مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی
نائب ناظم امارت شرعیہ بہار اڈیشہ و جھارکھنڈ
پارلیامنٹ اور راجیہ سبھا کا سرمائی اجلاس 20دسمبر کو اختتام پذیر ہوا، یہ اجلاس 25نومبر سے شروع ہوا تھا، یعنی کل چھبیس دن تک کاروائی چلتی رہی، لاکھوں روپے اس اجلاس پر یومیہ خرچ ہوئے، لیکن کام کا تناسب پارلیامنٹ میں چون(54)اور راجیہ سبھا میں صرف اکتالیس (41)فی صد رہا، بقیہ اوقات ہنگامے، احتجاج مظاہرے، اور ایوان کی کاروائی ملتوی ہونے کی نظر ہو گیے، حکومت نے اس اجلاس میں سترہ (17)بل لانے کی فہرست اراکین کی میز پر رکھی تھی، لیکن صرف چار (4)بل پیش ہو سکے اور دونوں ایوانوں سے کوئی بل بھی پاس نہیں ہو سکا، سب سے اہم بل”ایک ملک ایک انتخاب“ تھا جسے جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کو غور وفکر کے لئے سونپ دیا گیا، دو دن دونوں ایوانوں میں آئین پر بحث کے لئے بھی نکالا گیا، پارلیامنٹ میں پندرہ گھنٹے پینتالیس (15.45)منٹ اور راجیہ سبھا میں سترہ(17)گھنٹے سے زیادہ اس بحث میں صرف ہوئے، پارلیامنٹ میں باسٹھ(62)اور راجیہ سبھا میں اسی (80)اراکین نے بحث میں حصہ لیا، اراکین نے آئین پر انتہائی سطحی بحثیں کیں، ایک دوسرے پر الزام لگاتے رہے،19 دسمبر کو کانگریس اور بی جے پی کے اراکین پارلیامنٹ احاطہ میں دست وگریباں بھی ہوئے، دونوں پارٹیوں کے کم از کم دو دو ارکان کو چوٹیں آئیں، پٹیاں باندھی گئیں، ایک دوسرے کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی، حکمراں جماعت نے اپنے اثر ورسوخ کا استعمال کرکے راہل گاندھی پر سخت دفعات لگوائے، آخر میں راجیہ سبھا میں بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر پر وزیر داخلہ امیت شاہ کے توہین اور ہتک آمیز تبصرے نے رہی سہی کسر مکمل کر دی، پھر شروع ہوا امیت شاہ کے استعفیٰ اور ملک سے معافی کامطالبہ، یہ مطالبہ احتجاج مظاہروں کی شکل میں اب تک مختلف ریاستوں میں جاری ہے، ایوان کی لڑائی اب سڑکوں پر آگئی ہے، پارلیامنٹ کے اسپیکر نے ایوان کے کسی بھی دروازے پر احتجاج کو ممنوع قرار دیا ہے اور ایسا کرنے پر تادیبی کاروائی کی دھمکی دی ہے، حزب اختلاف نے نائب صدر جمہوریہ راجیہ سبھا کے چیر مین جگدیپ سنگھ دھنکھڑ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی کیوں کہ حزب اختلاف کوان کی جانب داری، گفتگو کرتے وقت مائیک بند کروانے اور بحث کا موقع نہ دینے کی شکایت تھی، لیکن اسے بلا وجہ بتائے خارج کر دیا گیا، راجیہ سبھا کی تاریخ میں چیرمین کے خلاف یہ پہلی عدم اعتماد تحریک تھی، خارج ہونے کے باوجود عوام میں یہ پیغام تو چلا ہی گیا کہ جگدیپ سنگھ دھنکھڑ اپنی ذمہ داریاں اچھے سے پوری نہیں کررہے ہیں اوروہ ایوان میں حکمراں جماعت کے ترجمان بن کر رہ گیے ہیں،پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں میں سرمائی اجلاس کے اوقات جس طرح ضائع کیے گیے، وہ ہندوستانی جمہوریت کے دامن پر بد نما داغ ہیں، جس طرح کے مظاہرے دیکھنے میں آئے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پارٹی کے ارکان سے دو سری پارٹی کے ارکان کا اختلاف اب نظریات کی جنگ نہیں رہ گئی ہے۔ بلکہ یہ مختلف مذاہب کے درمیان نفرت کی جو کاشت پورے ملک میں کی گئی ہے، اس کے اثرات اب ارکان پارلیامان میں بھی نظر آرہے ہیں، اب بحثیں ملک کے مفاد کے بجائے پارٹی کی بنیاد پر کی جا رہی ہیں، اور نظریاتی جنگ جسمانی تشدد اور سخت دشمنی میں بدل گئی ہے، جو انتہائی خطرناک معاملہ ہے۔
اس کے علاوہ دونوں ایوانوں میں بحث کا معیار انتہائی گراوٹ کا شکار ہے، ارکان جب بحث کرتے ہیں، تاریخی حقائق کو جھٹلاتے ہیں تو ان کے علم ودانش پر سر پیٹنے کو جی چاہتا ہے، ہندوستان کے ایوان جہاں سے ملک کو تعمیری اقدار، آپسی میل جول، ملک کو صحیح سمت دینے، نفرت کو دور کرنے، اقلیتوں کے خلاف ہو رہے حملوں کو روکنے کی تدابیر پر گفتگو ہونی چاہیے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہو رہا ہے،ایسا معلوم پڑتا ہے کہ دونوں ایوان کے ارکان بے سمتی کے شکار ہیں، ان کی سمت صرف پارٹی حملہ اور جوابی حملہ ہے، نہ کوئی نظریہ ہے اور نہ کوئی وِژن اور نقطہ نظر ایسے لوگ ملک کو آگے کیا بڑھائیں گے، تنزل اور انحطاط کی طرف لے جا رہے ہیں، اللہ ہمیشہ محافظ ہے، لیکن ایسے موقع سے خاص طور پر کہا جاتا ہے کہ اب تو اس ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔
