(طلبہ مدرسہ کا ترانہ پیش کرتے ہوئے)

اخلاق کے بغیر تعلیم اپنی افادیت کھودیتی ہے: شیخ عتیق اثر ندوی

سنت کبیر نگر: جامعہ اسلامیہ دریاباد کی سہ روزہ سالانہ انجمن اپنے تزک و احتشام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ اس سلسلہ میں جامعہ اسلامیہ دریاباد کے وکیل الجامعہ شیخ عبدالسمیع المدنی نے کہا کہ جامعہ میں ہر سال سالانہ پروگرام بڑے اہتمام کے ساتھ منعقد ہوتے رہے ہیں، جس میں طلبہ کی مشق و تدریب کے لئے مختلف زبانوں میں تقاریر پیش کرنے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں اور طلبہ کو مافی الضمیر کی ادائیگی اور اسلام کی ترویج و اشاعت کا اہل بنایا جاتا ہے، انہیں مقاصد کی تکمیل کے لئے جامعہ اسلامیہ دریاباد کا سالانہ پروگرام منعقد ہوا ۔ جس میں دس شعبوں کے تحت طلبہ نے چار زبانوں میں اپنی تقاریر کا نمونہ پیش کیا۔ نظم کے علاوہ ترانہ جامعہ، ترانۂ انجمن اور مختلف نظمیں پیش کیں۔ منتخب موضوعات پر روشنی ڈالی، شعبہ تحفیظ کے طلبہ کا منتخب آیات کی تلاوت کا مقابلہ ہوا،اردو علیا کے طلبہ نے بعنوان ازواجِ مطہرات اور دشمنانِ اسلام پروگرام پیش کیا جس میں ۳۹ طلبہ نے حصہ لیا،اردووسطی گروپ نے بعنوان مدراس اسلامیہ توقعات اور چیلنجز پر تقریریں پیش کی جس میں۵۹

طلبہ نے حصہ لیا،ناردو سفلی میں بعنوان توحید-مفہوم اور تقاضے بچوں نے عمدہ تقریریں کی جس میں ۹۳ طلبہ نے حصہ لیا۔ عربک علیا میں شبہات حوال السنۃ کے عنوان سے ۱۴ طلبہ نے حصہ لیا، عربک سفلی میں محنۃ المسلمین فی العصر الحاضر کے عنوان سے۳ طلبہ نے حصہ لیا، ھندی علیا میں میڈیا اور اسلام کے عنوان سے ۶ بچوں نے حصہ لیا، ھندی سفلیٰ میں دینی تبلیغ میں اخلاق کی تاثیر کے عنوان سے ۲۹ بچوں نے حصہ لیا، انگلش علیا میں اختیاری عنوان تھا جس میں ۱۴ بچوں نے حصہ لیا، انگلش سفلی اختیاری عنوان تھا جس میں ۲۶ بچوں نے حصہ لیا۔

جمعیۃ الطلبۃ کے معتمدین خطابت نے نظامت کے فرائض انجام دیئے ۔

سکریٹری جمعیۃ الطلبۃ عاطف صدیقی کلیہ نے جمعیۃ کا تعارف پیش کیا اور انجمن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر شیخ عبدالفتاح مدنی گرام پردھان دریاباد مہمان خصوصی کے طور پر شریک رہے اور طلباء کے پروگرام کو سراہا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

ناظم جامعہ اسلامیہ دریاباد شیخ عتیق اثر ندوی نے پروگرام کے اختتام پر اپنے گرانقدر تاثرات کو پیش کیا۔آپ نے اس بات کو واضح کیا کہ بچوں کے ساتھ اساتذہ کا اسلوب اور مواجہ انتہائی پرکشش ہونا چاہیے، طلبہ کو توجہ دلائی کہ دل وجان سے اساتذہ کااحترام کریں اور اساتذہ کے لئے ضروری ہے کہ اساتذہ طلبہ کو اپنی اولاد سمجھیں۔ موصوف نے اساتذہ و طلبہ کو تلقین کی کہ نبوی اخلاق کو اپنے عملی زندگی میں نافذ کریں کیوں کہ اخلاق کے بغیر تعلیم اپنی افادیت کھو دیتی ہے۔ شیخ الجامعہ نثار احمد السلفی نے انجمن کے اختتام پر طلبہ کو نصیحت کی ۔ اور ناظم اعلیٰ کے وقیع خطاب کے بعد شیخ رفیع الدین ریاضی مربی انجمن نے تمام اساتذہ اور طلبہ کا شکریہ ادا کیا اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی۔

اس موقع پر بانئ جامعہ شیخ عبدالباری فتح اللہ المدنی کی خدمات کو سراہا گیا اور ان کی صحت و عافیت کے لئے دعا کی گئی۔ اساتذہ جامعہ کے ساتھ نائب ناظم محمد نعیم، ڈاکٹر مناظر الباری، ڈاکٹر رئیس الباری، ڈاکٹر افضال احمد، خالد کمال، مقامت وغیرہ شریک رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے