تحریر: ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج، بارہ بنک
ادب ایک ایسی دنیا ہے جو اپنے خالق کو نام، پہچان اور دلوں میں جگہ دیتی ہے۔ ایسے ہی ایک ادب کے خدمتگار اور سماجی اقدار کے ترجمان شاعر یاسین انصاری ہیں، جنہوں نے اپنی شاعری سے نہ صرف اردو ادب کو مالا مال کیا بلکہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر گہرائی سے روشنی ڈالی۔ ان کی شاعری معاشرتی، اصلاحی اور مقصدی رجحانات کی بہترین مثال ہے۔
کر کے امداد زمانے کو بتاتے ہیں لوگ
ایک احسان کو سو بار جتاتے ہیں لوگ
دھوپ کو ریشمی آنچل نہیں کہنے والے
ہم ترے لہجے کو مخمل نہیں کہنے والے
گھومتے ہیں جو مہنگی کاروں میں
بیٹھ کر دیکھیں غم کے ماروں میں
ابتدائی زندگی اور تعلیم:یاسین انصاری کا اصل نام محمد یاسین انصاری ہے۔ وہ 27 مئی 1977 کو اٹاوہ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ادب اور علم سے ان کی محبت نے انہیں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر آمادہ کیا۔ انہوں نے ایم اے اردو اور ایم اے انگریزی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ان کی تعلیمی لیاقت ان کی شاعری کی گہرائی اور زبان کی پختگی میں واضح جھلکتی ہے۔
پیشہ ورانہ زندگی:یاسین انصاری تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ایک معلم کے طور پر، وہ نسلِ نو کو تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں اور ادب کے چراغ بھی روشن کرتے ہیں۔ درس و تدریس ان کے لئے محض پیشہ نہیں بلکہ ایک مشن ہے، جس کے ذریعے وہ اخلاقی اور سماجی اقدار کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی شاعری سے ان ان کی شخصیت نمایاں ہوتی ہے ۔
راضی جو اپنے رب کی عطا پر نہیں ہوا
دل کا سکون اس کو میسر نہیں ہوا
آنے والی جو مصیبت ہے وہ ٹل سکتی ہے
کوئی نیکی تری تقدیر بدل سکتی ہے
بلندیاں ہمیں محنت سے ہوتی ہیں حاصل
بلندیاں ہمیں خیرات میں نہیں ملتیں
ادبی خدمات اور تخلیقی سفر:یاسین انصاری کی شاعری ان کے وسیع تجربات، زندگی کی حقیقتوں اور معاشرتی مسائل کا عکس ہے۔ ان کی تخلیقات مختلف قومی و ریاستی ادبی اکادمیوں کے جرائد، مشہور رسائل، اور اخبارات میں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کا کلام نہ صرف روایتی موضوعات تک محدود ہے بلکہ عصری مسائل اور انسانی زندگی کی تلخیوں کو بھی اپنی شاعری میں جگہ دیتا ہے۔
یہ جو اونچے مکان رکھتے ہیں
کب غریبوں کا دھیان رکھتے ہیں
انھیں لگتا ہے کانٹوں کی طرح ہیں
مگر ہم لوگ پھولوں کی طرح ہیں
موضوعات اور طرزِ شاعری: انصاری نے اپنی شاعری کو روایتی حسن و عشق کے موضوعات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ سماج کی سچائیوں، اخلاقی اقدار، اور عصری مسائل کو اجاگر کیا ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی انتشار، انسانی مساوات اور انصاف کا درس نمایاں ہے۔ وہ کہتے ہیں:
بڑا، چھوٹا، امیر اور غریب
بعد مرنے کے سب برابر ہیں
جتنا چاہا کہاں ملا سب کو
سب نہیں ہوتا ہے عطا سب کو
کسی غریب کا کب احترام کرتی ہے
امیر شہر کو دنیا سلام کرتی ہے
یاسین کی شاعری کا ایک اور پہلو اس کا اصلاحی رنگ ہے۔ وہ اپنے اشعار کے ذریعے لوگوں کو زندگی کے حقیقی مقصد اور اخلاقی اقدار کی طرف راغب کرتے ہیں۔
کیجئے مت وقف نفرت کے لئے
زندگانی ہے محبت کے لئے
عداوت کی بھاشا کہاں بولتے ہیں
محبت کی ہم تو زباں بولتے ہیں
اعزازات اور اعترافات: انصاری کی ادبی خدمات کو مختلف سماجی اور ادبی تنظیموں نے سراہا ہے۔ انہیں کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے، جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں اور معاشرتی خدمات کا اعتراف ہیں۔ اردو اکادمیوں کے جرائد اور ویب سائٹس جیسے ریختہ پر ان کے اشعار منتخب ہو چکے ہیں، جو ان کے ادبی مقام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
علم کی جب مجھ کو دولت مل گئی
کتنی شہرت کتنی عزت مل گئی
علم کے اور ادب کے آئینے
مجھ کو حیرت سے تک رہے ہیں اب
صاحب علم سے پوچھے کوئی قیمت میری
صاحب علم سمجھتے ہیں حقیقت میری
زیر ترتیب شعری مجموعہ:محمدیاسین کا پہلا شعری مجموعہ زیر ترتیب ہے اور جلد ہی اشاعت کے مراحل طے کرے گا۔ یہ مجموعہ ان کے خیالات، تجربات، اور جذبات کا ایک حسین امتزاج ہوگا، جس کا قارئین بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں۔
وقت کے سورجوں سے یہ کہہ دو
روشنی جگنوؤں کے پاس بھی ہے
خسارہ بھی ہوکر خسارہ نہیں ہے
ابھی حوصلہ میں نے ہارا نہیں ہے
سماج کے ترجمان:محمدیاسین کی شاعری سماج کے مختلف پہلوؤں کا آئینہ ہے۔ وہ نہ صرف موجودہ مسائل کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ اصلاح اور امید کا پیغام بھی دیتے ہیں۔ ان کے یہ اشعار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں
ہر قدم اک نیا حادثہ ہے
کس قدر جینا مشکل ہوا ہے
بے خطا جب صفائی دیتے ہیں
لفظ گونگے دکھائی دیتے ہیں
کسی مظلوم کے خموش آنسو
چیخیں بن کر سنائی دیتے ہیں
ہمیشہ بھلا سوچا ہم نے سبھی کا
برا ہم نے چاہا نہیں ہے کسی کا
یاسین انصاری اردو ادب کی ایک اہم شخصیت ہیں، جو اپنی شاعری کے ذریعے انسانی دلوں کو چھونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کی شاعری ایک ایسی مشعلِ راہ ہے، جو نہ صرف معاشرتی اصلاح کا درس دیتی ہے بلکہ زندگی کو جینے کا ایک مثبت زاویہ بھی پیش کرتی ہے۔
ان کی شاعری میں چھپے گہرے پیغامات اور زندگی کی حقیقتوں کو سمجھنے کے لئے قارئین کو انتظار ہے کہ ان کا پہلا شعری مجموعہ جلد منظر عام پر آئے، تاکہ ان کے خیالات کا وسیع تر دائرہ ہم سب کے لئے روشنی کا ذریعہ بنے۔
مانا کہ ہیں جھمیلے بہت زندگی کے ساتھ
پھر بھی اسے گزارئیے زندہ دلی کے ساتھ
ختم نفرت ہو دوستی ہو جائے
خوشنما اب تو زندگی ہو جائے
وہ جلاؤ دئے محبت کے
ہر طرف جن سے روشنی ہو جائے

