محمدیوسف رحیم بیدری ، بیدر، کرناٹک
۱۔ قبضہ اور بدلہ
اس نے پوچھاWhat is this ?، میں کیاجواب دیتا، ہم دونوں ریسٹورنٹ میں بیٹھے تھے ، ایک شخص اس پر پیپسی کی پچکاری مارکربھاگ کھڑا ہواتھا(شاید پچھلے تین سوسالہ قبضے کااس نے اس طرح بدلہ لیاتھا)۔ مجھے کہناپڑاThis is Duniya , Duniya Means World, Funny World ، اس نے مسکراکرمیری طرف دیکھا، اپنے کپڑے صاف کئے اورصاف کرتے ہوئے بولا U r Intelligent اور پھر مجھ سے ہاتھ ملاکر چلاگیا۔اس کاہوائی جہاز دوگھنٹے بعد اڑنے والاتھا۔ چوں کہ وہ انگریز تھا، لندن کی گلی کوچوں کاپلا بڑا تھا۔ اس نے اگرمیرے بارے میں کچھ کہاہوگاتو درست ہی کہاہوگانا؟
یوں بھی میرے جیسوں کی وجہ ہی سے وہ ہمارے ملک کی طرف آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھ رہے ہیں، ورنہ انگریزوں کاکوئی بھروسہ نہیں ہوتا۔ وہ کہیں پربھی قابض ہوسکتے ہیں۔ اب یہی دیکھ لونا ، ہمارے لڑکے لڑکیوں کے حواس پرتو وہی چھائے ہوئے ہیں ۔اور ہم انتہائی بے بسی سے ہمارے لڑکے لڑکیوں کوان کے قبضے میںجاتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔
۲۔ ولی
اس نے صاف کہہ دیاکہ کمفرٹ زون میں رہاکرتاتھا، اسلئے ولی نہ بن سکا۔ کچھ بھاگتا دوڑتاتو شاید ۔۔۔۔۔!!
۳۔ ایک اور صفر
انھوں نے کہا’’میرے لئے دس اور گیارہ ایک جیسے ہیں ‘‘ میں نے انہیں گھورتے ہوئے کہا’’آپ یعنی انیس بیس کی بات کررہے ہیں ‘‘
انھوں نے پھر کہا’’ایسانہیں ہے ۔ میں ایک اور صفر کی بات کررہاہوں ‘‘
۴۔ لطف کے مارے
وہ لوگ زیادہ سوچتے تھے ، اسلئے ان سے بات نہیں بن سکی۔ میں بھی زیادہ ہی سوچتاتھالیکن اس قدر بھی نہیں کہ بھول بھلیاں نصیب ہوسکیں۔ وہ لوگ بھول بھلیوں کے باسی تھے اور انھیں وہاں گھومنے میں لطف بے حد آرہاتھا۔
۵۔ سبیل
سبیل اچھا آدمی تھالیکن اپنے لئے۔ وہ سبیل نکالنا جانتاتھا صرف اپنے لئے ۔ ہماری اور اس کی بننے سے رہی ۔ ہم نے بھی اس سے بچ نکلنے کی سبیل نکالی اور کامیاب رہے ۔
۶۔ ہمدرد انہ چیکنگ
اسکومڑے تڑے کاغذ اپنی کہانی سناتے تھے ۔ کہتے تھے کہ کچھ تو ہم میں تھا، ایسے ہی بے آبرو نہیں کئے گئے ۔ اور وہ ان مڑے تڑے کاغذوں کوچیک کرلیاکرتاتھا۔ وہ کوئی بے وقوف یانیم پاگل نہیں تھا لیکن مڑے تڑے کاغذاس سے اپیل کیاکرتے تھے اور وہ ہمدردی کی بنیادوں پرانھیں چیک کرلیاکرتاتھا۔اسی لئے شاید Dگروپ کے ملازمین اس کوبے حد چاہتے تھے۔
۷۔ عافیت
بے آبرو ہونے کاخوف سرپہ مسلط رہا۔ کہیں آنے جانے میں احتیاط برتنے لگے۔ اس قدر تکلف سے کام لیتے تھے کہ کسی سے بات کرتے ہوئے بھی آنکھیں نیچی کرلیتے۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کئے ہوئے قریب بیس سال ہوگئے تھے۔ بیس سال بعدبھی اُن کی لگام احتیاط کے ہاتھ میں تھی۔ بڑی اذیت بھری زندگی تھی ان کی ۔ لیکن وہ سمجھتے تھے کہ اوپر والے جیسارکھے بندے کورہناپڑتاہے، چوں چرا کی کوئی گنجائش نہیں۔ بات تو درست ہی تھی ، ہمارے اندرکاتحقیقی کیڑا کچھ اور بولنا چاہتاتھاکہ ہم نے اس کامنہ بندکرکے وہاں سے نکل لینے میں عافیت جانی ۔
