محمد یوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔کج فہمی
دوڈھائی دہائیوں بعد پتہ چلاکہ وہ اُن کے امیرنہیں تھے بلکہ وہ تو جماعت کے امیرتھے اور جماعت ہی کے دئے گئے کام مامورین کے توسط سے انجام دیتے تھے۔
یہ بات جب سمجھ میں آئی تو ان پانسات ذہین جماعتی افراد کو محسوس ہواکہ وہ جیسے عوام کے درمیان برہنہ ہوکر رہ گئے ہوں ۔اس انکشاف کے بعد انھوں نے اس قدر بے بسی اپنے چاروں اور محسوس کی کہ انھیں لگااب ان کی عزت بچانے والا رب العالمین کے سوا اور کوئی نہیں ہے۔
واقعی ذہین اور جماعتی ہونے کی قابل فخر بھینس پانی میں جاچکی تھی۔ انھوں نے یہ بھی محسوس کیاکہ ان تمام کو پانی چڑارہاہے۔
۲۔ دل نہ لگانا
صاف صاف کہہ دیاگیاکہ ’’دل نہ لگادل‘‘اس نے پوچھا’’کیوں نہ لگاؤں دِل، کوئی حرج ہے کیا؟‘‘
جواب ملا’’دل لگائے گاتو برباد ہوجائے گا،یہ دنیا دل لگانے والوں کے دِل اپنے جوتے تلے مسل دیتی ہے ‘‘
کچھ دیر توقف کے بعد اس نے پوچھا’’اگر میں پید اکرنے والے رب سے دل لگالوں تو؟‘‘
خاموشی رہی ۔ بعدازاں دریافت کیاگیا’’مشورہ کررہے ہویا واقعی دل لگاناچاہتے ہوپیدا کرنے والے رب سے ؟‘‘
وہ بولا’’اپنے رب سے واقعی دِل لگانا چاہتاہوں ‘‘کوئی جواب نہ ملا۔ اس نے آگے بڑھ کرموصوف کو چھونے کی کوشش کی اور چیخ مارکر پیچھے ہٹ گیا۔ مجیب کاجسم جل رہاتھا، پھرجواب آیا’’تیرادِل اس کاہوچکا،عنقریب تو بھی اس کا ہوجائے گا ، انتظار کر‘‘
۳۔ پر خطر
میں نے اس سے کہابھی تھاکہ کیمیکل میری دنیا ہے ۔ تو اپنی دنیا کی جادوبھری ٹیکنالوجی سے کھیل ، دنیا کوالو بنایاکر ، کیوں کہ کیمیکل موت کادوسر انام ہے۔ اس سے کھیلنا دراصل موت سے کھیلنا ہے۔
وہ نہیں مانا ۔ ٹیکنالوجی کے ذریعہ دنیا کو غلام بنانے کاخواہشمند کیمیکل کے لوچے کو خود پر اس قدر سوار کرچکاکہ ایک دن ساراچہرابدنما ہوکر رہ گیا۔ مسٹر Zمسٹر چڑیل بن چکاتھا۔
دنیا افسوس کررہی تھی لیکن میں سوچ رہاتھاکہ ہر جگہ اپناسکہ چلانا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔وہ چاہے مسٹر Z جیسی عالمی شہرت یافتہ شخصیت ہی کیوں نہ ہو۔
۴۔ پرنسپل کی عیاشی
وہ پرنسپل تھا۔ اور اپنے باغبان کی ہرکلی سے کھل کھیلنے کے لئے اتاولہ ہورہاتھا۔ دوتین طالبات کے بوسے لے کر اس نے خود کوہیرو سمجھ لیا۔ پھر تو وہ جیسے ہر سیکشن کی طالبہ کو پرنسپل کے چیمبر میں بلانے لگا۔ اور کسی نہ کسی طرح بوسہ لے کر اس کی تصاویر محفوظ بھی کرنے لگا۔
پھر یوں ہواکہ وہ تمام تصویریں خودبخود گوگل سے وائر ل ہوگئیں۔ اولیائے طالبات اور پولیس کو پتہ چلاتوچند ہی گھنٹوں میں پرنسپل گرفتار کرلیاگیا۔ کالج بند کیاجاچکاہے۔علم کے لالچ میں بوسہ دے چکی لڑکیاں منہ چھپائے پھررہی ہیں۔
