صادق طاہر قاسمی ندوی
خلیل آباد سنت کبیر نگر یوپی
دل میں حسرت ہے کہ اک بار مدینہ دیکھوں
اور سرکار دوعالم کا وہ روضہ دیکھوں
کاش لوٹ آۓ محمد کے زمانے کا کوئی دن
ان کی زلفیں وہ حسیں چاند سا چہرہ دیکھوں
رکھ دیا ہوں در سرکار پہ سر چاہت سے
اب کہاں فکر کہ مڑ مڑ کے سفینہ دیکھوں
بو بکر اور عمر عثمان و علی کا جھرمٹ
منبع رشد و ہدایت کا خزینہ دیکھوں
کتنی پرکیف ہے اس شہرِ محبت کی فضا
جی میں آتا ہے کہ ہر بار مدینہ دیکھوں
عشقِ سرکار میں ڈوبے ہونے لوگوں کا ہجوم
اور رمضان مقدس کا مہینہ دیکھوں
ان کی جالی وہ حسیں روضہ و جھرمٹ ان کا
ان کی بکھری ہوئی یادوں کا خزینہ دیکھوں
کاش اصحاب محمد کا زمانۂ پاؤں
دل کسی کا نہیں ٹوٹے وہ قرینہ دیکھوں
مشک و عنبر گل و ریحان و کلی ہیں قرباں
کس طرح آپ کے چہرے کا پسینہ دیکھوں
رونقِ شام و سحر ، نور کا منظر صادق
پیارے آقا کا حسیں گنبد خضریٰ دیکھوں
