بیدر۔ 12؍فروری (راست): بیدرفصیل بند تاریخی شہر ہے۔ اسی فصیل بند شہر کے مین روڈ اور تعلیم صدیق شاہ روڈ کے درمیان  وسیع احاطہ میں واقع گرلز سرکاری ہائی اسکول کی مخدوش عمارت کوتوڑنے سے پہلے اس بات کاخیال رکھاجائے کہ یہ عمارت خاندان ِ برید شاہی کے دور کی ہے۔ پہلے بادشاہ امیربرید کے دور میں تعمیر ہوئی اور دوسرے بادشاہ علی برید نے یہاں اپنی والدہ ’’خاص محل‘‘کے شاہی محل کوکافی ترقی دی ۔علی باغ اور دیگر ترقیاتی کام کے ساتھ ساتھ والدہ کے مزاج اور ان کے ذوق کو دیکھتے ہوئے لڑکیوں کا پہلا اسکول یہاں قائم کیا، یہ بات ساڑھے چار سو اور پانسو سال پہلے کی ہے۔ جب یہی خاص محل مملکت آصفیہ میں چلاآیا تو یہاں کی عمارت میںدوسری مرتبہ مدرسہ فوقانیہ عثمانیہ 1928 میں شروع کیاگیا۔ لہٰذا سرکاری گرلز ہائی اسکول کی تاریخ پانچ دہائیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ یہ باتیں ممتازوبزرگ مؤرخ جناب عبدالصمدبھارتی نے کہیں۔ آج ان سے ملنے کے لئے ان کی رہائش گاہ موقوعہ نورخاں تعلیم بیدرمیں بسواراج میور، جناب رمیش برادار کے علاوہ محمدیوسف رحیم بیدری اور سخاوت علی سخاوت ؔآئے ہوئے تھے۔ عبدالصمدبھارتی نے بتایاکہ جس وقت بیدر کے ڈپٹی کمشنر ہر ش گپتا تھے انھوں نے گرلز ہائی اسکول کے عمارت کی خستہ حالی اور اس عمارت کی تاریخی حیثیت(دونوں) کو دیکھتے ہوئے کہاتھاکہ اس عمارت کے باب الداخلہ کو ہاتھ لگائے بغیر نئی عمارت وہاں تعمیر کی جائے۔ میرامطالبہ یہ ہے کہ عمارت کے درمیان جو چھوٹاسا کمرہ (شاہی حمام )ہے ،اس کو اور باب الداخلہ (بہ سمت جنوب) کو باقی رکھتے ہوئے نئی عمارت تعمیر ہو۔ کیوں کہ گرلز ہائی اسکول کی موجودہ عمارت اپنے اندر پانسوسالہ تاریخ رکھتی ہے۔ جناب رمیش برادار نے توجہ دلاتے ہوئے کہاکہ یہ کام بیدر کے وزیر جناب رحیم خان کو کرنا چاہیے۔ وہ سرکاری گرلز ہائی اسکول بیدر کی تاریخی حیثیت کااچھی طرح مطالعہ کرنے کے بعد ہی نئی عمارت تعمیر کریں۔ جناب محمدیوسف رحیم بیدری نے بھی تجویز پیش کی کہ جوعمارت اور زمین لڑکیوں کے تعلیم کی تاریخی گواہ ہے اور جہاں دودفعہ اسکول تھا،وہاں کی تاریخ کو تیسری دفعہ کی تعمیر میںمٹادینا درست نہیں ۔جناب عبدالصمد بھارتی کامطالبہ کہ اسکول کے درمیان واقع شاہی حمام اور باب الداخلہ کو قائم رکھ کر اسکول کی تعمیر ہومناسب مطالبہ ہے ، میں اس کی تائید کرتاہوں ۔ وہاں زیر تعلیم اور بیدر شہر کی دیگر طالبات بھی اپنی تعلیمی تاریخ کو محفوظ کرنے کے لئے آگے ضرور آئیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے