سدھارتھ نگر: جناب مولانا محمد احمد عرف ضامن علی صاحب جماعت کے معروف وبزرگ عالم دین ہیں۔آپ کی پرہیز گاری،پارسائی، اور پاکیزگی کی باتیں زبان زد عام ہیں۔ظلمت کدہ نیپال کی عظیم سلفی دانش گاہ جامعہ سراج العلوم السلفیہ،جھنڈا نگر، نیپال کی نو تعمیر شدہ، دیدہ زیب اورعالیشان مسجد کا سنگ بنیادآپ ہی نے رکھا تھا، مشہور ہےکہ آپ مستجاب الدعوات ہیں۔ جماعت کے معتبر اور قابل قدر علماء آپ کے در پر آتے ہیں اور دعاؤں کی سوغات لےکر واپس ہوتے ہیں۔
پچھلے دنوں جب مناظر اسلام جناب مولانا شہاب الدین مدنی، لکھنؤ، ناظم صوبائی جمعیت اہل حدیث، مشرقی یوپی کی زبانی یہ مژدہ جانفزا سننے کو ملا کہ آپ کی سند حدیث عالی ہے، تو ملک کے طول و عرض سے جماعت کے معتبر و مقتدر اور عبقری علماء نے آپ کی خدمت میں حاضری دے کر سند اجازہ حاصل کیا۔
جامعہ کے مدیر الامتحانات اور مؤقر استاد دکتور عبدالغنی القوفی کا پچھلے کئی ہفتوں سے اصرار تھا کہ مولانا موصوف کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا جائے اور آپ سے علمی تعلق جوڑ کر آپ کی دعائیں حاصل کی جائیں۔ آپ کی زیارت اور ملاقات کے پروگرام بنتے لیکن قدر الله ماشاء بروز دوشنبہ جب کہ جامعہ میں سالانہ امتحان کی مناسبت سے درس گاہ میں تعلیمی سلسلہ بند ہوا تو آنا فانا آپ کی تیمارداری کا پروگرام بنا اور جامعہ سے پانچ رکنی وفد جس میں مدیر الامتحانات ڈاکٹر عبدالغنی القوفی، جامعہ کے مفتی اور ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر کے ناظم مولانا وصی اللہ مدنی، استاد محترم مولانا شفیع اللہ مدنی، جامعہ کا نقیب و ترجمان ماہنامہ مجلہ السراج کے معاون مدیر مولانا سعود اختر سلفی اور مولانا خالد رشید سراجی دوپہر کے بعد بعض اداری امور کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے بعد روانہ ہوئے۔
یہ پانچ رکنی قافلہ راستہ کی عدم شناسائی کی وجہ سے پونے تین بجے مولانا موصوف کی خدمت میں حاضر ہوا۔
اللہ جزاء خیر دے مولانا عبد الرب سلفی صاحب کو کہ آپ ہم لوگوں کے آنے کی خبر ملتے ہی ملاقات کے لیے مولانا کے پاس موجود تھے۔
پر نور چہرہ، چھوٹا قد، خمیدہ کمر، آنکھوں میں چمک، سماعت میں کمی، زلفی بال اور اس پر گرم ٹوپی، سفید کرتا اور دھاری دار لنگی میں ملبوس مولانا اپنے قائم کردہ ادارہ کلیۃ المؤمنات للبنات (سن تاسیس 1959) کی آفس میں کرسی پر تشریف فرما تھے۔ ہمارا قافلہ جوں ہی گاڑی سے اترا مولانا کی طرف مقناطیسی کیفیت میں کھنچتا چلا گیا۔
مولانا کے خلف الرشید مولانا عبیدالرحمان سلفی صاحب نے پرتپاک استقبال کیا.آپ اور آپ کے فرزند ارجمند عزیز مکرم مولانا محمود الرحمن جامعی نے پرتکلف چائے سے ضیافت کی، فجزاهم الله خيرا۔

ہم لوگوں کے سفر کا مقصد مولانا محترم کی عیادت اور حسب سہولت سند اجازۃ کا حصول تھا، ہم لوگوں کے پہنچتے ہی مولانا موصوف نے سورۃ المائدۃ آیت نمبر 60 کی تشریح کی جس کو دکتور عبدالغنی القوفی نے پڑھ کر سنایا اور سند اجازہ کی عطائیگی کی خواہش ظاہر کی، آپ نے بطیب خاطر اپنی رضامندی کا اظہار کیا، چناں چہ ہم لوگوں نے صحیحین کی اطراف حدیث کی قرأۃ اور سماع کی سعادت حاصل کی، فالحمدلله على ذلك!
ابھی ہم لوگ اطراف حدیث کی قرأة و سماع سے فارغ ہوئے تھے کہ امیر ضلعی جمعیت اہل حدیث، سدھارتھ نگر مولانا محمد ابراہیم صاحب مدنی اور ناظم جمعیت حلقہ ڈومریا گنج مولانا عبدالمنان مفتاحی کی تشریف آوری ہوئی، آپ حضرات کی معیت میں مولانا ضامن علی صاحب کے ساتھ دوسری نشست ہوئی اور قبیل مغرب قافلہ نے کوچ کیا۔ راستہ میں کونکٹی کی جامع مسجد اہل حدیث میں نماز مغرب کی ادائیگی اور مولانا عبدالمنان مفتاحی کی پرتکلف ضیافت سے فراغت کے بعد وفد جھنڈا نگر واپس ہوا۔
اللہ سے دعا ہے کہ مولانا کو صحت و عافیت کی دولت سے مالامال کرے اور ارذل عمر سے محفوظ رکھ کر ان سے اپنی رضامندی کے کام لیتا رہے۔
