محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر، کرناٹک 
۱۔ دعوتِ دین 
وحیداحمد خان پوچھ رہے تھے ’’کل 25؍ڈسمبر ہے ، کرسچین بھائی عید کرتے ہیں۔اس موقع پر ان کے لئے ہم مسلمان کیاپیغام دے سکتے ہیں ؟‘‘ میراذہن کسی اورکام میں مصروف تھا۔ میں نے کہا’’شہر کے سب سے بڑے چرچ (میتھوڈسٹ ہوکہ کیتھولک) کے سامنے کتابوں کااسٹال لگانے کے بجائے عیسائی بھائیوں سے ملنا ضروری تصورکرتاہوں ، پھر بھی علمائے کرام سے پوچھ لیں، میں پھر ملتاہوں آپ سے ‘‘ دودن بعد وحیداحمد خان سے ملاقات ہوئی تو میں نے پوچھا’’عیسائی بھائیوں سے متعلق کام کاکیاہوا؟‘‘ وہ بولے ’’علمائے کرام نے اجازت نہیں دی ، نہ اسٹال لگانے کی اور نہ کرسچین بھائیوں سے ملنے کی، حالات کی خرابی اہم وجہ رہی‘‘
تب میں نے کہا’’آپ کتابوں کااسٹال بھی لگاتے اور کرسچین بھائیوں سے مل بھی لیتے ۔ دعوت ِ دین آسان کام نہیں ہے لیکن اس کو کسی نہ کسی طرح کرتے ہوئے آسان بنانا پڑتاہے۔ راہیں ہموارکرنے کے لئے میدان میں نکل آناضروری ہوتاہے، حالات مسلمان اور ہندتواوادیوں کے خراب ہیں، مسلمان اور کرسچین کے تعلقات درست ہی ہیں ‘‘
وہ ہوں ، ہاں کرتے رہے۔ شاید مجھ سے ناراض ہوں گے اور سوچ رہے ہوں گے کہ دودن پہلے مجھ سے کچھ نہیںکہا۔کرسچن بھائیوں سے صرف مل لینے کو کہااور اسی کے بین بین علمائے کرام سے پوچھنے کے لئے بھی کہا۔دوباتیں کہیں۔ علماء نے اجازت نہیں دی۔ اگر دودن پہلے ہی یہ حضرت صاف صاف پروگرام بتادیتے تو میں یہ سب کام کرلیتاتھا۔
۲۔ دنیانگی 
’’دنیا کوچشمہ لگاکر دیکھو۔ ورنہ یہ دنیا اپنی ’’دنیانگی‘‘ تم پرلاد کر غائب ہوجائے گی اور تمہیں پتہ بھی نہیں چلے گا‘‘بڑے ابا کی باتیں میرے لئے عجیب تھیں۔ سب لوگ چشمہ اتارکر دنیا کودیکھنے کاکہتے ہیں اور یہ تھے کہ مجھے چشمہ لگاکر دنیا کودیکھنے کی تعلیم دے رہے تھے۔ میں نے کچھ نہیں کہا۔ البتہ اتنا پوچھ لیاکہ یہ ’’دنیانگی‘‘ کیاہوتی ہے ؟‘‘ بڑے ابا بولے ’’ دنیاوی لوث کو دنیانگی کہتے ہیں۔ دنیاوی آوارگی سمجھ لو‘‘
میں جب کبھی دنیانگی سے بچنا چاہتاہوں ، چشمہ لگاکر دنیا کودیکھنا شروع کردیتاہوں۔اوریہ عمل تب ضرور کرتاہوں جب میرے پاس پیسہ آجاتاہے ،یامیں کوئی فیکٹری یا اپارٹمنٹ خرید لیتاہوں۔ صاف معلوم ہوتاہے کہ یہ سب ’’دنیانگی‘‘ ہی ہے۔ میں رب سے دور اور دنیا سے قریب ہوتاجارہاہوں ۔ اس کے باوجودبھی دنیانگی نے مجھے دیوانہ بنارکھاہے۔ وہ مجھے چھوڑتی نہیں ہے۔ اس کاکوئی علاج اگر ہوتو ضرور بتائیں۔
۳۔ افسانچہ 
’’اُس کومرجانے کاخوف تھاا ور ایک دن سچ مچ مرگیا۔ پھرلوگوں نے اُس کو بھلادیا۔کہنے کامطلب یہ ہے کہ دنیا میں کوئی کسی کویاد نہیں رکھتا۔اُس کو بھول جانے والی دنیا کے ساتھ بھی یہی ہوگا یعنی وہ بھی بھلادی جائے گی‘‘ اس نے اتنا لکھااور افسانچہ ختم کردیا۔
۴۔ اباحضور کی یاد
ا باحضور کوگزرے پچیس سال ہوگئے ۔ ایک بات اباحضور کی یاد آتی ہے۔
انھوں نے مجھ سے کہاتھا’’بیٹے ، کبھی ایسا بھی کیاکروکہ اپنے ہاتھوں کو چھوؤاور محسوس کروکہ الحمد للہ ،بلامبالغہ دونوںہاتھ سلامت ہیں، اور فالج کے حملے سے محفوظ ہیں۔ اپنے چہرے پر ہاتھ پھیر لو، اپنا ایک ہاتھ دل پر رکھو، اس دِل کی دھڑکنیں سنوکہ وہ جسم کے زندہ رہنے کامدوجزر بتلایاکرتاہے۔ اسی طرح پیٹھ پراورسرپر ہاتھ پھیرا کرو، گردوں کے مقام پر ہاتھ رکھو اور شکرکرو کہ اللہ نے ان گردوں کو سلامت رکھاہے۔ اسی طرح اپنا سینہ ، پاؤں ، پٹھے اورسارے جسم کو ہاتھوں سے محسوس کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا جس قدر شکر اداکروکم ہے کہ اس نے سبھی اعضاء کو سلامت رکھاہے اوریہ سارا جسم اس کی بندگی کے لئے تو ہے ہی۔مگریہ جسم اس کی راہ میں بھرپور جسمانی جدوجہد کے لئے بھی مختص کیاگیاہے۔ ہوسکے تو بیماریوں (اندرونی وبیرونی )سے پاک یہ جسم لے کر راہ ِ خدا میں جدوجہد کے لئے کبھی نکل جاؤ۔۔۔۔۔‘‘
راہ ِ خدا میں جدوجہد کے لئے تو یہ عاصی پرمعاصی نہیں نکل سکا لیکن میں اپنے سارے جسم کوچھواکرتاہوں اورچھوکر محسوس کرتاہوں کہ اللہ نے کن کن نعمتوں سے مجھے نوازا ہے ۔ سجدہ ء شکربجالاتا
ہوں ۔ دورانِ سفر یہ عمل زیادہ ہوتاہے۔جگہ نہیں ہوتی تو تصورمیں سجدہ ء شکر اداکرلیتاہوں ۔
آج ابا حضور بے حد یاد اسلئے آئے کہ آج ان کایومِ وفات ہے ۔
۵۔ پیشگی تحفہ 
’’آخر تم سمجھتے کیاہواپنے آپکو‘‘نرس بولی ۔ تو میں نے کہا’’ہر بار کا بولا ہواڈائیلاگ ہے ، فلموں میں بھی یہی سوال کیاجاتاہے۔ کچھ اور طریقے سے پوچھ لو کہ ہم اپنے آپ کو کیاسمجھتے ہیں؟‘‘نر س کی سمجھ میں نہیں آیاکہ میں نے کیاکہاہے ۔ دوبار ہ بھی اس نے یہی پوچھاکہ ’آخر تم سمجھتے کیاہواپنے آپکومسٹر‘‘میں نے سرکاری دواخانہ کے سپرنٹنڈنٹ کوفون ملاکر نرس کے حوالے کردیا۔ نرس ہڑبڑا کرکھڑی ہوگئی اوراپنے باس سے بات کرنے کے بعد مجھے میراموبائل واپس کرتے ہوئے بولی’’ سرمیں آپ کی کیاخدمت کرسکتی ہوں؟، آپ کو اس قدر تکلیف اٹھانے کی کیاضرور ت تھی۔سرکاری دواخانہ ہے، ہم ڈلیوری مفت ہی کرتے ہیں، پیسے ویسے نہیں لیتے۔ البتہ کوئی خوشی سے دیتاہے، تو لے لیتے ہیں کیوں کہ ہم مستقل ملازم نہیں ہیں، کنڑاکٹ بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ کنڑاکٹ بنیادوں پرتنخواہیں بہت کم ہوتی ہیں سر‘‘
میں دواخانہ سے باہر نکل آیا۔ بھولا شیخ کھڑا تھا۔ اس کوپانسو کے دونوٹ دیتے ہوئے کہاکہ اندر جاکر ہیڈ نرس کو دے آنا۔ کہناکہ لڑکی پیدا ہوکہ لڑکا ، یہ تحفہ پیشگی ہے ۔ اس غریب عورت یا اس کے ہسبنڈ سے کچھ نہ مانگاجائے ‘‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے