پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
عبدالغفارصدیقی
اللہ کا شکر ہے کہ حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ روکنے پر نہ صرف اتفاق ہو گیا بلکہ اس پر عمل درآمد بھی شروع ہوگیا ہے۔سیز فائر پر جہاں غزہ اور فلسطین کے متائثرین کی جانب سے خوشی و مسرت کا اظہار کیا جارہا ہے،وہیں پورے اسرائیل میں غم اور سوگ کا سماں ہے۔حالانکہ سے فیصد سے زائد اسرائیلی سیز فائر کے حق میں ہیں اور انھوں نے سیز فائر پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔لیکن بیانوے فیصد اسرائیلی شہری سیز فائر کو چونکہ اسرائیل کی شکست کے طور پر دیکھ رہے ہیں اس لیے بہر حال وہ خوشی کا اظہار کرنے سے قاصر ہیں۔عالمی رہنماؤں نے سیز فائر کا خیر مقدم کیا ہے۔بعض حلقوں کی جانب سے تاخیر پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔
سیز فائر پر حماس کی جانب سے خوشی کا اظہار دل میں یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ کیا جنگ واقعی میں کوئی قابل مذمت عمل ہے۔یہ سوال اس لیے بھی پیدا ہوتا ہے کہ بہت سے دانشوروں کی زبانیں یہ کہتے ہوئے سنی جاتی ہیں کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ طرز فکر حقیقت کے برعکس ہے۔جنگ کبھی کبھی نہ صرف ناگزیر ہوجاتی ہے بلکہ وہ عبادت بھی بن جاتی ہے۔اسی لیے حفیظ میرٹھی نے کہا تھا۔
مسئلے کچھ ایسے بھی ہیں جن کو کہ سلجھاتی ہے آگ
انسانی فطرت میں غلبہ و تفوق کے حصول کی خواہش پائی جاتی ہے۔اس کے لیے اس نے بہت سی وجوہات بھی وضع کرلی ہیں۔مثال کے طور پر ہندو مذہب میں ذات پات پر مبنی اونچ نیچ کے نظام کی موجودگی۔جس کے مطابق انسانوں کو اعلیٰ و ادنیٰ میں تقسیم کیا گیا ہے۔بعض ناعاقبت اندیش مولویوں نے ملت واحدہ کو بھی اشراف و اراذل کے خانوں میں تقسیم کرنے کی ناپاک کوشش کی ہے۔برتری کا یہی جذبہ اہل کتاب یہودو نصاریٰ کی زبان سے نَحْنُ أَبْنَائُ اللَّہِ وَأَحِبَّاؤُہ ُنَحْنُ أَبْنَائُ اللَّہِ وَأَحِبَّاؤُہُ کا نعرہ بلند کراتا ہے۔غلبہ و تفوق کے حصول کا یہ مادہ انسان کو انسانوں پر ظلم کرنے پر اکساتا ہے۔برتری کی یہ جنگ انسانوں کو غلام بناتی ہے۔ظالم کا ظلم بڑھتا ہے تو فطرت مظلوم کی حمایت میں کھڑی ہوجاتی ہے اور فرعون کی طاقت کو دریائے نیل میں غرق کردیتی ہے۔نمرود کو مچھروں سے اور ابرہہ کو ابابیلوں سے مروادیتی ہے،بدرو و احد میں قریش کے غرور کو کمزور ہاتھوں کے ذریعہ خاک میں ملادیتی ہے۔تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ روئے زمین پر کبھی دس سال ایسے نہیں گزرے ہیں جب ساری دنیا میں امن کا پرچم لہراتارہا ہو۔کہیں نہ کہیں جنگ جاری رہی ہے۔کبھی یہ جنگ دو ملکوں کے درمیان ہوئی،کبھی دو نظریوں کے درمیان اور کبھی دو بلاکوں کے درمیان۔زمانے کی ترقی اور نئی ایجادات نے ان جنگوں کو مزید تباہ کن اور ہولناک بنایا ہے۔امن کی ہزار کوششوں کے بعد بھی جنگ کی آگ کبھی ٹھنڈی نہیں ہوئی۔اقوام متحدہ کے قیام اور ممالک کی سرحدیں طے ہوجانے کے باوجود بھی آج تک جنگ جاری ہے۔اس لیے کہ طاقت ور اپنی طاقت کے زعم میں کسی قانون اور کسی اقوام متحدہ کو خاطر میں نہیں لاتا۔پھر طاقت ور ممالک کا متعصبانہ اور غیر عادلانہ رویہ آگ میں گھی کا کام کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کا قیام 24 اکتوبر،1945 کو ہوا جب دنیا پہلے ہی دو عالمی جنگیں دیکھ چکی تھی۔ ان جنگوں کے بعد اقوام متحدہ کا قیام ’آنے والی نسلوں کو جنگ کی لعنت سے محفوظ رکھنا‘ کے نعرے سے کیا گیاتھا۔مگر کیا ایسا ہوا؟ کیا جنگیں رکیں؟ کہنے کو اقوام متحدہ کے ریکارڈ کے مطابق اس نے اپنے قیام سے اب تک ستر سے زائد امن معاہدے کروائے ہیں؟ مگر ان امن معاہدوں کی حیثیت محض کاغذ کے مقدس اوراق سے زیادہ کبھی نہیں رہی جن کو کمزوروں نے آنکھوں سے لگایا اور طاقت ور نے مذاق اڑایا۔80 سال میں سے 70سال تک خود اسرائیل و فلسطین کے درمیان کشیدگی جاری رہی جو کئی بار جنگوں میں تبدیل ہوگئی۔اس کے علاوہ افغانستان کی سرزمین پر 40 سال سے زائد عرصہ تک جنگ جاری رہی۔عراق ایران جنگ اور پھر عراق پر امریکی حملہ اور اس کے بعد طویل جنگ جاری رہی،1955سے 1975تک ویتنام کی جنگ کے شعلے بھڑکتے رہے اورخود پاکستان اور بھارت کے درمیان دوبار جنگیں ہوئیں۔اس کا مطلب ہے کہ اقوام متحدہ نہ صرف اپنے مقصد قیام میں بری طرح ناکام ہوئی بلکہ اس کی متعصبانہ پالیسی کے بدولت جنگیں طویل بھی ہوئیں۔کہنے کو تو یہ عالمی ادارہ ہے مگر اس کی لگام پانچ ویٹو ممالک کے ہاتھوں میں ہے۔بدقسمتی سے ان ویٹو ممالک میں ایک بھی مسلمان نہیں ہے۔اس گفتگو سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ جب مظلوم ظالم کے ظلم سے تنگ آجاتا ہے تو جنگ ناگزیر ہوجاتی ہے۔
ظالم کے خلاف حق کا پرچم بلند کرنے کو اسلام جہاد کہتا ہے۔جہاد کو یہود و نصاریٰ مقدس جنگ کا نام دیتے ہیں۔دنیا میں اگر کوئی سب سے زیادہ امن پسند اور انسانیت دوست انسان تھا تو وہ اللہ کے آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ ؐ تھے۔آپ ؐ کو قرآن میں رحمۃ للعٰلمین کا لقب دیا گیا۔قرآن آپ کی رحم دلی اور نرمی پر گواہ ہے۔آپ ؐ نے کبھی اپنے ذاتی مفاد کے لیے کسی کو اف تک نہیں کہا۔لیکن یہی پیغمبر بدرو احد سے لے کر تبوک تک مسلسل بارہ سال حالت جنگ میں رہتا ہے۔اس کی یہ جنگ خود کی برتری کے لیے نہیں بلکہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ہوتی ہے۔اسی بنا پر اس کو جہاد کہا گیا اور اس میں شامل ہونے والوں کو جنت کی بشارتیں دی گئیں ہیں۔اسی لیے مسلمانوں پر لازم کیا گیا کہ وہ ہر دور میں ظالم کے خلاف جنگ کریں۔سورہ نساء کی آیت 75 میں حکم دیا گیا:
”اور کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور ہمارے لیے اپنے ہاں سے کوئی حمایتی بھیج دے اور ہمارے لیے اپنے ہاں سے کوئی مددگار بنا دے۔”
حماس کی جدو جہد اسی فریضہ کی ادائیگی کے لیے ہے۔ساری دنیا جانتی ہے کہ اسرائیل ایک قابض ریاست ہے۔اس کو عالمی طاقتوں نے ایک سازش کے تحت وہاں بسایا ہے۔اس کے باوجود اگر اسرائیل صرف اسی سرزمین تک محدود رہتا جو اسے مفت میں دی گئی تھی تب تو یہ امید کی جاسکتی تھی کہ اہل فلسطین اس کو ایک ریاست کے طور پر قبول کرلیں اور خطہ میں جنگ نہ ہو۔لیکن اسرائیل نے عظیم تر اسرائیل کے خواب دیکھے اور عربوں پر ظلم کرنا شروع کردیا۔وہ ایک ایک قدم آگے بڑھتا رہا اور فلسطینی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرتا رہا۔آج اس نے ستر فیصد سے زائدفلسطین پر قبضہ کرلیا۔اس کے علاوہ کئی ہمسایہ ممالک کی سرحدوں کو بھی کم کردیا۔اہل فلسطین نے اول دن سے اسرائیل کے قیام کی مخالفت کی۔ظالم طاقتوں نے قابض اسرائیل کو ایک ملک کی حیثیت دے دی،اسے اپنی فوج بنانے اور ہتھیار رکھنے اور بیچنے کے لائسنس عطا کردیے اور زمین کے اصل باشندوں کو اقوام متحدہ کی قراددوں کا محض تحفہ دیتے رہے۔آج تک فلسطین کو ایک ملک کی حیثیت سے نہیں دی گئی۔یہ ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ اور اس ظلم میں سب سے زیادہ مدد اقوام متحدہ نے کی۔وہ امریکہ و برطانیہ جو امن کا نوبل انعام تقسیم کرتے ہیں انھوں نے ہمیشہ اسرائیل کی پشت پناہی کی۔موجودہ ظالمانہ کارروائیوں میں بھی امریکہ اور برطانیہ پیش پیش رہے۔غزہ پر بم برستے رہے۔معصوم جان گنواتے رہے،ہسپتال کھنڈر بنتے رہے،زخمی کراہتے رہے،آہ و بکا کے شور سے عالم بالا میں لرزہ آگیا مگر امن و انصاف کے نام نہاد علمبرداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔اسرائیل کے خلاف لائی جانے والی قراردادوں کو امریکہ ویٹو کرتا رہا اللہ بھی دشمنوں کی سازشوں کو طشت از بام کرتا رہا اور اپنی نشانیاں اہل بصیرت کے لیے بار بار ظاہر کرتا رہا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اس جنگ میں اسرائیل کو ہزیمت اٹھانا پڑی،اس کو شکست فاش ہوئی، وہ ہر محاذ پر ناکام ہوگیا،اسے ذلت و رسوائی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آیا۔اس کی سپریمیسی ختم ہوگئی۔اس کے رعب و دبدبہ کی قلعی کھل گئی،اس کا آئرن ڈوم اور دفاعی نظام موضوع تمسخر بن کر رہ گئے،وہ جہاں سات اکتوبر 2023 کو تھا اس سے بھی پیچھے چلا گیا،اس کو معاشی طور پر ناقابل تلافی نقصان ہوا۔اس کے بازار نے دم توڑ دیا ۔اس پر قرض کا پہاڑ کھڑا ہوگیا،وہ عربوں سے جو پینگیں بڑھارہا تھا اس پتنگ کی ڈور کٹ گئی،اس نے دوست کھودئے اور دشمنوں میں اضافہ کرلیا۔اس کے فوجیوں کے حوصلہ پست ہوگئے، انھوں نے راہ فرار اختیار کی اور لڑنے سے انکار کردیا۔اسرائیل کی اجتماعیت میں شگاف پڑگیا،حکومت کی اتحادی جماعتیں ساتھ چھوڑنے لگیں۔اس کا گریٹر اسرائیل کا خواب تعبیر سے مزید دور ہوگیا۔
دوسری طرف حق کے علمبرداروں کے ایمان میں اضافہ ہوگیا۔انھوں نے ایک بار پھر اپنے ماتھے کی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ اللہ نے بے سروسامانی کے باوجود اسباب جنگ سے لیس بڑے لشکر پر انھیں فتح دی۔انھوں نے تباہ حال اور حصار بند علاقہ میں زندہ رہ کر من و سلویٰ کا مزہ چکھ لیا۔مغویوں کو اسرائیل کی بمباری اور اس کی جاسوسی نظروں سے اوجھل رکھ کر بتادیا کہ اصل حفاظت کرنے والی ذات اللہ کی ہے،انھوں نے پشت پر نہیں سینے پر گولیاں کھائیں اور ظاہر کردیاکہ اللہ کے شیرمیدان جنگ سے منہ پھیرنے والے نہیں،ان کے بچے فاقوں سے مرگئے،ان کے مریض علاج کی سہولیات نہ ہونے کے سبب دم توڑ گئے،ان پر اسباب حیات تنگ کر دیے گئے مگر ان کے کسی ایک بھی مجاہد نے کمزوری نہیں دکھائی،نہ عوام نے جنگ کے خلاف مظاہرے کیے،نہ اپنے رہنماؤں کے پتلے نذر آتش کیے،مائیں اپنے جگر گوشوں کو سجا کر میدان جنگ میں بھیجتی رہیں اور شہید ہونے پر فخر کرتی رہیں،انھوں نے ٹینکوں کا مقابلہ پتھروں سے اور ڈرون کامقابلہ لاٹھی سے کیا۔ان کا ایک بازو کٹ گیا تو دوسرے بازو سے انھوں نے ہتھیار اٹھالیے،ان کے خاندان کے خاندان شہید کردیے گئے مگر پائے عزم میں تزلزل نہیں آیا بلکہ ان کے عزم و استقامت اور جوش و جذبہ میں اضافہ ہوتاگیا،ان کی پہلی صف کے سپہ سالار کام آگئے تو پیچھے سے دوسری صف نے بڑھ کر کمان سنبھال لی یہاں تک کہ دشمن نے یہ اعتراف کرلیا کہ ”حماس کو میدان جنگ میں نہیں ہرایا جاسکتا اس کے جتنے سپاہی شہید ہوئے تھے اس سے زیادہ نئی بھرتیاں ہوگئی ہیں۔”حماس جس کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی قسم کھائی گئی تھی دشمن اس سے امن کی بھیک مانگنے پر مجبور ہوا اور حماس کی شرطوں پر سیز فائر کرنے اورایک یہودی قیدی کے بدلے ساٹھ فلسطینی قیدی رہا کرنے پرپابند ہوا۔جو یہ کہتا تھا کہ ہم غزہ سے جنگ بندی کے باوجود نہیں نکلیں گے وہ دم دبا کر بھاگتا نظر آیا،جس نے اپنی عوام سے وعدہ کیا تھا کہ ہم اپنے ہوسٹیجیز کو طاقت سے چھڑاکر لائیں گے وہ ایک بھی قیدی کو چھڑانے میں ناکام رہا۔یہ سب کچھ اللہ کے بے پناہ فضل اور مجاہدین کے عزم واستقامت کے سبب ممکن ہوا۔ایک مومن کے سامنے اللہ کے وعدے رہتے ہیں وہ جنت کی خوشبو دور سے سونگھ لیتا ہے،وہ دنیا سے زیادہ آخرت کا طالب ہوتا ہے۔اسی لیے مردانہ وار دشمن کا مقابلہ کرتا ہے اور ایک کافر کے سامنے صرف دنیا کا مفاد ہوتا ہے اس لیے اپنی جان بچانے کی فکر کرتا ہے۔بقول علامہ اقبال :
کافر ہے توشمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ
مومن ہے تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی
اس جنگ کے نتیجہ میں مسلم امہ میں بیداری پیدا ہوئی،ایران کو طاقت حاصل ہوئی،مسلم ممالک میں قربت پیدا ہوئی،حالانکہ بعض نام نہاد اسلامی ملکوں کی منافقت بھی آشکارا ہوئی ،نیٹوممالک کے بر خلاف برکس ممالک مضبوط ہوئے۔شام سے ظالم فرار ہونے پر مجبور ہوا۔امید ہے کہ غزہ کی چنگاری دیگر ظالموں کے ایوانوں کو بھی خاکستر کرے گی۔اس جنگ نے امت کے نوجوانوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ ظلم سہنے کے لیے نہیں بلکہ ظلم کو روکنے اور مظلوموں،کمزوروں اور پسماندہ طبقات کی مدد و حمایت کے لیے برپا کیے گئے ہیں جسے قرآن امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کہتا ہے۔اس جنگ نے حق پسندوں کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ بے سروسامانی کے باوجود میدان میں کود پڑیں اللہ ان کی مدد کو ضرور آئے گا۔اس جنگ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ خود کو کمزور نہ سمجھیں،ظالموں سے خیر کی امید نہ رکھیں اور ان سے زندگی کی بھیک نہ مانگیں بلکہ آگے بڑھ کر ظلم و نا انصافی کا مقابلہ
کریں،ان کی زندگی کی بقا اسی میں ہے کہ وہ راہ حق میں شہادت کی آرزو کریں۔
شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
