سہارنپور(احمد رضا): بریلی کے محلّہ قطب خانہ واقع جانی مسجد پر بھگوا گروہ کے لوگ مسلم دکانوں اور گھروں پر پولیس کی موجودگی میں پتھراؤ کرتے رہے مسجد پر پولیس نے جو کپڑا چڑھایا تھا اسکو تار تار کرنے کے بعد بھگوا شر پسند عناصر نے مسجد پر رنگ پھینکا اور گھنٹہ بھر تک گالی گلوچ کرتے ہوئے دل کھول کر مسلم آبادی پر پتھراؤ کیا ، دہلی کے علاقہ سبھاش نگر میں یہاں کے کونسلر نے مسلم علاقہ میں لگائی گئی سجاوٹی روشنی اور  لڑیوں کو  ٹود ڈالا اور دھمکیاں دی کہ یہاں رہنا ہے تو سر جھکا کر رہو اس واردات سے علاقہ کے مسلماں گھر چھوڑ کر بھاگ نے کو مجبور ہیں وہیں انّاؤ میں ایک 55 سالہ  شریف آٹو سے جارہے تھے تبھی بھگوا گروہ کے شر پسند عناصر نے شریف کو پکڑ کر ما را پیٹا اور ان پر رنگِ لگایا بہ مشکل شریف دنگائیوں سے بچ کر بھاگا مگر چوٹ زیادہ لگ جانے سے اسکی موت واقع ہوگئی مگر پولیس واردات کو ہارٹ اٹیک بتاکر ہولی کھیلنے والے دہشت پسند ملزمین کو بچا نے میں مصروف ہیں علاقہ کے سیکڑوں افراد نے شریف کی موت پر پولیس کے خلاف زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے انصاف کے لئے آواز بلند کی  کل ملاکر ہولی کی آڑ میں پولیس کو ساتھ ملا کر ہولی کھیلنے والے دہشت پسند افراد نے جگہ جگہ مسلم آبادی پر اور مساجد پر دل کھول کر حملہ کیئے اور جے شری رام کے نعرے لگاتے ہوئے مسلم آبادی کو ڈرایا دھمکایا !
واضع رہے کہ ان دنوں ملک کی تہذیب اور ثقافت کی ایک ہزار سال قدیم آپسی بھائی چارہ کی روایت کو کچلتے ہوئے خاص گروہ کے ذریعہ ملک بھر میں ہندو تیوہاروں کے دوران مساجد کو کپڑوں سے ڈھانپنے والا عمل ملک میں بد قسمتی بد بختی اور نحوست کی سب سے بڑی علامت ہے جو لوگ مساجد کو ڈھانپ کر دین اسلام سے نفرت اور حسد کا اظہار کرتے ہیں وہ کان کھول کر سن لیں کہ یہ ملک اور اس ملک کا وقار دین اسلام کی بدولت ہی آج دنیا بھر میں قائم و دائم ہے تیس کروڑ مسلم آبادی کو حقارت کی نظر سے دیکھ کر آپ کبھی عزت اور احترام حاصل نہی کر سکتے جنگِ آزادی کی تحریک میں جس قدر جانی اور مالی قر با نیاں مسلم آبادی نے ہنستے ہنستے پیشِ کی ان عظیم الشان اجتماعی  قر بانیوں کو پورا ملک بھی کبھی بدل نہی دے سکتا جو لوگ انگریزوں سے پنشن اور  مالی امداد حاصل کر رہے تھے آج وہ بد بخت کہتے ہیں کہ یہ ملک انکا ہے اس طرح کے چھل کپٹ والے افراد کو پہلے اپنا گریباں جھانک کر دیکھنا چاہئے۔ دوسروں کو طاقت اور پولیس کے زور پر ڈرا دھمکا کر راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کرنا اور ظلم و جبر کے خلاف زبان کھولنے والوں پر فرضی مقدمات دائر کرنا اور جیلیو ں میں بھر دینے والی ایک طرفہ کاروائی کبھی بہادری کی علامت نہی ہو سکتی۔ فورس کو آگے بڑھا کر خاص فرقہ کو دبانا اور کچلنا صد فیصد بدبختی اور نحوست کی پختہ علامت کے سوائے کچھ بھی نہیں! مسجدیں ڈھانپ کر مسلم افراد کو جمعہ کی نماز سے قبل ہی ہزار کی تعداد میں گرفتار کر جیل بھیج دینا روزہ داروں کو نمازِ جمعہ سے اور تراویح سے محروم رکھنا، ملک کو تباہی کی جانب لے جانے والا گھناؤنا عمل ہے۔ دس سال گزر گئے لگاتار مساجد کے باہر گھنٹے بھر تک تیز آواز سے ناچ گانا اور گندے گندے نعرے لگانا کسی قانون اور نظم و نسق میں جائز ہے۔
حیرت کی بات تو یہ ہے کہ شر پسند عناصر کے اس ننگے ناچ میں پولیس تماشائی بنی رہتی ہیں یعنی کہ شدت پسند افراد کو دین اسلام کے خلاف زہر افشانی کی کھلی چھوٹ دی جاتی ہے! ملک کو بھاجپا کے نظریہ والے افراد نے تماشا بنا کر رکھ دیا ہے گزشتہ دس سالوں سے جب بھی کسی شہر میں شوبھا یاترا ئیں یا کا نوڑ یاترا ئیں نکلتی ہیں تو یاترا کے راستہ میں پڑنے والی مسجدوں کو کپڑوں سے ڈھک دیا جانے لگا ہے اور اب تو ہولی کے مو قع پر انتظامیہ جبریہ طریقہ سے شہر در شہر مسجدوں کو لال اور پیلے رنگ کے کپڑوں میں ڈھکنے لگی ہے۔ مسجدوں کو کپڑوں سے ڈھانپنے کا مطلب ہماری سمجھ سے باہر ہے پورا ملک مسجدوں کو کپڑوں سے ڈھانپنے ہوئے کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کسی کی ہمت نہیں کہ وہ سرکاری مشینری سے مسجدوں کو کپڑوں سے ڈھانپنے کی وجہ دریافت کر سکے دوسری جانب مسلم آبادی کو زرد کوب کرنے اور ان پر قاتلانہ حملہ کرنیکا سلسلہ بھی ملک بھر میں جاری ہے پولیس لٹنے اور پٹنے والے مسلم افراد کے خلاف ہی جھوٹے الزامات لگا کر انہی کو جیل بھیج دیتی ہے کل بریلی میں ہندو افراد نے دو مسلم افراد کو پیٹ پیٹ کر مار ڈالا پولیس مسلم آبادی کی تباہی اور ہلاکت پر خا موش تماشائی نظر آتی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے