محمدیوسف رحیم بیدری، بیدر،کرناٹک
۱۔ بڑا دِل
دل بڑانہیںکیاگیااورپھر یہ لوگ بھی ایک فرقہ بن کررہ گئے۔ فرقہ بننے سے بچنے کے لئے اور لوگوں کواسلام سے وابستہ کرنے کیلئے کعبہ کی اصل بنیادوں پر تعمیر کوبھی ترک کرنا پڑتاہے۔
۲۔دوسرانکتہ
ایک کوتحریر کرنے تک دوسرا نکتہ (اور خیال) ذہن سے معدوم ہوجاتاہے۔ نکتہ کو معدومیت سے روکنامیرے بس میںنہیںہے۔اگر بس میں ہوتا تو اب تک 2؍ہزار کتابیں لکھ چکاہوتا۔
۳۔ بڑا خطرہ
چھاوا جب پاگل ہوجاتاہے تو کتوں کی مانند انسانوں کوکاٹنے اور بھنبھوڑنے لگتاہے۔ لہٰذا چھاواکاجنگل میں رہناضروری ہے۔ مہذب سماج کے لئے چھاوابہت بڑا خطرہ ہے۔
۴۔ اپنی نظر
اس نے پوچھا’’آج کل لکھ نہیں رہے ہو‘‘ اس نے جواب میں کہا’’ہاں ، مجھے میری نظر لگ چکی ہے ، اس لئے لکھ نہیں رہاہوں۔
۵۔ ختم ایشو
وہ سیڑھیاں چڑھتے ہوئے بولے ’’اورنگ زیب کاایشوختم ہوچکاہے ‘‘ میں نے پوچھا’’پھر؟‘‘ وہ بولے ’’پھر کیا؟کنال کامراکے سبب ایکناتھ شندھے چلتے رہیں گے دوچار دِن تک ۔ پھر اس کے بعد کوئی اور ایشوچل پڑے گا۔۔۔۔ جینے کے لئے کھاناپانی ، پیسہ دوااور امن وامان نہیں ایشوچاہیے، نئے بھارت کی یہی پہچان ہے ‘‘
۶۔لوکھا ہیرو
وہ ہیرو تھا۔ ایسی فلموں کاجو مستند تواریخ کو مسخ کرکے دھڑلے سے بنائی جاتی تھیں۔ پھر وہ دور گزرگیا۔ اس کو بھی لوگوں نے ذہن سے محوکردیا۔
۷۔ افلاطونی حقیقت
سیٹی نہ بجاؤ، ہم تماشائی نہیں ہیں اور نہ یہ تماشہ ہے ۔بلکہ یہ زندگی کی وہ حقیقت ہے جس کوآج افلاطون زندہ ہوتاتو سلیوٹ کرتا۔
۸۔ بے بس ماں کی طرح
’’سناہے ،تمہارے دیش میں ملزم کاجرم ثابت ہونے سے پہلے ہی حکومت کابلڈوزر چل جاتاہے‘‘ رشید القحطانی نے پوچھا تو عبداللہ ہندی کو کہناپڑا’’یااخی ، ایسا ہی ہورہاہے ‘‘رشید القحطانی نے پھر پوچھا’’وہاں کی عدالت کیاکررہی ہے ؟‘‘ عبداللہ ہندی کو سمجھ میں نہیں آیاکہ کیا جواب دے ، لیکن جواب تو دینا ہی تھا، بولاکہ’’عدالت ایک بے بس ماں کی طرح ہے اور بس ۔ حکومت جرم ثابت ہونے سے پہلے بلڈوزر چلادیتی ہے اور عدالت اُدھر چیختی رہ جاتی ہے کہ ایسا نہ کرو‘‘
۹۔ مشترکہ سوال
آپ طلبہ کا مشترک سوال یہ ہے کہ اچھا لکھناکسے کہتے ہیں ؟جواب یہ ہے کہ اچھالکھنا اسے کہتے ہیں جب لکھ کر یہ اطمینان ہوجائے کہ میں نے سچ لکھاہے ۔ پھر انھوں نے مسکراکرتمام طلبہ کی طرف دیکھا
۱۰۔دھندا
اچھے لوگوں کی سمادھیوں کے آس پاس کوئی نہ کوئی لین دین ہوتاہے ، آپ بغور دیکھیں ۔ صاف پانی پر بھی مچھر وں کامنڈلانا ایک حقیقت ہے۔ لیکن تم لوگ سمجھتے ہوکہ مچھر صرف گندے پانی پر ہوتے ہیں۔ یقین میں نہیں دلاؤں گا تم خود جاکر سمادھیوں کے آس پاس ہونے والے دھندے کو دیکھ سکتے ہو۔ وہاں گھاس پھوس کی بدولت مچھروں کی بہتات بھی ہے ، کیوں ہے نہیںمعلوم
۱۱۔ دیکھاجائے گا
وہ ایک اچھی عورت نہیں تھی۔ جب اس کو پتہ چلاکہ لوگ اس کو اچھی عورت نہیں سمجھتے تو اس نے بھی حیاکی چادر ہٹاکر کہا ’’محکمہ پولیس میں اچھی عورت بدقسمتی کے سبب آتی ہے ۔اور اس کااقرار کرنے میں مجھے کوئی باک نہیں‘‘ میں نے کہا’’تمہارے خلاف ڈپارٹمنٹ انکوائری کرسکتاہے‘‘ وہ بے نیازی سے بولی ’’ایسا کوئی پید انہیں ہوا۔ جب ہوگا دیکھاجائے گا‘‘۔
