ظہیرآباد/ یکم فروری (مشرقی آواز جدید): تلنگانہ  فریڈم فائٹر ڈاکٹر جاں  نثار معین نے معزز وزیر اعلیٰ، سری انمولہ ریونت ریڈی، ضلع کلکٹر، سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس پی) سنگاریڈی، ریونیو ڈویژنل آفیسر (آر ڈی او)، میونسپل کمشنر،  زرعی کمیٹی کے چیئرمین اور سینئر لیڈر ڈاکٹر اجول ریڈی کو درخواست پیش کی  ، جس میں  ظہیرآباد کے رہائشی علاقوں سے مویشی منڈی کو کسی مناسب مقام پر منتقل کرنے اور اس جگہ کو ’رعیتو بازار‘ میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چوں کہ مویشی منڈی ایک رہائشی علاقے میں واقع ہے، جہاں عیدگاہ، مساجد، درگاہیں اور شمشان گھاٹ وغیرہ   ہے۔  جس سے عوام شدید پریشان ہے۔ منڈی میں پیدا ہونے والا فضلہ گندگی اور غیر صحت مند ماحول کا سبب بن رہا ہے، جو بیماریوں، کیڑے مکوڑوں اور جراثیموں کے پھیلاؤ کا موجب ہے۔منڈی علاقے میں شدید ٹریفک جام اور سائنڈ پولیوشن ہو رہا ہے۔ کوڑے کرکٹ کی نامناسب نکاسی اور فضلہ کے ناقص انتظام کی وجہ سے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اسی لئے کیٹل مارکیٹ کو منتقل کر کے اسی جگہ پر  رعیتو بازار  قائم کرنے کی تجویز   پیش کی  ہے۔جس سے مقامی کسانوں اور شہریوں کو درج ذیل فوائد حاصل ہوں گے۔ جیسے کسان راست   رعیتو بازار  میں اپنی پیداوار  صارفین تک پہنچا سکتے ہیں۔ جس سے  کسانوں کو پورا معاوضہ ملے گا۔ مویشی منڈی کی منتقلی کے بعد نئے  مارکیٹ میں  مویشیوں کی خرید و فروخت کا ایک بہتر اور منظم نظام قائم کیا جا سکے گا۔معاشی ترقی کے لیے  رعیتو بازار کے قیام سے مقامی معیشت کو فروغ ملے گا، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور پائیدار زرعی ترقی کو فروغ ملے گا۔ اسی لیےفوری کارروائی کی اپیل منجانب ڈاکٹر جان نثار معین نے متعلقہ حکام سے ظہیرآباد کے شہریوں کے مسائل حل کرنے اور مویشی منڈی کو جلد از جلد کسی مناسب جگہ منتقل کرنے کی اپیل کی ہے، تاکہ صحت و صفائی کے مسائل حل ہو سکیں اور کسانوں کی بہبود کے ساتھ ساتھ پائیدار شہری ترقی کو بھی یقینی بنایا جا سکے۔واضح رھےکہ درخواست کی کاپیاں  محکمہ بلدیہ، آر ڈی او، وزیر صحت، زرعی مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ، ضلع کلکٹر سنگاریڈی اور دیگر اہم حکام کو ارسال کی گئی ہے۔ درخواست گزاروں میں ڈاکٹر جاں  نثار معین  کی قیادت میں سینئر کانگریس رہنماؤں  میں  محمد غوث الدین بابا پٹیل (جنرل سیکریٹری مائنارٹی سیل)، محمد اکبر  صاحب (شانتی نگر)، محمد ایوب (سہارا)، ایوب خان (TKS)، سدھاکر، محمد غوث الدین نظامی (سینئر صحافی)، سید احمد، کونڈیام نرسمہلو ، محمد ارشد ماچٹ پلہ، محمد مقبول، محمد بابا (ڈش)، محمد اقبال، محمد محمود اور دیگر سماجی اور نوجوان رہنماؤں کے ساتھ مل کر فوری کارروائی کی امید ظاہر کی ہے، تاکہ  ظہیرآباداسمارٹ سٹی کے رہائشیوں کی فلاح و بہبود اور مقامی کسانوں کی معاشی ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔۔۔۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے