بنگلور، 10 مارچ (پریس ریلیز) : آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن اور جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مولانا مفتی افتخار احمد قاسمی (سرپرست مرکز تحفظ اسلام ہند) نے اپنا ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے فرمایا کہ اِس وقت ملک کے جو حالات بنتے جا رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں، دن بہ دن ملک کے حالات بہت تیزی کے ساتھ خراب ہوتے جا رہے ہیں، مرکزی حکومت مکمل منصوبہ بندی اور پلاننگ کے ساتھ یہاں کی اقلیت بالخصوص مسلمانوں کے لئے مسائل کھڑا کررہی ہے، مرکزی حکومت اپنے کئے گئے وعدوں پر مکمل طور پر ناکام ہے اوراسی لئے نت نئے مسائل کھڑا کررہی ہے اور ملک میں ڈیوائڈ اینڈ رول کی پالیسی بنانا چاہتی ہے اور یہ ایسی پالیسی ہے جس سے اقتدار بچانے کا کام کر رہے ہیں، اسی طرح آپس میں نفرت پھیلا کر، جھوٹ پہ جھوٹ بول کر، لوگوں کو تذبذب اور انتشار کے ماحول میں الجھا کر، غیر ضروری فرضی مسائل کھڑا کرکے اقتدار پر مضبوطی کے ساتھ بنے رہنے کے لئے کوششیں کر رہی ہے- مفتی صاحب نے فرمایا کہ اِس وقت مرکزی حکومت جو مسئلہ اٹھا رہی ہے وہ مسلمانوں کا وقف ترمیمی بل ہے اور لوگوں کو یہ باور کرا رہی ہے کہ وقف کے نام سے مسلمانوں کے پاس جو جائدادیں ہیں یہ سرکار کی ہیں جو کہ سابقہ دعؤوں کی طرح حقیقت سے خالی اور جھوٹ پر مبنی ہے، جبکہ سچ تو یہ ہیکہ اوقاف کہ زمینیں مسلم آباء و اجداد نے مسلمانوں کی ترقی کے لئے وقف کی ہیں، مذہب اسلام میں جو وقف کا کانسپٹ ہے جو کہ ایک عبادت ہے اس کو انجام دینے کے لئے مسلمانوں نے بڑی تعداد میں اپنی جائیدادیں وقف کی ہیں، اب جو جائیداد وقف کرتے ہیں ان کا کوئی متولی ہوتا ہے، ان کی تولیت کسی کو دی جاتی ہے، کہیں کوئی کمیٹی متولی ہے تو کہیں کوئی ٹرسٹ ہے اور کہیں ڈائریکٹ وقف بورڈ ہی متولی ہے، لہٰذا یہ کوئی سرکاری جائداد نہیں ہے بلکہ یہ مسلمانوں کے آباء و اجداد کی وقف کردہ زمینیں ہیں اور اسی طرح یہ بات بھی عام کی جا رہی ہے کہ سب سے زیادہ زمینیں مسلمانوں کے پاس ہیں، جو کہ سراسر غلط ہے اس سے کہیں زیادہ جائدادیں دوسری کمیونٹی کے پاس ہیں- مولانا نے فرمایا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے اس سے پہلے بھی وقف قانون میں ترمیم کی گئی ہے چونکہ وہ ترمیمات مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کیلئے ہوئی تھی، لہٰذا اس پر ہم نے کبھی اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی احتجاج کیا بلکہ اسے قبول کیا لیکن یہ جو حالیہ ترمیمی بل لایا جا رہا ہے اس میں مسلمانوں کے حقوق اور اختیارات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس میں وقف بورڈ میں غیروں کو ممبر بنانے کی بات ہے، وقف بائی یوزر کے حق کو ختم کرنے کی کوشش ہو رہی ہے، وقف ٹریبونل کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ایسی بہت ساری چیزیں ہیں جو وقف بورڈ، مسلمانوں اور متولیوں کو جو حقوق ملے ہوئے ہیں ان کو ختم کرنے کی پوری طرح سازشیں اور کوششیں ہو رہی ہیں، اس بل کو پاس کرنا انہوں نے طے بھی کر لیا ہے جبکہ بل کی مخالفت میں پورے ملک سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تحت پانچ کروڑ سے زیادہ میل جا چکے ہیں، جے پی سی کے سامنے پورے ملک سے مختلف وفود کی شکل میں حاضر ہوکر بل کی خامیوں کو کھول کھول کر بیان کیا گیا، اس کے باوجود ان جذبات و احساسات اور احتتاج کو قبول نہ کرنا یہ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اپنی ضد اور اَنا پر اَڑی ہوئی ہے، حکومت کو ملک میں امن، چین، سکون، آپسی اتحاد و اتفاق اور بھائی چارے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، یہ بل کابینہ میں پاس ہوگئی ہے اور اب حکومت اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے، ایسے موقع پر نہ صرف مسلمان بلکہ اس ملک میں بسنے والے تمام برادرانِ وطن کو بھی سامنے آنا ہوگا کیونکہ مسئلہ فقط مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ برادرانِ وطن سکھوں اور عیسائیوں کا بھی ہے اُن کے پاس بھی کافی جائیدادیں ہیں، اگر یہ سب مل کر ایک دوسرے کے مسئلے میں کھڑے ہو کر متحدہ آواز نہیں لگائیں گے تو کام نہیں بنے گا، لہٰذا سب کو مل کر متحدہ آواز لگانے کی ضرورت ہے۔
مفتی افتخار احمد قاسمی نے جنتر منتر دہلی میں ہونے والے احتجاج کے بارے میں فرمایا کہ دستور میں دئیے گئے حقوق کے مطابق اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے اور بل کی مخالفت میں اپنا احتجاج درج کرانے کیلئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے 13 مارچ بروز جمعرات بوقت صبح 10:00 بجے جنتر منتر دہلی میں ایک احتجاجی پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے، اس احتجاج کیلئے ملک کے تمام مسالک و مکاتبِ فکر اور تمام تنظیموں، اسی طرح ملک کے بڑے اکابرین کی طرف سے تائید حاصل ہے، لہٰذا جو حضرات دہلی کے اطراف و اکناف سے تعلق رکھتے ہیں اِس دھرنے کا ضرور بالضرور حصہ بنیں اور اِس بل کے خلاف اپنا پُرزور احتجاج درج کرائیں، دستور کا خیال رکھتے ہوئے آئینی حقوق اور قانونی دائرے میں رہ کر اِس احتجاج کو ہر طرح کامیاب کرنے کی کوشش کریں اور جو حضرات دور دراز رہتے ہیں اور شریک نہیں ہو سکتے وہ اِس دھرنے اور احتجاج کی کامیابی کے لئے اپنی اپنی جگہوں پر رہ کر دعاؤں کا اہتمام کریں کہ، اللہ تعالی ہمارے اکابرین کے اس اقدام کو اور ہونے والے احتجاج کو بے انتہا قبول فرمائے، ہر طرح کے شرور و فتن اور آزمائشوں سے حفاظت فرمائے اور بخیر و عافیت اختتام تک پہنچائے اور ملک و ملت میں بہترین اثرات مرتب فرمائے اور ہم سب کو اپنے مسائل کے تئیں بیدار رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔
