مسلم اوقاف پر ناجائز قبضہ جمانے والا منصوبہ گہری سازش: محمد علی

سہارنپور( احمد رضا): جے پی سی کمیٹی کے سربراہ جگدمبکا پال کی ہٹلر شاہی سے محسوس ہوتا ہے کہ کسی شازش کے تحت وقف املاک پر قبضے کی اسکرپٹ تیار کی جا رہی ہے مگر ملک کا مسلمان اس زبردستی کو برداشت نہیں کر سکتا وقف املاک پر ناجائز قبضہ جمانے کی کوشش کرتے ہوئے آجکل بھاجپا کے زمہ دار لیڈران جگہ جگہ یہ کہتے ہوئے گھوم رہے ہیں کہ ملک میں جو وقف املاک ہیں وہ 75 فیصد سرکاری جائیدادوں پر مشتمل ہیں جبکہ 2صدی کے سرکاری کاغذات اس بات کو یقینی اور مضبوط بنانے کے لئے کافی ہیں کہ وقف کی ملک بھر میں جو وقف املاک ہیں وہ مسلم آبادی کے بزرگوں کی ذاتی ملکیت ہے اس پر سرکار اور غیر قانونی طور سے دیگر افراد نے ناجائز قبضہ جما رکھا ہے ہریانہ پنجاب اتراکھنڈ ،مہاراشٹرا ،اتر پردیش اور مدھیہ پردیش میں کھربوں روپیوں کی قیمتی جائدادیں موجود ہیں جن پر سرکار کی بری نظریں جمی ہوئی ہیں مگر ملک کا 32 کروڑ مسلمان کسی بھی صورت اپنے بزرگوں اور باپ دادا کی املاک کو خرد برد نہی ہونے دیگا!

واضع رہے کہ جو شدت پسند افراد سرکاری مشینری کی شہ پر ہماری وقف املاک پر قبضہ جمانے کی فراق میں ہیں وہ لوگ سہی معنوں میں ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لئے  بڑی رکاوٹ اور آپسی بھائی چارہ کے لئے سنگین خطرہ ہیں ایسے لوگوں سے ملک  کی سالمیت کو بھی بڑا خطرہ لاحق  ہو سکتا ہے  ہمارے بزرگوں کی خون پسینے سے بنائی گئی قیمتی سرمایہ والی جائیدادوں پر لالچی نظریں جمائے ہوئے لوگ ہمارے زندہ رہتے ہوئے ہمارے بزرگوں کی جائیدادیں ہظم نہی کر سکتے دنیا کی کوئی بھی طاقت ہمارے حق اور حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرے گی تو ہم سڑک پر آکر اپنے حق کے لئے جدوجہد کریں گے اپنے بزرگوں اور اکابرین کی ہزاروں کروڑ کی ملکیت والی جائیدادیں کسی بھی صورت برباد نہی ہونے دیں گے سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے ایک گفتگو کے دوران وقف املاک کے حقوق اور تحفظ پر اپنی مثبت راۓ زنی کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے بزرگوں اور اکابرین کے ذریعہ کئے گئے  اللہ کی راہ میں کئے گئے وقف کا تحفظ ہمارا دینی، ملی اور ایمانی فریضہ ہے ہم اپنی اس اہم ذمہ داری سے سبکدوش نہیں ہو سکتے ہیں۔

سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے اوقاف کی اہمیت اور اس کے تقاضوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جس قدر بھی ملک کے ہر خطہ میں ہمارے بزرگوں کی اوقافی املاک ہیں وہ سرکار کی ملکیت نہیں ہیں بلکہ ہزاروں مسلمانوں نے ہر دور میں مساجد، عیدگاہوں، قبرستان، درگاہ و مدارس کے لئے بطور صدقہ جاریہ  جو اپنی ذاتی املاک کو وقف کیا ہے  یہ سب وہی جائیدادیں ہیں ان پر کسی کا کچھہ بھی حق نہی ہے ہمارے بزرگوں نے بہت سے خیراتی و انسانوں کی فلاح و بہبود کے لئے بھی اپنی املاک کو وقف کیا ہے ان اداروں سے مسلم و غیر مسلم سبھی فائدہ اٹھاتے ہیں, سینئر ایڈوکیٹ محمد علی نے بتایا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کے ذریعہ حکومت وقف ایکٹ 1995کو کمزور کرکے سینٹرل وقف کونسل اور وقف بورڈوں کو براہ راست اپنے کنٹرول میں لے کر وقف املاک پر قبضے کا راستہ ہموار کررہی ہے۔

ایسے میں ملک میں بسنے والے تمام انصاف پسند شہریوں اور غیرت مند مسلمانوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اوقاف کے تحفظ کے حوالہ سے ہونے والی جدوجہد میں حصہ لیں اسی ضمن میں کل کانپور کے شہر قاضی نے بھی اپیل کی ہے کہ مدرسہ جامع العلوم میں آنے والے جمعہ کے روز بعد مغرب آل انڈیا مسلم پرنسل لاء بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی زیر صدارت تحفظ اوقاف کانفرنس منعقد ہو رہی ہے جس میں بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی، ندو ۃ العلماء لکھنؤ کے ناظر عام مولانا جعفر مسعود حسنی ندوی اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن عاملہ مولانا خالد رشید فرنگی محلّی  بھی تشریف لا رہے ہیں اس لئے لازم ہے کہ ہم اس کانفرنس کو کامیاب بنائیں اور حق کے لئے آواز بلند کریں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے