ڈاکٹر سراج الدین ندوی
ناظم جامعۃ الفیصل، بجنور، یوپی
سحری
روزہ رکھنے کی نیت سے صبح صادق سے پہلے جو کچھ کھایا پیا جائے اسے’’ سحری‘‘ کہتے ہیں، سحری کھانا سنت ہے۔ خواہش نہ ہونے کے باوجود بھی سحری کی نیت سے کچھ نہ کچھ کھا پی لینا چاہیے تاکہ سنت کے ثواب سے محروم نہ رہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی سحری کھاتے تھے اور صحابۂ کرام کو بھی سحری کھانے کی تاکید فرماتے تھے۔ آپ نے ارشاد فرمایا:
’’ سحری کھایا کرو کیوںکہ سحری کھانے میں بڑی برکت ہے۔‘‘ (متفق علیہ)
سحری روزے کا لازمی جز ہے۔اگر رات کو آنکھ نہ کھلے اور سحری نہ کھائی جاسکے اور روزہ رکھنے کی طاقت ہو تو روزہ رکھیے اور بغیر سحری کے روزہ رکھنے کی طاقت نہ ہو تو روزہ مت رکھیے ،قضا کرلیجیے۔
سحری کھانے سے روزہ رکھنے میں بڑی سہولت ہوجاتی ہے اور آدمی زیادہ نقاہت اور کمزوری محسوس نہیں کرتا،اس حکمت کو آپﷺ نے اس طرح واضح فرمایا:
’’ قیام ِ لیل کے لیے دوپہر میںقیلولہ کرکے اور روزہ رکھنے کے لیے سحری کھاکر قوت حاصل کرو۔‘‘ (ابن ماجہ)
ایک جگہ فرمایا:
’’ سحری کھانے میں سراسر برکت ہے، تم لوگ سحری کھانا نہ چھوڑ دینا چاہے پانی کا ایک ہی گھونٹ ہو، سحری کھانے والوں پر خدا رحمت نازل فرماتاہے اور فرشتے ان کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔‘‘ (مسند احمد)
سحری کھانے کی ترغیب دیتے ہوئے آپﷺ نے ایک بار فرمایا:
’’ ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں یہی فرق ہے کہ ہم سحری کھاتے ہیں اور وہ سحری نہیں کھاتے۔‘‘ (مسلم)
یہود یہ سمجھتے تھے کہ سحری کھاکر روزہ رکھا تو کیا رکھا ؟لیکن اسلامی شریعت میں اس تصور کی کوئی گنجائش نہیں۔اسلامی شریعت میں روزہ صرف دن کاہے اور رات میں کھانے پینے کی مکمل آزادی ہے اور اس آزادی سے فائدہ نہ اٹھاناکفرانِ نعمت ہے۔ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ بھوک پیاس سے نڈھال ہوکر بیمار پڑ جائیں، بلکہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ انسان میں اطاعت کا جذبہ ہو اور خدا کے احکام وہدایات کی پابندی کرنے کا مزاج پروان چڑھے۔
سحری تاخیر سے کھانی چاہیے۔ بعض لوگ آدھی رات ہی کو سحری سے فارغ ہوجاتے ہیں، بعض لوگ سونے سے پہلے ہی سحری کھالیتے ہیں کہ سحری کے لیے کون بیدار ہوگا،یہ مناسب نہیں۔ سحری تاخیر سے کھانے میں زیادہ ثواب ہے۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ حضرت زید بن ثابت ؓ نے بیان کیا ہے کہ ہم نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ سحری کھائی اور آپﷺ نماز فجر کے لیے کھڑے ہوگئے۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں نے زید بن ثابت ؓ سے پوچھا کہ سحری کھانے اور اذانِ فجر میں کتنا وقفہ رہا ہوگا۔ آپﷺ نے بتایاکہ پچاس آیتوںکے بقدر وقفہ رہاہوگا۔ ظاہر ہے کہ پچاس آیتیں پڑھنے میں پانچ چھ منٹ سے زیادہ صرف نہیں ہوتے۔
ائمہ اربعہ اور جمہور صحابہ ؓ کے نزدیک سحری کا وقت ’’ صبح صادق‘‘تک ہے۔ اس کی دلیل قرآن مجید کی یہ آیت ہے:
’’ کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ تمھارے (رات کے) سیاہ دھاگے سے صبح کا سفید دھاگا نمایاں ہوجائے۔‘‘(البقرۃ: 187)
جب رات کی تاریکی ختم ہوجائے اور دن کا اُجالا شروع ہوجائے تو اسے صبحِ صادق کہتے ہیں۔ حضرت حذیفہ سے دریافت کیا گیا کہ آپﷺ نے کس وقت نبی ﷺ کے ساتھ سحری کھائی؟ توانھوں نے جواب دیا ’’ دن کے وقت اگرچہ سورج ابھی طلوع نہ ہوا تھا۔‘‘
’’صبح صادق کی پہچان کے لیے حضرت حذیفہؓ سے مروی یہ بیان کافی ہے کہ حضرت بلال ؓ نبی ﷺ کے پاس آیا کرتے تھے جب کہ نبی ﷺ سحری کھا رہے ہوتے تھے اور میں اس وقت اپنے تیروںکے گرنے کے نشانات دیکھ سکتا تھا۔‘‘
٭اگر کوئی شخص سحری کی نیت کرکے سوئے اورآنکھ نہ کھلے تو سحری کاثواب بھی ملے گا اور اس کا روزہ بھی صحیح ہوجائے گا۔
٭اگر کوئی شخص عشا ء کے فوراً بعد سحری کی نیت سے کھالے اور پھر سحری میں نہ اٹھے، اسے سحری کا ثواب نہ ملے گا، البتہ روزہ ہوجائے گا۔
٭اگر کوئی شخص سحری کھا رہاہو اوراذان ہوجائے یا وقت کے ختم ہونے کااعلان ہوجائے جیسا کہ آج کل سائرن یا گولہ داغا جاتاہے تو اسے چاہیے کہ اپنے سامنے کا کھاناکھالے، جلد بازی نہ کرے۔ بعض لوگ منہ کالقمہ بھی تھوک دیتے ہیں، یہ مناسب نہیں ہے۔عام طور پر اعلان کرنے والا ایک دو منٹ پہلے ہی بطور احتیاط اعلان کرتا ہے۔البتہ اذان شروع ہونے پر کھانا چھوڑ دے۔(بعض علاقوں میں اعلان اوراذان الگ الگ ہوتے ہیں)
٭اگر کسی شخص کی آنکھ اس وقت کھلی جب سحری ختم ہونے کا اعلان ہورہاتھا تو اسے چاہیے کہ فوراً پانی یا دودھ پی لے تاکہ سحری کا ثواب حاصل ہوجائے۔
٭آنکھ کھلی تودیکھا کہ ابھی صبح نہیں ہوئی ہے اور سحری کھالی، مگر بعد میں معلو م ہوا کہ ابر تھا اور صبح ہوگئی تھی تو روزہ نہ ہوگا، قضا ضروری ہوگی۔
سحری ضرور کیجیے ،اس میں ثواب بھی ہے ،روزہ رکھنے کے لیے طاقت بھی ملتی ہے ۔اپنے ہمسایوں اور دوستوںکو سحری کے لیے جگا دیاکیجیے۔آج کل موبائل کا زمانہ ہے ،دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت ہی نہیں ہے نہ آنے جانے کی ضرورت ہے بس ایک فون لگائیے اور سحری کے لیے بیدار کردیجیے اس میں بھی آپ کے لیے اجر ہے۔
افطار:
سورج ڈوبنے کے بعد روزہ کھولنے کو افطار کہتے ہیں۔افطار میں جلدی کرنا سنت ہے۔ جب سورج ڈوبنے کایقین ہوجائے توفوراً افطار کرلینا چاہیے، خواہ مخواہ دیر کرنا مناسب نہیں۔ بعض لوگ افطار میں جلدی کرنے کو تقویٰ کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ حالاں کہ تقویٰ اس بات کانام نہیں کہ خواہ مخواہ اپنے جسم کو تکلیف و مشقت میں ڈالا جائے بلکہ تقویٰ خدااور رسول کی اطاعت و فرماں برداری کا نام ہے اور رسول خدا ﷺ نے سورج غروب ہوتے ہی افطار کا حکم دیا ہے۔ اس لیے اصل تقویٰ یہ ہے کہ سورج ڈوبتے ہی افطار کرلیاجائے۔
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ دین اس وقت تک غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔ کیوں کہ یہود و نصاریٰ افطار میں تاخیر کرتے ہیں۔‘‘ (ابن ماجہ)
افطار میں تاخیر کرنا یہودو نصاریٰ کی روش ہے، مسلمانوں کا شعار افطار میں جلدی کرناہے۔ پیارے نبی ﷺ نے یہ بھی فرمایا:
’’ لوگ اچھی حالت میں رہیں گے جب تک افطار میں جلدی کرتے رہیں گے۔ ‘‘ (بخاری و مسلم)
غرض کہ افطار میں جلدی کرنا چاہیے مگر جلدی کا یہ مفہوم نہیں کہ اچھی طرح سورج غروب بھی نہ ہو اور آدمی روزہ افطار کرلے۔اگر سورج کا کنارہ ابھی باقی تھا اور افطارکرلیا تو روزہ درست نہ ہوگا۔
ابر کی وجہ سے کسی نے سمجھا کہ سورج غروب ہوگیا اور افطار کرلیا، بعد میں معلوم ہوا کہ ابھی سورج کے غروب ہونے میں وقت تھا تو روزہ جاتا رہا، تو ایسے میں روزے کی قضا لازم ہوگی۔
افطار کس چیز سے کرنا چاہیے؟
ہر جائز اورحلال چیزسے افطار کرسکتے ہیں،البتہ چھوہارے اور کھجور سے افطار کرنا مستحب ہے اور اگر یہ چیزیں میسر نہ ہوں تو پانی سے افطار کرنا مستحب ہے۔ لیکن اس معاملے میں یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ ان چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز سے افطار کرنے میں روزے کا ثواب کم ملے گا، روزے کا ثواب اپنی جگہ ہے البتہ ان چیزوں سے افطار کرنے میں مزید ثواب کی امید رکھنا چاہیے۔حضرت انس ؓ کا بیان ہے :
’’ نبی کریم ﷺ نمازِ مغرب پڑھنے سے پہلے چند کھجوروں سے افطار کرتے اور اگر کھجوریں نہ ہوتیں تو چھوہاروں سے افطار کرتے اور اگر چھوہارے بھی نہ ہوتے تو پانی کے چند گھونٹ نوش فرماتے۔‘‘ (ترمذی)
افطار کرانے کی فضیلت:
رمضان المبارک کے مخصوص اعمال میں سے ایک عمل روزہ دار کو افطار کرانا بھی ہے۔ نبی کریم ﷺ افطارکرانے کی فضیلت کو بیان کرتے ہوئے اس پر ملنے والے تین طرح کے اجر و ثواب کا تذکرہ کرتے ہیں :
۱-’’ کَانَ لَہٗ مَغْفِرَۃٌ لِذُنُوْبِہٖ‘‘ جس نے ماہِ رمضان میں کسی روزہ دار کو افطارا کرایا تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو معاف فرمادے گا۔
۲-’’ وَعِتْقُ رَقْبَتِہٖ مِنَ النَّارِ‘‘ (افطار کرانے والے کو) جہنم سے آزادی ملے گی۔
۳-’’ وَکَانَ لَہٗ مِثْلُ اَجْرِہٖ‘‘ (افطار کرانے والے کو) روزہ دار کے برابر ثواب ملے گا ۔ گویا افطار کرانے والے کو اپنے روزہ کا بھی ثواب ملے گا اور جس کو افطار کرایا ہے اس کے روزہ کا بھی اجر و ثواب ملے گا، ہاں روزہ دار کے اجر و ثواب میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ افطار کرانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ روزہ دار کو پیٹ بھرکھانا کھلایا جائے کیوں کہ یہ ہر کس و ناکس کے بس کی بات نہیں۔ افطار کرانے کے فضائل سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی کریم ﷺ سے یہ سوال کیا کہ ہم میں بہت سے لوگ غربت اور ناداری کی وجہ سے روزہ دار کو افطار نہیں کرا پائیں گے، کیوں کہ ہمیں اتنا کہاں میسر کہ ہم اس کے پیٹ کو بھر سکیں؟ آپﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ افطار کرانے کے لیے پیٹ بھر کر کھلانا ضروری نہیں ہے، بلکہ روزہ دار کا روزہ اگر ایک کھجور یا پانی یا ایک گھونٹ دودھ سے کھلوادیا جائے تو یہ بھی افطار کرانا ہی کہلائے گا اور اس پر بھی وہ تینوں اجر ملیں گے جو اوپر ذکر کیے گئے ہیں۔
روزہ دار کو پیٹ بھر کھانا کھلانے کا اجر و ثواب
اگر کسی کو اللہ نے وسعت دی ہے اور وہ روزہ دار کو پیٹ بھر کر کھلاتا ہے تو اس کو اوپر ذکر کیے گئے تینوں اجر و ثواب کے علاوہ مزید یہ نعمت میسر آئے گی کہ اللہ رب العزت ایسے شخص کو میدانِ محشر میں حوضِ کوثر سے جامِ کوثر عطا فرمائیں گے، جس کو پینے کے بعد جنت میں داخل ہونے تک (جس کی مدت ہزاروں سال پر محیط ہوگی) پھر اس کو پیاس نہ لگے گی۔
نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ اگر کوئی شخص رمضان میں کسی شخص کاروزہ کھلوائے تو وہ اس کی مغفرت اور دوزخ سے چھٹکارے کاسبب ہے اور اس کے لیے اتنا ہی اجر ہے جتنا روزے دار کے لیے ہے اور روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی بھی واقع نہیں ہوگی۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا: ’’ اے رسول خدا ﷺ ہم میں سے ہر شخص روزہ افطار کرانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔‘‘ آپؐ نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ تعالیٰ یہ اجر اس کو بھی دے گا جو دودھ کی لسی یا ایک کھجور یا ایک گھونٹ پانی سے افطار کرادے اور جو شخص روزہ دار کو پیٹ بھر کھانا کھلائے تو اللہ اس کو میرے حوض سے ایسا جام پلائے گا کہ جنت میں داخل ہونے تک اس کو پیاس نہیں لگے گی۔‘‘ (بیہقی)
آج کل افطار کرانا عبادت کے بجائے سیاست ہوگیا ہے۔ لوگ اپنے دنیوی فوائد حاصل کرنے کے لیے اجتماعی افطار کا اہتمام کرنے لگے ہیں ۔سیاسی جماعتیں ووٹ حاصل کرنے کے لیے ،دینی و ملی جماعتیں چندہ وصولی کے لیے افطار کراتے ہیں،کچھ لوگ شہرت طلبی کے لیے ایسا کرتے ہیں۔ ایسے افطار میں شرکت سے گریز کرنا چاہئے۔ بعض لوگ افطار میں اسراف سے کام لیتے ہیں۔ کئی قسم کے کھانے بنواتے ہیں۔ یہ مناسب نہیں ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ کو خوش کرنے کے لیے روزے داروں کو افطار کرائیں اور اس میں بھی سادگی کا خیال رکھیں، محض نام و نمود کے لیے اسراف نہ کریں ۔

