بانگرمئو: محمد جنیدقاسمی۔۱۲؍مارچ: مسجد اقصیٰ اتردھنی میں جمعیۃ علماء ضلع اناؤ کے زیر نگرانی ایک روزہ مذاکرۂ علمی منعقد ہوا، جس میں رمضان المبارک میں صدقۃ الفطر کی قیمت متعین کی گئی، اس موقع پر علماء کرام اور تجارتی اشیاء کی قیمت سے واقفیت رکھنے والے اشخاص بھی موجود تھے۔ تفصیلات کے مطابق بروز منگل بعد نماز ظہر مسجداقصیٰ اتردھنی میں ایک روزہ مذاکرۂ علمی منعقد ہوا، جس میں علماء کرام اور دیگر حضرات کی موجودگی میں بہت غوروخوض کے بعد صدقۃ الفطر کی احتیاطی قیمت متعین کی گئی، مولانا مختارعالم مظاہری صدر جمعیۃ علماء ضلع اناؤ نے صدقۃ الفطرکی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا مالدار جب اپنے پھول سے بچوں کو اجلے اجلے کپڑوں میں خوشی خوشی اچھلتا کودتا دیکھتا ہے تو غریب کے مرجھاتے ہوئے چہرے اس سے دیکھے نہیں جاتے، اس وجہ سے اس دن صدقہ فطر ادا کیا جاتا ہے، تاکہ غریبوں کو بھی اس خوشی میںشامل کیا جائے، انہوں نے کہا ابو داؤد شریف کی حدیث سے دو اور مقاصد واضح ہو تے ہیں: (۱) روزہ کی کوتاہیوں کی تلافی۔ (۲) امت کے مسکینوں کے لیے عید کے دن رزق کا انتظام تا کہ وہ بھی اس روز لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں، اسی لیے پیغمبر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ اس دن مسکینوں پر اتنا خرچ کرو کہ وہ سوال سے بے نیاز ہو جائیں۔
بعدازاں مولانا سفیان جامعی جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء ضلع اناؤ نے کہا صدقۂ فطر ہر اس مسلمان پر عید الفطر کے دن واجب ہوجاتا ہے جس پر زکوٰۃ واجب ہے، یا زکوٰۃ تو واجب نہیں ہوتی، لیکن رہائشی مکان اور ضروری اسباب و آلات و اوزار کے علاوہ اتنی قیمت کا زائد مال و اسباب ہے، جتنی قیمت پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے، چاہے اس مال پر سال گذر چکا ہو یا نہ گذرا ہو، اور تجارت کا مال ہو یا تجارت کا نہ ہو،اسی طرح جو نابالغ بچے خود کسی نصاب کے مالک نہ ہوں ان کی طرف سے ان کے والد پر صدقہ فطر نکالنا واجب ہے۔اور دیگر مسائل بیان کیے گئے۔
اس موقع پر مذاکرہ ٔ علمی کی مکمل کارروائی مفتی محمد جنیدقاسمی کنوینر اصلاح معاشرہ جمعیۃ علماء ضلع اناؤ نے انجام دی۔ ضلع اناؤ کی مختلف منڈیوں کا نرخ معلوم کیا گیا، اس کے بعد احتیاطی پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے پونے دوکلو گیہوں کی قیمت ۶۰روپئے، کشمش ساڑھے تین کلوکی قیمت ۸۵۰روپئے، کھجور ساڑھے تین کلو کی قیمت ۱۰۵۰روپئے، پنیر ساڑھے تین کلو کی قیمت ۸۷۵ روپئے، پونے دوکلو آٹے کی قیمت ۷۰ روپئے، جو ساڑھے تین کلو کی قیمت ۱۵۰روپئے متعین کی گئی، اسی کے مطابق سب اداکریں گے، انشاء اللہ۔ اتفاق رائے سے سبھی نے اس کو منظور کیا۔
اس موقع پر مولانا مختارعالم مظاہری، مولانا سفیان جامعی، حافظ شکیل جامعی ہریابر، شفاعت علی ناظم مدرسہ جامعۃ الفلاح، مولانا نظر محمد قاسمی استاذ مدرسہ محمودالعلوم سندیلہ، سلطان خان، محمد زید، تقی ، حافظ محمد ندیم، رئیس خان، محمد حسیب، محمد ارسلان، محمد حسیب ان کے علاوہ اور دیگر لوگ موجودرہے۔ مولانا سلیم مظاہری کی دعاء پر مجلس کا اختتام ہوا۔
