسکون سب غارت ہوچکے ہیں ،دل مچلنے لگا کہ جلدی سالانہ امتحان ہو اور حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ سے قریب ہونے اور ان کی صحبت سے فائدہ اٹھانے کا موقع ملے، ایک دن بے تابی حد سے بڑھ گئی تو تسکین خاطر کے لئے حضرت مولانا کو خط لکھنے بیٹھ گیا ،جو کچھ سمجھ میں آیا سب بلا تکلف لکھتا چلا گیا ،جوابی خط منسلک کیا اور ڈاک کے حوالے کرآیا ، قطعی امید نہیں تھی کہ اتنا مصروف ترین اور عظیم المرتبت انسان ایک معمولی طالب علم کی الٹی سیدھی تحریر کے جواب کے لئے کوئی وقت نکال پائے گا ، غالبادسویں دن اس وقت میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب کسی ساتھی نے بتایا کہ تمہارا خط آیا ہے ، دل میں طرح طرح کے خیال آئے کہ ہوسکتا ہے کسی ساتھی کا خط ہو یا والد صاحب نے خیر خیریت معلوم کرنے کے لئے خط لکھا ہو ، ایک مرتبہ بھی ذہن اس طرف نہیں گیا کہ لکھنؤ سے جواب آیا ہوگا ، خط ملا تو پڑھنے سے پہلے کئی مرتبہ الٹ پلٹ کر دیکھا ، یقین ہی نہیں ہورہا تھا کہ اتنی جلدی مراد برآئے گی، خط میں حضرت مولانا نے بہت کم الفاظ میں بہت ساری نصیحتیں کی تھیں ، عربی ادب کیسے مضبوط ہوگا ؟ نحو و صرف جاننا کتنا ضروری ہے ؟ تعلیم کے ساتھ اخلاق و کردار پر ابتدا ہی سے توجہ دینی چاہئے ، خاص طور پر ہر دور میں کامیابی کے لئے دو اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی ،(۱) اخلاص (۲) اختصاص یعنی انسان جو بھی کام کرے اس میں مخلص ہونا ضروری ہے ، ایسا نہیں ہے کہ آپ کی توجہ آدھی ادھوری ہو اور نتیجہ صد فیصد حاصل ہو ، یہ ناممکن ہے ، پوری کامیابی کے لئے پوری یکسوئی ، دل جمعی اور اجتماع خاطر ضروری ہے ، دوسری اہم بات یہ بتائی تھی کہ اگر آپ کسی بھی فن میں اختصاص اور امتیاز حاصل کرلیں گے تو ہر جگہ آپ کی اچھی قیمت لگے گی ، عام آدمی بن کر آپ بہت زیادہ توجہ نہیں حاصل کرسکتے ،میں فرط عقیدت میں بار بار خط کو پڑھتا اور دل ہی دل میں خوشی کے لڈو پھوٹتے کہ میری قسمت تو چمک اٹھی ہے، کاش بلا وجہ زیادہ خوش ہونے کے بجائے حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی قیمتی باتوں اور ان کی نصیحتوںپر عمل کیا ہوتاتو اصلی فائدہ حاصل کرنے میں مدد مل جاتی ۔
پانچ سال دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں پڑھنے کا موقع ملا ، اس درمیان ابتدا میں تو بڑی پابندی کے ساتھ مجلس میں حاضر ہوتا اوربہت غور سے باتوں کو سنتا اورعمل کی بھی کوشش کرتا لیکن دھیرے دھیرے گھر کی مرغی ساگ برابر کی طرح قدر میں تو کمی نہیں آئی لیکن نفس نے ٹال مٹول شروع کردیا ، وقت گزرتا گیا اور کب دیکھتے دیکھتے پانچ سال مکمل ہوگئے کچھ پتہ ہی نہیں چلا ،سالانہ امتحان کا وقت قریب آیا تو ایک مرتبہ دل دھڑکا کہ اب تو سارے مواقع ختم ہوگئے، اب کیا کریں ، کیسے تلافی مافات کی جائے ، اسی درمیان حسب دستور سابق فضیلت سال آخر کے طلبہ کے لئے اعلان آیا کہ ان کو ہفتہ عشرہ کے لئے حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کے گھر تکیہ رائے بریلی میں رہ کر براہ راست حضرت مولانا سے درس لینا ہے ،یقین جانئے ہم تمام ساتھیوں کو ایسا لگا جیسے یہ موقع پانچ سال کا نچوڑ اور ماحصل ہو ، شاید تلافی کا اس سے بہتر کوئی موقع نہیں ہوسکتا تھا ، خوشی کے یہ لمحات پوری زندگی میں سب سے زیادہ قیمتی اور انمول تھے ، حضرت مولانا رحمۃ اللہ علیہ کی بہت سی عربی تصنیفات کے منتخبات خود انھیں سے پڑھنا واقعی ایک انوکھا اور یادگار تجربہ تھا،بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس ، اذا ہبت ریح الایمان،الطریق الی المدینہ اور ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین کے کچھ اسباق ہم تمام ساتھیوں نے بڑی دل جمعی سے سنا ،السباحہ عنوان سے ایک سبق ہم سب نے القرأۃ الراشدہ میں پڑھا تھا ، وہاں جاکر اس ندی کو بھی آنکھوں سے دیکھا جس کا اس میں تذکرہ تھا ، مجاہدین کے واقعات اوران کے ناقابل فراموش کارنامے بھی سنے، تاریخی جگہ ہے ، بہت سی یادگاریں اب بھی باقی ہیں ، ایسی جگہوں پر ایک نیا جوش اور جذبہ پیدا ہوتا ہے،دین کی خدمت کا اور کچھ کر گزرنے کاداعیہ بیدار ہوتا ہے ،ہر وقت طلبہ ، اساتذہ ،عقیدت مند، ملک کے قائدین ، مختلف تنظیموں کے سربراہان، کارکنان، ذمہ داران اور مختلف جماعتوں کے نمائندگان سے ملنے اور ان کو قریب سے دیکھنے کا موقع اور ان مواقع پر میر کارواں کی حیثیت سے حضرت مولانا کا برتاؤ ، ان کی ہدایات اور ان کے پیغامات زندگی کا قیمتی سرمایہ بنتے جارہے تھے،۸۶؍ سال کی عمر میں کمزوری اور شدید بیماری کے باوجود اکثر دن صبح ناشتہ کے وقت حاضر ہوتے اور کہتے کہ کوئی کمی ہوگی تو معاف کردیجئے گا ، ان کا یہ البیلااور نرالا انداز اور رس گھولتے الفاظ دل میں اترتے چلے جاتے تھے ، وہ پہلے سے دل کے قریب تھے ، اس قدر شفقت و محبت کے بعد مزید قربت بڑھ گئی ،ستمبر ۱۹۹۹ عیسوی کا یہ یادگار سفر چند دنوں میں نہ جانے کتنے سبق پڑھاکر چلا گیا تھا ،۲۹ ؍ ستمبر کو دار عرفات میں حضرت کا آخری خطاب ہوا جس میں حسن اتفاق ہم سب بھی شریک تھے ، نومبر میں ہم لوگوں کا سالانہ امتحان تھا ،دسمبر میں رمضان المبارک کا مہینہ آگیا، رمضان کا مہینہ پہلے سے تکیہ کلاں میں گزارنے کا معمول تھا لیکن اس سال کمزوری اور بیماری کچھ زیادہ تھی ، اس لئے ڈاکٹروں نے لکھنؤ میں قیام پر اصرار کیا تاکہ وقت پر مناسب علاج ممکن ہوسکے ، حضرت نے لکھنؤ میں قیام اس شرط کے ساتھ منظور کرلیا کہ آخری عشرہ بہرحال تکیہ رائے بریلی میں گزاریں گے،شرط کے مطابق بیسویں رمضان کو دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے تکیہ رائے بریلی چلے آئے، دو دن بیماری میں زیادہ شدت نہیں تھی لیکن۲۲؍ رمضان المبارک ۱۴۲۰ھ مطابق ۳۱؍ دسمبر ۱۹۹۹ء کو جمعہ کے دن عین جمعہ سے قبل کلام اللہ کی تلاوت کرتے کرتے روزہ کی حالت میں آپ اس دار فانی سے دار بقا کی طرف رخصت ہوگئے ۔
قابل تقلید اوصاف موجود تھے ، جن پر بے شمار کتابیں لکھی جاچکی ہیں لیکن مجھے دو خوبیاں بہت متاثر کرتی تھیں ، ان کی قائدانہ صلاحیت اور اتحاد امت کی کوشش جس کی بنیاد پر وہ ہر جگہ ہردل عزیز اور سب کے چہیتے تھے ،تمام تنظیموں سے انھوں نے رابطہ رکھا اور ہر ایک کی کجی دور کرنے کی کوشش کی ، اسی طرح تمام بزرگوں سے رابطہ رکھا اور ہر ایک کی خوبیاں اپنے اندر جمع کرکے اپنے آپ کو جامع الکمالات بنایا، ان کوہر جگہ یکساں مقبولیت حاصل ہوئی ، کلید بردار کعبہ ہونا، شاہ فیصل ایوارڈ ، برونئی کا اسلامک شخصیت ایوارڈ حاصل کرنا ، لندن ، الجزائر ، کویت ، ترکی ، اردن ، یمن ، یوروپ ، بنغلہ دیش ، پاکستان ، سعودی عرب، بیروت ، سری لنکا ، امریکہ ، مراکش ،ملیشیا ، افغانستان ، ایران ، لبنان،دمشق، شام ، بغدادوغیرہ کے علاوہ اندرون ملک ہر مہینے بے شمار اسفار ، سیکڑوں کتابوں کی تصنیف و تالیف، درجنوں بڑے مدارس و مکاتب ، یونی ورسٹیز اور تنظیموں کے صدر، رکن اور سربراہ ہونا یہ سب کچھ آسان نہیں ہے ، یہ سب وہی کرسکتا ہے جس پر اللہ تعالی کا فضل خاص ہو اور جس کو اللہ نے دین کی عظیم خدمات کے لئے قبول کیا ہو اور توفیق سے نوازا ہو ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے