کلبرگی 29/ جنوری: علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کے لئے، ڈاکٹر۔ ڈی ایم ننجنڈپّا کی سرپرستی میں علاقائی عدم توازن کے ازالے کے لئے تشکیل شدہ کمیٹی کی شفارات پر ازسرِنو غور و خوض کرتے ہوئے ریاست کرناٹک کی مجموعی پیشرفت اور علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کے لئے جدید اور موجودہ تقاضوں اور معیارات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ریاستی حکومت نے 22 برس بعد ٹھوس اقدامات کی غرض سے پروفیسر ایم گووند راؤ کی سرپرستی میں موجودہ تقاضوں کے مطابق ریاست کے زمینی حقائق پر مبنی ایک مطالعاتی تحقیقی رپورٹ تیار کروارہی ہے اور ریاست کرناٹک میں سب سے پسماندہ علاقہ کلیان کرناٹک کی پسماندگی کو دور کرنے اور ہمہ جہتی ترقی کو یقینی بنانے موثر اقدامات کے لئے بنیادی معلومات حاصل کررہی ہے ۔ اس خصوص میں ڈاکٹر لکشمن دستی صدر کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی و دیگر عہدیداروں نے اس سلسلے میں علاقہ کلیان کرناٹک کی ترقی کے لئے اپنے نکتہ نظر کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کے 175 تعلقہ جات کو جدید تقاضوں کی روشنی میں اکائی کی بنیاد پر 35 نکات پر مشتمل 1216 صفحات کی رپورٹ پیش کی۔ ننجنڈپّا کی رپورٹ کے مطابق، کرناٹک کے کل 175 تعلقوں میں سے، 39 سب سے زیادہ پسماندہ ترین تعلقہ جات ، 40 سب سے زیادہ پسماندہ تعلقہ جات ، 35 اوسط پسماندہ تعلقہ اور 61 نسبتاً ترقی یافتہ تعلقہ جات ۔ اس طرح، 175 تعلقوں میں سے، کلیان کرناٹک کے اس وقت کے 32 تعلقوں میں سے صرف تین ہی ننجنڈپّا رپورٹ کے مطابق نسبتاً ترقی یافتہ قرار دئے گئے تھے ۔ بقیہ 29 تعلقوں میں سے 21 سب سے پسماندہ حالت میں تھے، پانچ پسماندہ ترین حالت میں اور دو اوسط پسماندہ زمرے میں تھے۔ موجودہ اعداد و شمار یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ کرناٹک کے 240 تعلقوں میں سے بھی کلیان کرناٹک علاقہ ترقی کے معاملے میں سب سے زیادہ پسماندہ ہے اور آبپاشی ، صنعت ، سڑک ، نقل و حمل ، تعلیم ، روزگار ، میڈیکل ، تجارت ، ریلوے ، ہوا بازی خدمات وغیرہ سمیت تمام شعبوں میں سب سے زیادہ پسماندہ ہے۔ ایسے میں پروفیسرگووند راؤ کی سرپرستی میں تشکیل کمیٹی نچلی اور گاؤں کی سطح کے عوام سے مشورے حاصل کرے اور مفکرین، ماہرین، عہدیداروں، اراکین اسمبلی ، وزراء علم و آگہی میں بھی ہو، اس طرح موجودہ اعداد و شمار کو حقائق کی بنیاد پر پیش کرے اور مقررہ وقت پر ترقی کو یقینی بنانے کے لئے باقاعدگی سے اجلاس منعقد کرے ۔ ایم گووند راؤ کی صدارت میں کرناٹک کے علاقائی عدم توازن کے ازالے کی ذمہ دار کمیٹی کو متوجہ کرتے ہوئے کلیان کرناٹک ہوراٹا سمیتی مطالبہ کرتی ہے کہ موجودہ تقاضوں اور معیارات کے مطابق حقائق کی بنیاد پر علاقائی عدم توازن کو دور کرنے کے لئے رپورٹ پیش کی جائے۔ کلیان کرناٹک کے سات اضلاع پر مشتمل سمیتی کے دانشوروں نے واضح کیا ہے کہ وہ گووند راؤ کمیٹی کی ہمیشہ حمایت کرتے ہوئے تفصیلی تجاویز پیش کرے گی۔ اس موقع پر بسوراج دیش مکھ اعزازی صدر ،ڈاکٹر لکشمن دستی بانی صدر، ڈاکٹر ماجد داغی نائب صدر، پروفیسر پرتاپ سنگھ تیواری ریٹائرڈ وائس چانسلر گلبرگہ یونیورسٹی ، دانشور و مفکر پروفیسر آر کے ہڑگی، پروفیسر بسواراج کمنور، پروفیسر بسواراج گلشٹی اور ڈاکٹر گاندھی جی مولکیرے موجود تھے۔
