از: ذوالقرنین احمد

محترم قارئین آج ایک اہم مسئلہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں جس کا تعلق ہمارے مقدس مذہبی مقام مساجد، مدارس  سے ہیں۔ آپ نے اکثر غور کیا ہوگا یا آپ کو بھی کبھی نا کبھی ان مسائل میں سے کسی کا سامنا ضرور ہوا ہوگا وہ یہ ہے جب ہم مسجد میں داخل ہوتے ہیں تب گیٹ کے باہر ٹو وہیلر یا فور وہیلر کھڑی کرتے ہیں تو عین مسجد کے گیٹ کے سامنے بائیک کھڑی کردیتے ہیں اور مسجد میں داخل ہوجاتے ہیں اس بات کا خیال بھی نہیں آتا کہ پیچھے سے آنے ولا شخص گاڑی کس جگہ لگائے گا، یا پیدل آنے جانے والوں کو تکلیف تو نہیں ہوگی یا مسجد اگر مین روڈ پر ہے تو دیگر افراد کو اس سے کوئی مسئلہ تو نہیں ہوگا ذرا بھی خیال پیدا نہیں ہوتا، ہم اس معاملے میں انتہائی درجے کے بے حس ثابت ہوئے ہیں ایسے بہت سارے مسئلے ہیں، جو درج ذیل ہے

1۔ مسجد میں داخل ہوتے وقت طہارت سے فارغ ہوتے وقت کھڑے رہ کر پیشاب کرنا یا پانی کا استعمال کھڑا ہوکر کرنا جس میں خود کے اوپر پیشاب کے چھینٹیں اڑنا تو طے ہیں لیکن پیچھے انتظار میں کھڑے افراد کے کپڑوں پر بھی اس کے چھینٹیں اڑتے ہیں لیکن ہمارا دھیان کبھی نہیں جاتا اس لیے بیٹھ کر طہارت کرنی چاہیے اور پیچھے کھڑے افراد کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ ان کی نماز خراب نا ہو، کیوں کہ نماز کےلیے پاک ہونا ضروری ہے،

2‌۔ دوسری چیز مسجد میں جوتے چپل رکھنے کی خالی جگہ ہو یا ریک ہو اس کا استعمال نہیں کیا جاتا ہے بلکہ ہم عین نماز کے وقت داخل ہوتے ہیں دھڑ دھڑ اور سیدھے وضو خانے میں گھس جاتے ہیں چپل جوتے رکھنے کے لیے خاص اہتمام ہونے کے باوجود ہم خیال نہیں رکھتے،

3۔ جوتا پہننے والے تجارت یا نوکری پیشہ افراد جو جرابے یعنی ( Socks) کا استعمال کرتے ہیں ان میں کے کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو وضو کے بعد دوبارہ سوکس پہن کر نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں لیکن وہ اپنے پیچھے والے افراد کا خیال نہیں رکھتے ہیں کہ ان کے جرابوں سے کتنی بدبو آرہی ہوتی ہیں جو پیچھے نماز پڑھنے والے کے لیے بےحد تکلیف دہ ہوتی ہے اور ذہن کو منتشر کرنے کی وجہ بنتے ہیں جس سے سخت کوفت اور تکلیف ہوتی ہیں خاص طور سے دمہ کے مریضوں کو اس کا خاص خیال رکھنے کی ضرورت ہے، آپ اپنے سوکس نماز کے وقت استعمال نا کریں۔

4۔ تیسری چیز وضو خانے میں تمباکو اور گٹکا کھاکر تھوکتے ہیں یہ مساجد کے ادب کے بلکل خلاف ہیں کچھ لوک تو باقاعدہ مسجد کے ٹائلیٹ میں گٹکا کھاکر تھوکتے ہیں اور سگریٹ بیڑی پی کر وہی پر اس کے توکڑے پھینک دیتے ہیں، اینٹ کے توکڑے کا استعمال کرنے والے بھی اینٹ کے توکڑے وہی پھینک دیتے ہیں جو دیگر افراد کے لیے پریشانی کا سبب بنتا ہیں اور خاص طور پر سفائی کرنے والے مخلص افراد کے لیے اور بھی پریشانی کا سبب بنتا ہیں۔ اس لیے اس سے بچنے کی عادت ڈالیں اور دوسروں کو بھی بہتر انداز میں سمجھائے۔ اس میں قابل غور بات یہ بھی ہے کہ پہلے جو بزرگان دین سلف صالحین کے پاس خانقاہوں میں نفس کا تزکیہ اور اصلاح کے لیے جو افراد تشریف لایا کرتے تھے ایسے افراد کی تربیت اور نفس  سے تکبر کو ختم کرنے کے لیے یہ بزرگان دین ایسے افراد کو طہارت خانوں کی صفائی کی ذمہ داریاں سونپتے تھے لوگوں کی خدمت کرنے کے لیے انھیں کئی سالوں تک ایک ہی فریضہ پر مقرر کرتے تھے۔ جس سے دلوں کو سکون و اطمینان میسر ہوتا تھا‌۔

5۔ چوتھی چیز وضو کے بعد جماعت حاصل کرنے کے لیے دوڑتے ہوئے آنا جس میں اعضائے وضو کا پانی بھی پٹکتا رہتا ہیں جس کی وجہ سے مسجد کی چٹائیاں صفیں خراب ہوجاتی ہیں پیروں کو مٹی دھول لگتی ہیں اور بازوں میں نماز پڑھنے والے کو بھی دقت ہوتی ہیں اس لیے مسجد میں نماز کے لیے وقت سے تھوڑا پہلے آجائیں یا دستی ،ٹاول ،ٹوپی وغیرہ اپنے پاس رکھے اور اس سے اچھی طرح ہاتھ منہ صاف کرلیں دوڑ کر جماعت میں شریک ہونے سے منع کیا گیا ہے۔

6۔ ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ آج کل نوجوانوں کی تعداد الحمدللہ مساجد  میں زیادہ دیکھنے ملتی ہیں اور یہ لوگ اکثر شرٹ پینٹ یا ٹی شرٹ وغیرہ میں ہوتے ہیں جس میں ستر پری طرح نہیں ڈھکتا ہیں جب آپ سجدے یا رکوں میں داخل ہوتے ہیں تب آپ کا ستر پیچھے نماز پڑھ رہے افراد کی نماز میں خلل ڈالتا ہیں جس سے نماز کی روح پر اثر پڑتا ہیں۔ جس کا وبال آپ پر ہی ہوگا اس لیے ایسے کپڑے پہنے جو نماز کے لوازمات میں سے ہیں یا پھر اگر آپ جاب یا کام پر سے نماز کے لیے آتے ہیں تب بھی اس بات کا خاص خیال رکھے کہ ہم بنیان وغیرہ کو اندر سے پہنے کی عادت ڈالیں۔

7۔ نماز کے فوراً بعد جب امام صاحب دوسرا سلام پھیرتے ہیں تو کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جیسے ان کی ٹرین یا ہوائی جہاز چھوٹ رہا ہیں یا کروڑوں کا نقصان ہوجائے گا فوراً صفوں کو کاٹتے ہوئے اور ایک دوسرے کے کاندھوں کو پھلانگ تے ہوئے باہر نکل جاتے ہیں یہ مناسب نہیں ہے پیچھے نماز ادا کر رہے مصلی کا خیال رکھتے ہوئے راستہ نکالنا چاہیے نماز کے سامنے سے گزرنے والے کے بارے میں سخت وعید سنائی گئی ہے۔

8۔ جمعہ کے دن خاص طور سے جمعہ کی نماز کے لیے کچھ افراد ایسے ہوتے ہیں جو تاخیر سے آتے ہیں جب بیان ختم ہونے کو ہوتا ہے یا عربی خطبہ شروع ہونے کے قریب ہوتا ہے یہ افراد پیچھے کی تمام صفوں کو چیرتے ہوئے ایک دوسرے کے کاندھوں کو پھلانگ کر اول صف میں جگہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس سے پیچھے کے تمام مصلیوں کو تکلیف پہنچتی ہیں۔ اس بات کا دھیان رکھنے کی کوشش کریں اور دوسرے افراد کو بھی روکنے کی کوشش کریں۔ اول صف میں نماز پڑھنا ہے تو بیان سے پہلے مسجد میں آنے کا اہتمام کیا کریں۔

یہ تمام باتیں اور اس طرح کی اور بھی بہت سی غلطیاں ہیں جو ہم سے غیر شعوری طور پر سرزد ہوجاتی ہیں اور ہمیں اس کا برسوں تک بھی احساس نہیں ہوتا ہے لیکن کسی کو تکلیف دینا تو ہمارے مذہب میں تو جائز نہیں ہے بے وجہ کسی کو پریشان کرنا چاہے آپ غیر شعوری طور پر کر رہے ہو لیکن آپ کی وجہ سے کتنے سارے افراد پریشان ہوتے ہیں یہی چھوٹی چھوٹی باتوں کی وجہ سے مسجدوں می بڑے جھگڑے بھی ہوتے ہیں اور کچھ جگہ تو لوگ ان افراد کی روش کی وجہ سے مسجدوں میں آنے سے پرہیز کرنے لگ جاتیے ہیں یا پھر مسجد بدل دیتے ہیں لیکن یہ وہ بنیادی چیزوں میں سے ہے جو ہر مسجد میں پیش آتی رہتی ہیں اس لیے آپ تمام سے یہ  پرخلوص درخواست ہے کہ ہم اپنی مسجدوں کو آباد کریں اور ان بنیادی غلطیوں کا ازالہ کریں ایک دوسرے کو سمجھائیے معزور، بزرگ افراد کو تھوڑا برداشت کرلیں لیکن نئی نسل اور نوجوانوں کو بہتر انداز میں تربیت کریں ان کی رہنمائی کریں۔ تاکہ ہماری مساجد پاک صاف رہے لوگ اللہ تعالیٰ کے گھر میں سکون و راحت محسوس کریں اللہ تعالیٰ ہمیں عمل رنے کی توفیق عطافرمائے آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے