ڈاکٹر عبد الغنی القوفی

آج کی یہ شام اپنے دامن میں بے شمار جذبات سمیٹے ہوئی تھی۔ غم واندوہ کا ایک ایسا منظر، جسے دیکھ کر ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل مضطرب تھا۔ علاقہ کی معزز شخصیت، خوش اخلاق انسان، ہمدرد اور باکردار شخصیت الحاج عبد الرشید خاں صاحب کے جنازے کا منظر دیدنی تھا۔ لوگوں کا ہجوم، جو ایک سمندر کی مانند بہہ رہا تھا، یہ منظر اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ آپ کس قدر محبوب اور ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے۔
شام چار بجے، مولانا شمیم احمد ندوی کی امامت میں مرحوم کی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ جنازہ کی نماز کلیہ عائشہ کے وسیع وعریض میدان میں ادا کی گئی، لیکن کلیہ اپنی وسعت کے باوجود تنگی کا شکوہ کناں تھا۔ میدان میں لوگ جہاں تک نظر جا رہی تھی، صفیں بنا کر کھڑے تھے۔ لوگوں کا جم غفیر اس بات کی دلیل تھا کہ مرحوم نہ صرف اپنے خاندان کے بلکہ پورے علاقے کے لئے ایک مرکز محبت اور عقیدت کا ذریعہ تھے۔
لوگوں کا اتنا بڑا ہجوم کسی بھی شخص کی مقبولیت کا پیمانہ ہوتا ہے۔ ع "زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو”۔ اس قول کا مشاہدہ آج جنازے میں واضح طور پر ہو رہا تھا۔ کدربٹوا خاندان تو پورا جمع تھا ہی، ساتھ ہی علاقے کے عام افراد بھی بڑی تعداد میں شریک تھے۔ جنازے میں ہر طبقہ کے لوگ شریک تھے، کوئی مخصوص طبقہ یا گروہ نہیں بلکہ علماء کرام، اساتذہ، طلبہ، عام عوام سبھی موجود تھے۔ ارباب جماعت و جمعیت، مدارس و مکاتب کے نمائندہ وفود نے اپنی شرکت سے جنازے کے وقار میں چار چاند لگا دیا۔ ہر ایک کی موجودگی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ مرحوم کا دل سب کے لئے کھلا ہوا تھا اور وہ سب کے دلوں میں بستے تھے۔
 الحاج عبد الرشید خاں ایک عملی انسان تھے۔ ان کی زندگی کا ہر پہلو ہمارے لئے ایک سبق ہے۔ وہ ہمیشہ ہمدردی، محبت، اور خیر خواہی کے جذبات سے معمور رہتے۔ وہ سماج کے کمزور طبقوں کے لئے سہارا تھے، ان کی زندگی غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی خدمت کے لئے وقف تھی۔ ان کے اخلاق، کردار اور دینی تقویٰ نے انہیں سبھی کا محبوب بنا دیا تھا۔
جنازے میں علاقے کے مشہور اہل علم و فضل کی شرکت نے اس کی اہمیت کو اور بڑھا دیا۔ مدارس کے اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد بھی جنازے میں موجود تھی۔ یہ ایک عظیم منظر تھا جب علم و عمل کے نمائندے ایک صالح انسان کی آخری رسومات میں شریک ہو کر ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے۔
نماز جنازہ کے بعد مرحوم کو سپرد خاک کر دیا گیا۔ مٹی کے بدن کو مٹی کے حوالے کر دیا گیا۔ ہر ایک دل سے دعائیں نکل رہی تھیں: "اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی نیکیوں کو قبول کرے، سیئات کو معاف فرمائے اور ان کے درجات کو بلند کرے۔”
ڈاکٹر عبد الغنی القوفی، صدر راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال، نے اپنے تعزیتی پیغام میں کہا:
"الحاج عبد الرشید خاں مرحوم نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے علاقے کے لئے ایک عظیم سرمایہ تھے۔ ان کی زندگی محبت، اخلاص اور خدمت کا عملی نمونہ تھی۔ ان کی کمی کبھی پوری نہیں ہو سکے گی۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی قبر کو جنت کے باغات میں تبدیل کرے، ان کی نیکیوں کو قبول کرے، اور ان کے درجات کو بلند کرے۔ ان کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے اور ان کی قربانیوں کا اجر دے۔”
مولانا مشہود خاں نیپالی، ناظم راشٹریہ مدرسہ سنگھ نیپال، نے کہا:
"الحاج عبد الرشید خاں صاحب جیسے لوگ دنیا میں کم ہی آتے ہیں۔ ان کی وفات ہم سب کے لئے ایک عظیم صدمہ ہے۔ ان کی زندگی کا ہر لمحہ ہمیں خدمت خلق اور محبت کا درس دیتا ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو منور کرے، اور ان کی نیکیوں کو صدقہ جاریہ بنا دے۔ ان کے جانے سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پر نہیں ہو سکے گا، لیکن ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔”
 الحاج عبد الرشید خاں صاحب کی زندگی ایک روشن چراغ کی مانند تھی، جو لوگوں کے لئے روشنی کا سبب بنی۔ ان کی زندگی کے نقوش ہمیشہ ہمارے دلوں پر ثبت رہیں گے۔ ان کی محبت، خدمت، اور قربانیوں کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ یہ جنازہ ایک پیغام تھا کہ انسان کا اصل سرمایہ اس کی نیکیاں اور اس کی محبت ہے، جو اسے دوسروں کے دلوں میں زندہ رکھتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ مرحوم کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے اور ان کی نیکیوں کا اجر ان کے خاندان اور سماج کو بھی عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے